سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ماہرین کی آرا

سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کا ریفرنس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ 224 صفحات پر مشتمل فیصلہ ہے۔ اکثریتی فیصلے میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں اس ریفرنس کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ پہلی خامی یہ ہے کہ جج کے خلاف تحقیقات کی منظوری صدر یا وزیر اعظم کی طرف سے نہیں دی گئی تھی بلکہ وزیر قانون نے اس کی منظوری دی تھی۔ دوسری خامی یہ ہے کہ ریفرنس کو داخل کرنے سے پہلے مسز فائز عیسیٰ کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ تیسری خامی قانون کی غیر واضح تشریح پر یہ گمان کیا گیا کہ اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند تھے۔ چوتھی خامی یہ کہ منی لانڈرنگ کے الزام کے حق میں ثبوت نہیں دیئے گئے۔

پانچویں خامی یہ کہ درخواست گزار کے خلاف ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کئے گئے کہ فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی ثابت ہو۔ چھٹی خامی یہ ہے کہ صدر کو ریفرنس کے حوالے سے اچھائیوں اور خامیوں سے رائے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے ملی جو کہ خود اس کیس کے آرکیٹکچر تھے۔ ساتویں خامی یہ ہے کہ صدر نے قانونی سوالات پر کسی تیسرے فریق سے کوئی رائے نہیں لی۔ آٹھویں خامی یہ ہے کہ صدر قانونی اور پروسیجرل خامیوں کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے۔ نویں خامی یہ ہے کہ صدر نے آرٹیکل 209 شق 5 کے تحت سوچ سمجھ کر کوئی رائے نہیں بنائی۔

دسویں خامی یہ ہے کہ درخواست گزار اور اہلیہ کے ٹیکس ریکارڈ تک غیر قانونی طور پر رسائی حاصل کی گئی۔ تفصیلی فیصلے میں یہ کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے مشورے کی منظوری کے لئے یہ ضروری ہے کہ شکایت پر پہلے تحقیقات کی جائیں۔ موجودہ کیس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ایسی کوئی چیز نہیں کہ تحقیقات کی منظوری دی گئی ہو۔ ریکارڈ سے واضح ہے کہ شکایت کی واحد منظوری فروغ نسیم نے دی تھی جس کے پاس قانون کی کسی تشریح کے تحت کوئی اختیار نہیں ہے۔ وزیراعظم اور صدر مجاز اتھارٹی ہیں، ان سے وزیر قانون نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ صدر اور وزیراعظم اس عمل میں تب شامل ہوئے جب سارا مواد اکٹھا کیا گیاجو آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

یہ ریفرنس غیرقانونی ہے۔ جہاں تک معاملہ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کا ہے توحکومت نے ایسی کوئی چیز جمع نہیں کروائی جس سے یہ ثابت ہو کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے اس ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے البتہ حکومت نے قانون کی کسی شق کا حوالہ بھی نہیں دیا ہے۔ اس لئے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف یہ چارج میرٹ پر نہیں اترتا۔ یہ بات حیران کن ہے کہ وزیراعظم، صدر اور وزیر قانون تمام لوگ ناکام ہوئے ہیںکہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ایک ایسا کیس بنایا گیا جوکہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق صدارتی ریفرنس داخل کرنا ایک اہم معاملہ ہے۔ اس سے جج کے لئے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جس کے خلاف ریفرنس داخل کیا گیا ہو۔ ظاہری طور پر یہ عمل ایک جج کی مدت ملازمت میں مداخلت کرتا ہے۔ اس لئے جو الزامات ریفرنس میں داخل کئے جاتے ہیں وہ واضح ثبوت اور واضح قانونی تجزیے پر مبنی ہونے چاہئیں۔

ایک صدارتی ریفرنس صرف ایک مفروضے پر قائم نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن جسٹس فائز عیسیٰ پر فارن ایکسچینج ریگولیشن کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ صرف ایک مفروضے پر مبنی ہے جس کے پیچھے کوئی ثبوت نہیں اس لئے الزام برقرار نہیں رہتا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ پر دوسرا الزام منی لانڈرنگ کا بنایا گیا ہے جس میں پروسیڈ آف کرائم کا حوالہ دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ پراپرٹی Predicate-offence کے نتیجے میں حاصل کی گئی ہے اور Predicate-offence منی لانڈرنگ کا بنیادی عنصر ہے جس کا آسان مطلب ہے کہ کون سا جرم کر کے منی لانڈرنگ کی گئی ہے، دہشت گردی کر کے یا کرپشن کر کے۔ Predicate-offence کے بغیر منی لانڈرگ کا جرم نہیں ہو سکتا جب کہ ٹیکس قانون کے تحت جائیدادوں کو ظاہر نہ کرنا Predicate-offence نہیں ہے۔ حکومت نے Predicate-offence کا الزام تو لگایا ہے لیکن کیس میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ منی لانڈرنگ کی گئی ہے اور فیصلے میں یہ لکھا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ کا الزام ایک افسانہ ہے۔ اس لئے یہ الزام بھی میرٹ پر پورا نہیں اترتا ہے۔ صدارتی ریفرنس میں جو بڑی خامی ہے وہ صدر صاحب کی اپنی طرف سے رائے نہ بنانے کی ناکامی ہے۔ آئین واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی انکوائری کی ہدایت سے پہلے صدر صاحب کو یہ رائے بنانی چاہیے تھی کہ جج مس کنڈٹ کا مرتکب ہوا ہے یا نہیں۔ صدر کے لئے یہ ضروری تھا کہ ان لوگوں سے مشورہ لیتے جو ٹیکس اور مالی معاملات میں مہارت رکھتے ہیں۔ ہم نہیں کہہ سکتے ہیں کہ صدر کو کس سے قانونی مشورہ لینا چاہیے لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کس سے نہیں لینا چاہیے تھا۔

جو لوگ اس کیس کی تحقیقات اور ریفرنس تیار کرنے میں شامل تھے وہ صدر کو تو ضرور بریف کر سکتے ہیں مگر انہیں یہ مشورہ نہیں دے سکتے ہیں کہ آیا یہ ریفرنس قابل سماعت ہے اور یہ سپریم جوڈیشل کونسل کی انکوائری کے لئے موزوں ہے کیونکہ ریفرنس بنانے والوں کے لئے یہ واضح Conflict-of-interst ہے کہ وہ اپنی کمزوریاں دیکھیں مگر موجودہ ریفرنس میں یہی کچھ کیا گیا۔ یہ تسلیم شدہ ہے کہ اٹارنی جنرل اور وزیر قانون جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس فریم کرنے میں شامل تھے۔ منصفانہ ہونے کے لئے یہ ضروری تھا کہ صدر پاکستان ان قانونی ماہرین سے رائے لیتے جو اس کیس کے ریفرنس تیار کرنے میں شامل نہ تھے۔ ہمیں لگتا ہے کہ صدر صاحب پر ان لوگوں کا ناقابل تسلیم مشورہ اثر انداز ہوا ہے جو اس ریفرنس کو فریم کرنے میں شامل تھے۔ اس سے واضح ہے کہ صدر نے کوئی انفارمڈ رائے نہیں بنائی تھی بلکہ انہوں نے وزیراعظم کے مشورے کی پیروی کی اور صداقت کا جائزہ نہیں لیا تھا۔ ان تمام خامیوں کی وجہ سے ریفرنس کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ریفرنس صدر پاکستان نے دائر کیا تھا۔ جب صدر پاکستان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے اس ریفرنس کی صداقت کا جائزہ لیا تھا تو صدر پاکستان نے فرمایا کہ یہ وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے آیا تھا کہ اس کا کیا کریں، تو پارلیمنٹ کو ٹرائل کے لئے تو بھیج نہیں سکتے تھے، میڈیا بھیجتے تو وہ تو بہت خوش ہو جاتا تو بہتر فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے سو ریفرنس وہاں بھیج دیا۔ میرے پاس وزیراعظم کی طرف سے جو ایڈوائیس آتی ہے چاہے کابینہ منظوری دے یا نہ دے میں اس پر عمل کرنے کا پابند ہوں حالانکہ 18ویں ترمیم کے پاس کرنے کی یہ واحد پریکٹس ہے جس میں صدر پاکستان وزیراعظم کے مشورے کے پابند نہیں ہیں بلکہ صدر صاحب کو اپنا مائنڈ اپلائی کرنا ہوتا ہے۔

اس فیصلے پر مریم نواز نے کہا کہ اس ریفرنس کو دائر کرنے میں صدر اور ان کے آفس کو استعمال کیا گیا لیکن اس سازش میں عمران خان اور ان کے ساتھی ملوث تھے۔ سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا ہے کہ اچھے کیس کو غلط طور پر Plead یعنی چلایا گیا۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی نے کہا ہے کہ صدر پاکستان اخلاقی جواز کھو چکے ہیں انہیںStep down یعنی مستعفیٰ ہو جانا چاہئے کیونکہ صدر پاکستان اپنے چند بہی خواہوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں لہذا وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے میں آزاد نہیں ہیں جبکہ وزیر قانون فروغ نسیم اور Asset ریکوری یونٹ کے چیئرمین شہزاد اکبر تو مجرم کے طور پر ثابت ہو گئے۔ جسٹس (ر) رشید اے رضوی کی رائے ہے کہ فیصلہ تو بہت سخت ہے لیکن ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ استعفیٰ دیں گے۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر کسی مہذب ملک میں ایسا ہوتا تو پوری حکومت مستعفی ہو جاتی۔ ملا چانڈیو نے کہا کہ فیصلہ میں تو صدر مملکت پر بدنیتی ثابت نہیں کی گئی ہے لیکن نالائقیاں ضرور ثابت ہوئیں لہذا ایک نالائق صدر کو اپنا منصب چھوڑنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں

Sultan

LNG کوئی گاجر مولی نہیں؟

غلط اور تاخیر سے فیصلوں کی وجہ سے قومی خزانے کو 122 ارب روپے کا …