ہے بظاہر میرے ہونٹوں پے تبسم اگر

ایک بار ایک یہودی فقیر اپنے مسائل سے بے حد گھبرا گیا۔ کون نہیں گھبراتا؟ ہم سب اپنی اپنی پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیں اور ہماری سب سے بڑی پریشانی دوسروں کی خوشیاں ہوتی ہیں۔ یہ دیکھ کر کہ دوسرے خوش اور شادمان ہیں ہم خود پریشان اور غمزدہ ہونا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے بھی کوئی حسابی عمل ہے۔ اس نوع کا حسابی عمل ہم اپنی پریشانیوں اور دوسروں کے چہروں کو دیکھ کر شروع کر دیتے ہیں۔ ہم دوسروں کی تکالیف اور مصیبتوں پر نظر نہیں رکھتے صرف ان کی آنکھوں اور ہونٹوں پر کھلی مسکراہٹ ہی ہمارے سامنے ہوتی ہے۔ اب اس نقطہ نظر کے تحت اگر ہم اپنے اوپر غور کریں تو کیا ایسا نہیں ہے کہ اندرونی طور پر اپنی مصیبتوں اور ابتلاؤں کے باوجود بیرونی طور پر ہم خوش نظر آنے کی شعوری کوشش کرتے رہتے ہیں؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری مسکراہٹیں اپنی پریشانیوں کو دوسروں سے چھپائے رکھنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ وہ دوسروں کے سامنے خود کو غیر مطمئن ظاہر کرے۔ اگر وہ حقیقت میں نا خوش بھی ہے تب بھی وہ دوسروں کے سامنے خود کو مطمئن اور آسودہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کیونکہ خود کو ناآسودہ اور غیرمطمئن ظاہر کرنا دراصل اپنی بے آبروئی کا اعتراف، نقصان اور شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بیرونی طور پر خوش نظر آنے کے باوجود اندر سے وہی ہوتے ہیں جو اصل میں ہیں۔
ہے بظاہر میرے ہونٹوں پے تبسم اگر
دل بھی سینے میں ہو شادماں یہ ضروری تو نہیں
اندر اندر تو آنسو بھرے ہوتے ہیں اور باہر سے ہم خوش نظر آنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی ہم کو دیکھتا ہے تو ہم کو مسکراتے ہوئے پاتا ہے۔ اس کے برعکس جب وہ اپنے اندر جھانکتا ہے تو خود کو مصائب اور مسائل میں گرا ہوا پاتا ہے۔ اور یہ کیفیت اس کے لیے مسئلے کی حیثیت اختیار کرتی جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ دنیا میں تمام لوگ خوش و خرم اور آسودہ ہیں۔ ایک صرف وہی پریشان حال اور مصائب میں مبتلا ہے۔ اس یہودی فقیر کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا۔ ایک رات اپنی دعاؤں میں اس نے خدا سے کہا ”میں نہیں کہتا کہ مجھے غم و اندوہ نہ دے کیونکہ اگر میں انہی مصائب کا حقدار ہوں تو یقیناً مجھ کو یہی ملنا چاہیے لیکن کم از کم اتنا کہنے کی اجازت تو ضرور ملنی چاہیے کہ مجھ کو حد سے زیادہ پریشانیوں میں مت ڈال۔ میں دنیا میں ہر شخص کو ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھتا ہوں جبکہ صرف میں ہی ہوں غموں کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتا ہوں۔ آخر میں نے ایسی کیا غلطی کی ہے؟ براہ کرم مجھ پر ایک مہربانی کر اور میرے مسائل کے بدلے مجھے کسی اور کے مسائل عطا کر دے۔ میرے غم و اندوہ اپنی پسند کے کسی بھی شخص سے بدل دے۔ میں ان کو قبول کرلوں گا۔“ اُس رات اُس نے ایک عجیب خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑی عظیم الشان عمارت میں لاکھوں کھونٹیاں لگی ہوئی تھیں اور لاکھوں لوگ اپنے کندھوں پر اپنے اپنے رنج و الم کی گٹھڑی لادے ہوئے چلے آرہے ہیں۔ غموں اور پریشانیوں کے اتنے بہت سے بوجھ بھار دیکھ کر وہ ڈر گیا اور ایک مخمصے میں پڑ گیا۔ دوسرے تمام لوگ جو اپنی پریشانیوں کے اتنے بہت بڑے بوجھ اٹھائے ہوئے تھے وہ سب کے سب اس کے اپنے رنج و الم کے بوجھ سے کم نہیں تھے۔ وہ ذہنی طور پر الجھ کر رہ گیا۔ اپنے پڑوسی کو اس نے ہمیشہ ہنستے مسکراتے ہوئے ہی دیکھا تھا اور ہر صبح جب و ہ فقیر اس سے حال احوال لیتا تھا تو یہی جواب دیتا تھا کہ سب کچھ بہتر ہے۔ لیکن خواب میں اس نے دیکھا کہ اُس کا وہی پڑوسی اب اپنے مصائب کا اُسی قدر بوجھ اٹھائے ہے جو خود اس کے اپنے مصائب جتنا ہے۔ اس نے بہت سے سیاستدان اور اُن کے مقلدوں کو دیکھا، بہت سے گرو اور ان کے چیلوں کو دیکھا، ہر کوئی ایک جتنا بوجھ اٹھائے چلا آرہا تھا۔ کیا عقل مند، کیا بے وقوف، کیا امیر، کیا غریب، کیا صحت مند، کیا بیمار، ہر ایک کے مصائب کا بنڈل ایک ہی جتنا تھا وہ دریائے حیرت میں غرق ہو گیا۔ اب تک وہ صرف ان کے چہروں کو دیکھتا رہا تھا، لوگوں کے مصائب کو اس نے آج پہلی بار دیکھا تھا۔ اچانک ایک بلند آواز اُبھری، اپنی گٹھڑیاں کھونٹیوں میں لٹکا دو، اس فقیر سمیت ہر شخص نے ایسا ہی کیا۔ ہر کوئی اپنے مسائل اور مصائب سے فوری چھٹکارا چاہتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور آواز اُبھری۔ اب جو بھی چاہے اپنی پسند کی گٹھڑی اٹھالے۔ فقیر نے دوڑ کر اپنی گٹھڑی اٹھالی قبل اس کے کہ کوئی اور اس کے اوپر ہاتھ رکھ دے۔ پھر اس نے اطراف میں نظر ڈالی تو اس نے دیکھا کہ ہر کسی نے اپنی گٹھڑی بڑی خوشی اور جلدی سے واپس لے لی۔

یہ بھی پڑھیں

فاٹا انضمام ایک درست عمل!

خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع میں فی الوقتی طور پر حکومت وقت کی نااہلی اور …