سائنس اور مذہب

تحریر: ڈاکٹر سردار جمال

گیلیلیو کو پوپ نے کہا تھا، اس کی ضعیف العمری میں کہا تھا کہ وہ معافی مانگے کیونکہ اس نے کہا تھا کہ سورج زمین کے گرد نہیں گھومتا ہے بلکہ زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے۔ یہ بائبل کے خلاف ہے۔ مذہبی پیشوا بہت مشتعل ہوئے، ’’تم بائبل کو کیونکر رد کر سکتے ہو، تم ہو کون؟‘‘ اپنی عمر کے سترویں برس میں جب وہ بیمار تھا، بستر پڑا ہوا تھا اس کو مجبور کیا گیا کہ وہ عدالت میں پیش ہو، اسے مجبور کیا گیا کہ وہ پوپ کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکے اور اسے کہا گیا وہ معافی مانگے۔ اس نے کہا ٹھیک ہے جناب والا! میں معافی مانگتا ہوں۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ بائبل درست کہتا ہے کہ زمین سورج کے گرد نہیں گھومتی بلکہ سورج زمین کے گرد چکر لگاتا ہے۔ کیا آپ مطمئن ہیں جناب والا؟ اور وہ سب کے سب خوش تھے۔ انہوں نے کہا ’’ہمیں اطمینان ہوگیا ہے۔‘‘ تب گیلیلیو ہنسا۔ اس نے کہا لیکن چاہے کچھ بھی میں کہتا ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے زمین تو سورج کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے، میرے بیانات کی کیا حیثیت ہے؟ یہ کیا کر سکتے ہیں؟ میں کیا کر سکتا ہوں؟ میرے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ زمین سنتی تھوڑی ہے۔ مگر میں معافی مانگتا ہوں، میں غلط ہوں اور بائبل درست ہے۔ لیکن خوب ذہن نشین کر لو کہ زمین سورج کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ اس پر میری خواہش کو پورا کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ میں چاہوں گا کہ یہ بائبل کے مطابق چلے اور تمہارے مطابق حرکت کرے لیکن میں بے بس ہوں، مکمل طور پر مجبور ہوں۔ بائبل میں بہت سے غیرسائنسی بیانات ہیں، ویدوں میں بہت سے غیرسائنسی بیانات ہیں۔ تمام قدیم صحیفوں میں بہت سے غیرسائنسی بیانات موجود ہیں، اس کی ایک خاص وجہ ہے‘ اسکی وجہ یہ ہے کہ ان دنوں میں سائنس الگ مظہر کے طور پر موجود نہیں تھی‘ مذہبی صحیفہ واحد دستیاب کتاب ہوا کرتا تھا۔ پس اس میں ہر شے اکٹھی کر دی جاتی تھی، جو کچھ بھی علم دستیاب ہوا کرتا تھا صحیفوں میں اکٹھا کر دیا جاتا تھا۔ اس میں فن شامل ہوتا تھا، اس میں ریاضی شامل ہوتی تھی‘ اس میں جغرافیہ شامل ہوتا تھا، اس میں تاریخ شامل ہوتی تھی‘ اس میں سائنس شامل ہوتی تھی اس میں ہر دستیاب شے شامل ہوا کرتی تھی اور علم اتنا محدود تھا کہ وہ ایک صحیفے میں سما سکتا تھا۔ اب صدیاں گزر چکی ہیں، انسان نے ترقی کر لی ہے۔ اب سائنس کی اپنی دنیا ہے۔ جو کچھ بھی سائنس ہے وہ الگ دنیا ہے اور جہاں مذہب کی بات ہے وہ الگ دنیا ہے۔ مذہب باطن کی دنیا ہے جبکہ سائنس ظاہر کی دنیا ہے۔ سائنس ترقی کی طرف گامزن ہے سائنسدان نت نئے تجربات کر رہے ہیں۔ سائنس معروضی ہے جبکہ مذہب موضوعی ہے۔ مذہب کا تعلق روحانیت سے ہے جبکہ سائنس کا تعلق مادیت سے ہے جو لوگ مذہب کو سائنس سے اور سائنس کو مذہب سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سراسر غلطی پر ہیں کیونکہ سائنس تحقیق اور ایجادات کرنے کا نام ہے لیکن یہ بھی ہے کہ آج سائنس جو دعوی کر رہی ہے کل اس میں ترمیم کر سکتی ہے اگر مذہب کو سائنس سے جوڑا جائے تو کل ہماری تاویلات ادھوری رہ سکتی ہیں لہٰذا ان دونوں کا ملاپ ممکن ہے۔ ہمارے مذہبی دانشور قدیم دانشوروں کے الٹ جا رہے ہیں۔ قدیم مذہبی دانشور بولا کرتے تھے کہ سائنس جھوٹ ہے او مذہب درست ہے جبکہ جدید مذہبی دانشور دعوی کرتے ہیں کہ ہماری مذہبی کتاب سائنسی ہے۔ یہ لوگ پرانے لوگوں کی غلطیاں دہراتے ہیں مگر دوسری شکل میں۔ آج جو لوگ آسمانی کتاب کو سائنس سے جوڑتے ہیں خدانخواستہ اگر کل سائنس کا کوئی دعوی غلط نکلا تو پھر ہم اپنے دعوی کا کیا کریں گے؟ اس لیے احتیاط سے کام لینا بہتر ہے اور سمجھنا چاہیے کہ سائنس اور مذہب کے راستے الگ الگ ہیں کیونکہ مذہب کا تعلق باطن سے جبکہ سائنس کا تعلق ظاہر سے ہے‘ سائنس ایجادات اور دریافتوں سے تعلق رکھتی ہے جبکہ مذہب کا تعلق روحانی دنیا سے ہے جو کہ یکساں تھی، یکساں ہے اور یکساں رہے گی المختصر تمام مذہبی کتب اور صحیفے روحانی اعتبار سے کلاسیکل کتب ہیں جو کہ ہر زمانے کے لوگوں کی یکساں طور روحانی تربیت کر سکتی ہیں اور ان تمام کتب میں سے قرآن شریف سب سے معتبر اس لیے ہے کہ یہ عظیم کتاب نزول سے لیکر اب تک اور اسی طرح آنیوالی نسلوں کی روحانی تربیت کے لیے معنی خیز اور مکمل رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں

بغدادی پیر، کل اور آج

تحریر: محمد عمران ڈیوڈ جونز کا ناول شاید بہت سے قارئین نے پڑھا ہو گا …