پیشے کا انتخاب

تحریر: ڈاکٹر سردار جمال

عظیم نفسیات دانوں میں سے ایک، نفسیات کی تحریک کے بانیوں میں سے ایک، الفرڈ ایڈلرجوسگمنڈ فرائڈ، کارل گستاف یونگ اور الفرڈ یونگ اور الفرڈایڈلر پر مشتمل مثلث کا ایک ضلع ہے۔ ایک روز اپنے شاگردوں کو پڑھا رہا تھا کہ ایک شرمناک قسم کی صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ اس نے کہا میرا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ محض اتفاق یا حادثہ نہیں ہوتا کہ کوئی شخص سکول کا استاد بن جاتا ہے۔ دراصل ایسا شخص تسلط اور غلبہ حاصل کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ وہ اس قدر طاقتور اور مضبوط نہیں ہوتا کہ دہشت گرد بن سکے تاہم وہ ایک استاد تو بن ہی سکتا ہے اور تیس ننھے ننھے بچے بچیوں پر تشدد کر سکتا ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی خاص پیشے کا انتخاب کرتا ہے۔ اس انتخاب کے پس پردہ ایک نفسیات ہوتی ہے۔ بہت سے سروے اس حقیقت کے انکشاف کا باعث بنے ہیں کہ وہ لوگ جو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو موت سے بہت زیادہ خوف زدہ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرز کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ موت سے خوف کھاتے ہیں۔ وہ میڈیکل کے شعبے میں لاشعوری طور پر اس تلاش میں نکل آتے ہیں کہ موت سے نجات پانے کی کوئی راہ نکالیں۔ یہ فیصلہ شعوری طور پر نہیں کیا جاتا ہے لیکن اگر ان لوگوں پر عمل تنویم کیا جائے اور پھر ان سے دریافت کیا جائے تو جواب واضح ہو گا کہ وہ موت سے خوف زدہ ہیں اور انہوں نے اس پیشے کا انتخاب اسی خوف کے زیر اثر کیا تھا۔ ہندوستان کے بادشاہ عالمگیر کی زندگی کا ایک واقعہ اس اعتبار سے بہت فکر انگیز ہے۔ مغل بادشاہوں کی روایت کے مطابق عالمگیر بھی اپنے باپ کو لشکر کشی کے ذریعے تخت سے ہٹا کر ہندوستان کا بادشاہ بنا۔ اس نے ازراہِ مہربانی شکست دینے اور تاج و تخت پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے باپ کو زندان میں ڈال دیا۔ اور باپ کو حوالہ زنداں کر کے وہ سلطنت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے کٹھن کام میں مصروف ہو گیا۔ ایک روز زندان کے نگران سے جب اس نے دریافت حال کیا تو اس نے بتایا حضور! جہاں پناہ کے والد محترم کی خواہش ہے کہ زندان میں انہیں تیس بچے پڑھانے کے لیے مہیا کر دیئے جائیں! وہ ان بچوں کو دینی، ادبی اور تایخی تعلیم دینا چاہتے ہیں، اس کے ذریعے وہ زنداں میں فارغ رہ کر دیواروں کو تکنے کے بجائے پڑھانے میں مصروف و مشغول رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے بچوں سے بہت محبت ہے نیز شاعری پڑھنے اور پڑھانے میں بھی بہت دلچسپی رکھتا ہوں۔ بادشاہ نے کہا، اچھا تو وہ ہنوز تسلط اور برتری کے خواہاں ہیں۔ تیس بچوں کو تعلیم دینے کی خواہش لایعنی ہے کیونکہ انہوں نے اپنی ساری زندگی میں کبھی تعلیم میں دلچسپی نہیں لی۔ انہوں نے کبھی عظیم یونیورسٹیاں یا کالج یا کوئی دوسرا تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا۔ انہوں نے کبھی شاعری یا ادب میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اب زنداں میں وہ تیس طالب علم چاہتے ہیں تاکہ تسلط حاصل کر سکیں۔ وہ ہنوز بادشاہ رہنا چاہتے ہیں۔ خواہ سلطنت چھوٹی سی ہی کیوں نہ ہو یعنی محض تیس طلبا!

یہ بھی پڑھیں

مارشل لاء کے اعلان کے بعد (دوسرا حصہ) مترجم: نورالامین یوسفزئی

یہ مسلم لیگی جس مُردار مال پر ٹوٹ پڑے تھے بالآخر اس لُوٹ مار نے …