مسرت

روحانی سرور اور خوشی کا نام مسرت ہے۔ جس چیز کو خریدا نہ جا سکے وہ مقدس ہوتی ہے۔ مقدس شے پیسوں سے ماورا ہوتی ہے اور سطحی شے پیسوں کے دائرے میں آتی ہے۔ یہی مقدس چیز مسرت ہے اور مسرت محبت کی پیداوار ہے نا کہ دولت کی۔ اگر ہم صرف ان چیزوں کو جانتے ہیں جنہیں خریدا اور فروخت کیا جا سکے تو ہماری زندگی کھوکھلی ہو جائے گی۔ اگر ہماری واقیفت صرف اشیاء سے ہے تو ہماری زندگی بے معنی اور بیکار ہوکر رہ جائے گی۔ ان چیزوں سے واقیفت حاصل کرنا چاہیے جنہیں نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ فروخت کیا جا سکتا ہے۔ تب ہی ہماری پرواز بلندی کی طرف شروع ہو سکے گی۔ ایک بادشاہ بمبسارا مہاویر کے پاس پہنچا جس نے سن رکھا تھا کہ مہاویر نے محبت کے ذریعے مسرت کا مقام حاصل کیا ہے۔ بمبسارا کے پاس دنیا کی ہر چیز تھی۔ وہ پریشان ہو گیا کہ یہ مسرت کیا چیز ہے۔ وہ بے چین ہو گیا کیونکہ پہلی مرتبہ اسے احساس ہوا کہ کوئی چیز ہے جو اس کے پاس نہیں ہے۔ اس نے پہاڑوں کا سفر کیا اور مہاویر سے ملاقات کی۔ اس نے مہاویر سے کہا تم اپنے مسرت کے عوض کیا لو گے؟ میں اسے خریدنے آیا ہوں۔ یہ کیا شے ہے، یہ کہاں ہے؟ پہلے میں اسے ایک نظر دیکھ لوں۔ مہاویر بادشاہ کی اس حماقت پر حیران رہ گیا مگر وہ ایک سیانا انسان تھا۔ اس نے کہا تمہیں اتنا لمبا سفر کر کے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تمہارے دارالحکومت میں میرا ایک چیلا رہتا ہے اور وہ اتنا غریب ہے کہ شاید وہ اسے فروخت کرنے پر راضی ہو جائے مگر میں ایسا کرنے پر رضامند نہیں ہوں۔ مجھے پیسوں کی حاجت نہیں۔ تم دیکھ سکتے ہو کہ میں ننگا ہوں، مجھے کپڑوں کی ضرورت نہیں، میں شانت ہوں، میری حاجات نہیں ہیں، میں پیسوں کا کیا کروں گا، میں تو خود اپنی سلطنت ٹھکرا کر آیا ہوں۔ مہاویر بادشاہ کو آدمی کا پتہ سمجھاتا ہے کہ وہ انتہائی پسماندہ علاقے میں رہتا ہے۔ آپ نے وہ علاقہ کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ پھر بھی بادشاہ اس غریب آدمی کے ہاں چلا گیا اور اپنا مدعا بیان کیا۔ اس آدمی نے بادشاہ کے پاؤں کو چھوا اور کہا مجھے افسوس ہے میں آپ کے لئے اپنی جان دے سکتا ہوں مگر میں آپ کو مسرت نہیں دے سکتا کیونکہ اسے پایا جاتا ہے اور نہ یہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ بیچا جا سکتا ہے، یہ تو حالتِ شعور ہے۔ مہاویر نے آپ کے ساتھ مذاق کیا ہو گا۔ جب تک ہم کسی چیز کو نہیں جانتے جسے خریدا اور بیچا نہ جا سکے جو پیسوں سے ماورا ہو ہم حقیقی زندگی سے آگاہ نہیں ہو سکتے۔ جنس پیسوں سے ماورا نہیں ہے۔ محبت ضرور اس سے ماورا ہے۔ جنس کو محبت اور عبادت میں بدلا جا سکتا ہے۔ اکثر لوگ صرف پیسے اور جنس کی دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی بسر ہو رہی ہے۔ وہ زندگی بسر نہیں کر رہے ہیں۔ وہ بے حس ہیں۔ وہ تو مر رہے ہیں۔ زندگی کے پاس تو ہمارے لئے کئی دنیائیں ہیں۔ زندگی ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے جس کا تعلق صرف اس دنیا سے نہیں ہے اور یہ چیزیں نہ جنس دے سکتی ہے اور نہ دولت، اس کو صرف محبت کے واسطے حاصل کیا جاتا ہے اور محبت اپنے آپ سے کی جاتی ہے اور پھر جمالیاتی ذوق اور جمالیاتی نظر ابھر آتی ہے جو مسرت میں تبدیل ہو کر زندگی کو خوشگوار، پرسکون اور عاشقانہ بنا دیتی ہے۔ جو کچھ نہ رکھتے ہوئے بھی بادشاہ ہوتے ہیں بلکہ بادشاہ ان پر رشک کھاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم زندگی کے آداب نہیں جانتے اور دعویٰ موت تک اور موت کے بعد زندگی تک کا کرتے ہیں۔ ہم صرف وہ چیزیں جانتے ہیں جو خریدی جاتی ہیں اور فروخت کی جاتی ہیں۔ ہم نے کھبی سوچا نہیں ہے کہ قبر میں کوئی دکان، کوئی ہسپتال، کوئی بجلی گھر، کوئی پٹوار خانہ اور کوئی تھانہ وغیرہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام ادارے پیسوں کی پیدا کردہ ہیں۔ ان اداروں میں انسان تولے جاتے ہیں اور ناپے جاتے ہیں۔ ان تمام انسانی اداروں میں محبت نام کا کوئی ادارہ ہے نہیں۔ ادھر پیسے چلتے ہیں۔ ادھر قیمت لگائی جاتی ہے۔ ادھر خریدا جاتا ہے اور ادھر بیچا جاتا ہے۔ لہٰذا تمام انسانی بازاروں میں کوئی سکون نہیں ہے۔ یہ تمام ایشوز پیسوں کی پیدا کردہ ہیں۔ ان تمام کے دام لگائے جاتے ہیں اور جس چیز کا دام لگایا جائے وہ صرف چیز ہی رہ جاتی ہے اور چیزیں دکھ کے سوا اور کچھ نہیں۔ تمام آرائش اور زیبائش کے ہوتے ہوئے بھی انسان پریشانی میں جھکڑا ہوا ہے اور اب تک چار ہزار سالوں میں پانچ ہزار بڑی جنگیں لڑ چکا ہے اور اب ہم ایٹم بم کی شکل میں اجتماعی خودکشی کی طرف جا رہے ہیں۔ تمام جنگ و جدل اور اضطراب کی واضح وجہ یہ ہے کہ انسان مادیت پسند بن چکا ہے۔ کبھی دنیا والوں نے یہ سوچا نہیں ہے کہ انسان روح اور وجود کا آمیزہ ہے۔ وجود مادی ہے اور روح غیر مادی ہے۔ ہم وجود پالنے کا سوچتے ہیں اور روح کو نظر انداز کر رکھا ہے۔ روحانی خوشی کے لیے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ روحانی خوشیوں کے لیے محبت کی ضرورت ہے مگر محبت جنس سے ہٹ کر بشریت کا نام ہے۔ محبت سرور ہے اور سرور مسرت ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان کی خارجہ پالیسی حالات کے تناظر میں (دسواں حصہ)

مترجم نورالامین یوسفزئی خدائی خدمتگاروں کی ایک اور بدنصیبی یہ بھی تھی کہ وہ جغرافیائی …

%d bloggers like this: