انسان ایک معمہ

انسان کل سے لے کر آج تک کنفیوژن کا شکار چلا آ رہا ہے اور شاید اس کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ جتنا آگے جانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے اتنا ہی پیچھے کی طرف جا چکا ہوتا ہے۔ نسلی، لسانی، مذہبی اور علاقائی تضادات کا مارا ہوا انسان عجیب و غریب کیفیات سے گزر رہا ہے اور یہ مسئلہ جنگلی زندگی سے فرار اور میدانی طرز زندگی اختیار کرنے کے بعد پیدا ہوا ہے۔ پڑوسی ملک بھارت کے دانشوران یہ سمجھتے ہیں کہ پہاڑوں سے وسیع و عریض میدانوں میں آ کر انسان پہلے پہل تین گروہوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ایک حکمران طبقہ جس کو کشتری کہا جاتا تھا، دوسرا ویش یعنی محنت کرنے والا طبقہ اور تیسرا شودر یعنی غلام طبقہ اور کشتری اور رشتی کی ملاقات کے بعد گائے سے متاثر طبقہ برہمن بھی درمیان میں آ گیا جس سے حکمران طبقہ اور مذہبی طبقہ آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ جب دنیا کا طبقاتی نظام اپنی انتہاؤں کو چھونے لگا تو اس دوران دانشور طبقہ درمیان میں کود پڑا اور سوشلزم اور کمیونزم جیسے نظریات درمیان میں آ گئے، ان تمام مسائل کا حل وسائل کی مساوی تقسیم کو قرار دیا اور ان لوگوں نے دعوی کیا کہ حکمران طبقہ جو کہ تعداد میں 15% ہیں اور غریب طبقہ جو کہ تعداد میں 85% ہیں لیکن اس یہ حکمران طبقہ غریب طبقے کو مختلف ہیلوں بہانوں سے لوٹ رہا ہے لہذا حکمران طبقے سے اختیارات لے کر غریب کو منتقل کرنے چاہئیں۔ اس طرح کے تجربات دنیا کے مختلف حصوں میں کیے گئے مگر نتیجہ ندارد۔ وجہ یہ ہے کہ اقتدار چیز کچھ ہے ہی ایسی کہ یہ کم تعداد والے لوگوں کے ہاتھوں میں ہو گی، اگر غریب بندوں سے بندے اٹھا کر اقتدار ان کے ہاتھوں میں دیا جائے تو بھی یہ لوگ تعداد میں اتنے ہی ہوں گے جتنے اس سے پہلے تھے اور ان کا رویہ بھی بدل کر پہلے جیسا بن جائے گا اور انہی کے جیسا درد سر ثابت ہو گا۔ میرے خیال میں ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ جدید تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ انسان کا تعلق اس سیارے سے ہے ہی نہیں، اس کی تخلیق کسی اور سیارے پر کی گئی ہے جبکہ ادھر زمین پر انسان کو سزا یافتہ کے طور بھیجا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادھر انسان بے چین اور اضطراب میں ہے اور اضطراب زدہ انسان کسی حال میں بھی پر سکون اور مطممن زندگی بسر نہیں کر سکتا ہے جبکہ تمام جاندار پرندے اور چرندے اچھی طرح خوش و خرم اور پرسکون ہیں۔ انسان کی اس سیارے پر اجنبیت کی نشانیاں واضح ہیں۔ اول یہ کہ اس سیارے کا درجہ حرارت انسان کے لیے مناسب نہیں ہے۔ انسان نہ اس سیارے کی گرمی برداشت کر سکتا ہے اور نہ سردی۔ حفظان صحت کے تمام اصول بروئے کار لاتے ہوئے بھی دوسرے جانوروں کی نسبت انسان مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا اور نبردآزما ہے۔ اس سیارے میں تمام جاندار زمین پر افقی چلتے ہیں جبکہ انسان عمودی چل کر کمر اور جوڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو چکا ہے۔ دوسرے جانوروں کے علاوہ بے جان اشیاء مثلاً کشتی، سائیکل اور موٹر کار وغیرہ تمام کے تمام افقی چلتے ہیں لہذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان اس سیارے کی مخلوق نہیں جوکہ قرآن سے بھی ثابت ہے کہ آدم کو ادھر اتارا گیا ہے، بقول شاعر
پستی میں آسماں سے اتارا گیا مجھے
جتنا میں سوچ رہا ہوں تو انسان ایک معمہ ہے اور معمہ ہی رہے گا، اگر یہ معمہ حل کرنا ہے تو اس کے لیے بہت پیچھے جانا پڑے گا یعنی کشتری، ویش، شودر اور برہمن کی تخلیق سے بھی پیچھے، جنگل کو پھر واپس جانا ہو گا، فی الحال ہم بہت آگے نکل چکے ہیں اور جتنے آگے جائیں گے، اتنا ہی غریب اور کمزوروں کا استحصال کریں گے، اتنا ہی بارود بوئیں گے اور اتنا ہی خون بہائیں گے۔

Advertisements

یہ بھی پڑھیں

پشتو موسیقی کل اور آج

لفظ موسیقی کے تاریخی پس منظر یا وجہ تسمیہ کے بارے میں آج تک مختلف …

%d bloggers like this: