بیماری یا بہانہ؟ ۔۔۔ ڈاکٹر سردار جمال

ہماری بیشتر بیماریاں مصنوعی ہیں۔ کم و بیش پچاس فیصد جھوٹی ہوتی ہیں۔ دنیا میں بیماریاں نہیں بڑھی ہیں۔ ان کی وجہ بڑھتا ہوا علم ہے۔ اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ بڑھتا ہوا علم اور بہتر معاشی حالات بیماریوں میں کمی کا باعث ہونے چاہئیں لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ انسان میں جھوٹ بولنے کی خرابی میں بھی روز بروز ترقی ہو رہی ہے۔ وہ صرف دوسروں سے ہی نہیں خود اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولتا ہے۔ اس بنا پر وہ اپنے لئے نئی نئی بیماریاں خود تخلیق کرتا ہے مثلاً کوئی شخص کاروبار میں گھاٹے کا شکار ہو کر دیوالیہ ہونے کو ہے مگر وہ خود کو دیوالیہ سمجھنے کے لے تیار نہیں، جس کی وجہ سے وہ بازار میں جانے سے بھی خوف کھاتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ بازار میں قرض خواہ اس کو گھیر لیں گے۔ اچانک وہ بیماری میں مبتلا ہونے کے بارے میں سوچتا ہے اور وہ اپنے آپ کو بیمار سمجھتا ہے۔ یہ بیماری اس کے ذھن نے تخلیق کی ہے جس سے اس کو دوہرا فادہ ملے گا۔ ایک تو وہ دوسروں کو باور کرا سکے گا کہ بیماری کی وجہ سے وہ کاروبار پر پوری توجہ نہیں دے پا رہا ہے۔ اس بات پر اس نے خود کو تو قائل کر لیا ہے۔ اب وہ دوسروں کو بھی قائل کر سکے گا۔ یہ بیماری لاعلاج ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ وہ قطعی بیمار نہیں ہے۔ اور دوسری یہ کہ اس کا جتنا علاج کرایا جائے گا اتنا ہی وہ بیمار ہوتا جائے گا۔ اگر بیماری کا دواؤں سے فائدہ نہیں ہوا تو ان کا مزید استعمال فضول ہو گا۔ بیماری کی وجہ کچھ اور ہے۔ اس کا دواؤں سے کوئی واسطہ نہیں۔ مریض دواؤں کو برا بھلا اور ڈاکٹروں کو احمق سمجھتے ہیں۔ اس کے لئے ہر ڈاکٹر بیکار ہے کیونکہ ڈاکٹر صرف حقیقی بیماریوں کا علاج کر سکتے ہیں مصنوعی بیماریوں کا ان کے پاس کوئی توڑ نہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ مریض خود ہی یہ بیماریاں ایجاد کرتے ہیں اور ان کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ خواتین کی پچاس فیصد بیماریاں قطعی جھوٹی ہوتی ہیں۔ جب بیوی بیمار ہوتی ہے تو شوہر اپنے کام میں سے وقت نکال کر اس کے بستر کے پاس کرسی ڈال کر بیٹھ جاتا ہے۔ ایسا کرنا خواہ اس کی طبیعت کے خلاف ہو مگر اس کو کرنا پڑتا ہے لہٰذا جب کسی عورت کو اپنے شوہر کی توجہ درکار ہوتی ہے تو وہ بیمار پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورتوں کو عموماً بیماری میں مبتلا ہی دیکھا جاتا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ بیمار ہونے سے گھر پر مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں زیادہ تر بیماریاں جعلی اور خودساختہ ہیں اس لیے اس قسم کے مریضوں کے لیے جعلی معالجوں کی ضرورت ہے۔ ایسے مریض کو اگر مستند ڈاکٹروں کے پاس جانا پڑے تو ان کا صحت یاب ہونا ناممکن ہے۔ جب کسی کے پاؤں میں تصوراتی کانٹا گھس جائے تو کانٹے کو خیالی کانٹے سے باہر نکالنا چاہئے ناکہ اصلی کانٹے سے پاؤں زخمی کیا جائے۔ جب تک ہمارے ہاں شعور اور آگہی پیدا نہ ہو تو جسمانی علاج کے لیے جعلی معالج بالکل درست ہیں۔ بعض اوقات حکومت ان لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر دیتی ہے جو کہ ہمارے جیسے معاشرے میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے کیونکہ ان مریضوں کا اس قسم کے معالجوں سے افاقہ ممکن ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے ہاں عطائی اور جعلی معالجوں کا خوب دھندہ چل رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ جعلی ہیں اور جعلی معالج ہی جعلی بیماریوں کا علاج کر سکتے ہیں۔ ہم تب جعلی پن سے نجات پا سکتے ہیں جب ہمارے ہاں فلاحی معاشرہ تشکیل پا یا دیا جائے ورنہ سب کچھ جھوٹ، فریب اور دغابازی کی نذر ہوتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ شوہروں کو عورتوں کی نفسیات جاننا چاہئے۔ عورت کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ توجہ چاہتی ہے۔ ایک فلسفی کا قول ہے ”بے شک عورت کو مت سنو مگر اس کے چہرے کو دیکھتے رہو“ اگر ایسا نہ ہو تو وہ خود ساختہ اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جائے گی۔ ایسا کر نے سے وہ شوہر کی توجہ حاصل کر نے میں کامیاب ہو جائے گی ورنہ عطائی ڈاکٹرز اور پیر فقیر کے چکر میں پڑ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

بی آر ٹی، ایک ”پوڈری” اور رکشہ ڈرائیور – تحریر: ملک سیدزمان خان

پشاور بی آر ٹی منصوبے پر ایک واقعہ بلکہ لطیفہ یاد آیا۔ ایک ”پوڈری” (ہیروئنچی …

%d bloggers like this: