نیند ایک نعمت

دنیا میں انتہائی سزا موت نہیں ہے کیونکہ موت سزا کے طور پر تو بہت آسان ہے، یہ لمحوں میں آ لیتی ہے۔ کسی کو سونے نہ دینا دنیا میں بد ترین سزا ہے۔ یہاں تک کہ آج کے دور میں ایسے ممالک ہیں جہاں قیدیوں کو سونے نہیں دیا جاتا۔ اگر کسی کو لگاتار پندرہ دن تک سونے نہ دیا جائے تو اس کی اذیت کو تصور میں لانا بھی ممکن نہیں۔ وہ تقریباً پاگل ہو چکا ہو گا۔ وہ ایسی ساری معلومات اگل دے گا جو دوسری صورت میں وہ اپنے کسی دشمن کو بتانا گوارا نہیں کر سکتا۔ وہ نتائج سے بے پرواہ ہو کر بڑبڑانا شروع کر دے گا۔ چین میں اصولی طریقہ کار سے انحراف کیا جاتا ہے۔ قیدیوں کو چھ مہینے تک سونے نہیں دیا جاتا، نتیجے کے طور پر وہ اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ بالکل بھول جاتے ہیں کہ وہ کون ہیں، ان کا نام کیا ہے، وہ کس مذہب کے پیروکار ہیں، وہ کس شہر یا قصبے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا ملک کون سا ہے۔ وہ ہر بات بھول جاتے ہیں۔ بے خوابی کی وجہ سے ان کے ہوش و حواس بالکل جاتے رہتے ہیں۔ ان پر مکمل فراموشی چھا جاتی ہے۔ اس حالت میں ان کو کچھ بھی باور کرایا جا سکتا ہے۔ کوریا میں پکڑے جانے والے امریکی قیدی جب روس اور چین سے رہا ہو کر آئے تو نیند سے دور رہنے کی بنا پر ان کی حالت قابل رحم تھی، وہ مکمل طور پر امریکہ کے مخالف اور کمیونزم کے حامی ہو چکے تھے۔ پہلے ان فوجیوں کو سونے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی، پھر جب ان کی ذہنی حالت ابتر ہو جاتی تو ان کے ذہن میں کمیونزم کی خوبیاں ٹھونسی جاتی تھیں۔ بار بار کی ترغیبات کے ذریعے جب ان کی یاداشت گم ہو جاتی تھی تو ان کو بتایا جاتا تھا کہ وہ کمیونسٹ ہیں۔ اس لیے رہائی سے پہلے ان کی شخصیت تبدیل ہو جاتی تھی۔ ان فوجیوں کو دیکھ کر امریکی ماہرینِ نفسیات گنگ ہو گئے۔ جب ایک انسان کو سونے نہیں دیا جاتا تو وہ زندگی کے دھارے سے کٹ جاتا ہے۔ جب تک انسان کی زندگی میں بے خوابی بڑھتی جائے گی تب تک جرائم کو فروغ ملتا رہے گا۔ جن ملکوں کے لوگ رت جگے کرتے رہتے ہیں وہاں خصوصیت کے ساتھ حیوانیت اور جرائم کو عروج حاصل ہوتا رہے گا اور جہاں کے لوگ گہری نیند سوتے ہیں وہاں انسانی نظریات اور امن بھی اسی تناسب سے بڑھتے رہیں گے۔ جو شخص پچھلی رات گہری نیند سویا ہو گا وہ اگلا دن پرسکون سے گذارے گا۔ مضطرب دماغ انسانیت کی آماجگاہ کیسے بن سکتا ہے؟ منتشر الخیال، غیر مطمن اور غصیلا دماغ امن اور انسانیت کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ ان کے وجود کا ہی منکر ہو جاتا ہے۔ آج کل دنیا میں بے خوابی کا مسئلہ درپیش ہے۔ صرف نیویارک میں تیس فیصد لوگ مسکن دواؤں کے بغیر سو نہیں سکتے، ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ اگر یہی حالات جاری رہے تو آئندہ سو سال میں خواب آور دواؤں کے بغیر شاید کوئی بھی نہیں سو سکے گا۔ اگر بے خوابی کی یہ حالت رہی تو ایسا وقت ضرور آنے والا ہے جب ہر انسان قدرتی نیند سے محروم ہو جائے گا اور لوگ اس بات پر یقین نہیں کریں گے کہ ہزار دو ہزار سال پہلے کا انسان تکیے پر سر رکھتا تھا اور اس کو نیند آ لیتی تھی۔ اس بات کو وہ بناوٹی اور دیومالائی کہانیوں کا حصہ سمجھیں گے۔ اس بات کو وہ ہرگز سچ نہیں مانیں گے اور کہیں گے ”یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ جب اس کا اطلاق ہمارے اوپر نہیں ہوتا تو کسی دوسرے پر کیسے ہو سکتا ہے؟“ آج اس بات پر بمشکل یقین کیا جائے گا کہ ایک وقت تھا جب لوگ آنکھیں بند کرتے ہی خوِاب میں گم ہو جاتے تھے کیونکہ آج جب ہم آنکھیں بند کر کے بیٹھتے ہیں تو اپنے اندرون ذات میں کہیں نہیں پہنچتے، خیالات کی یلغار شروع ہو جاتی ہے اور ہم جہاں ہیں وہیں رہ جاتے ہیں۔ اب نیند ہم سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ جو چیزیں شعوری حالت میں ہوتی ہیں وہ پہلے گم ہوتی ہیں، اس کے بعد غیر شعوری حالت میں جانا پڑتا ہے۔ ہمارا نیند سے بہت نزدیکی اور بہت گہرا رشتہ ہے۔ وہ شخص اپنی زندگی کیسے گذارے گا جس کے پیش نظر سب سے بڑا مسئلہ نیند ہے؟ اگر وہ ٹھیک طرح سو نہیں سکے گا تو اس کی پوری زندگی ایک ڈراؤنا خوِاب بن کر رہ جائے گی۔ وہ تمام رشتوں ناطوں سے بے تعلق ہو جائے گا، اس کو ہر چیز زہر لگنے لگے گی، بات بات پر غصہ آئے گا۔ اور جو شخص گہری نیند سوتا ہے اس کی زندگی میں شگفتگی ہو گی، امن، مسرت اس کی زندگی میں موجزن ہو گی، اس کی رشتہ داریوں میں، اس کی محبت میں، ہر چیز میں سکون و اطمینان شامل ہو گا۔ اور اگر وہ نیند سے محروم ہو جائے گا تو اس کے تمام رشتے ناطے ہوا میں تحلیل ہو جائیں گے۔ اس کے خاندانی معاملات الجھ جائیں گے، اس کے بیوی بچوں، ماں باپ، استاد شاگرد سب سے فاصلے پیدا ہو جائیں گے۔ نیند ہمیں بے ہوشی کی حالت میں اس نقطے تک لے جاتی ہے جہاں ایک مختصر وقت کے لیے ہم ذہنی یک سوئی سے مل جاتے ہیں۔ ایک مکمل صحتمند انسان بھی اپنی رات کے آٹھ گھنٹوں کی نیند میں اتنی گہرائی تک بمشکل دس منٹ تک ہی رہ پاتا ہے۔ ان دس منٹوں کی نیند کے دوران بندہ مکمل طور پر کھو جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے پاس کسی خوِاب کا گذر بھی نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ماہرین کی آرا

سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کا ریفرنس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا …

%d bloggers like this: