جنرل ایوب خان کا دور (آٹھواں حصہ)

چین اورہندوستان کی جنگ اور پاک امریکہ تعلقات پر اثرات


فیلڈ مارشل ایوب خان تو امریکہ کے ساتھ اپنے پسند کئے گئے راستے پر سیدھی سمت گامزن تھے۔ پاکستان کی فوج کو مضبوط بنا رہے تھے۔ اپنے ساتھی جنرلز کومراعات دے دے کر خوب نوازا رہے تھے۔ فوج کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا۔ فوجی افسروں کو سفیر بنا کر نوازا گیا۔ سرکاری اراضی اُن کو الاٹ کی جا رہی تھی اور خاص طور پر سندھ بیراج کی ساری زمینیں فوجی افسروں دے کر اُن کو جاگیردار بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ نیم خودمختار (Semi-Autonomous) اداروں میں اعلیٰ نوکریاں دی گئیں۔ یہ سب عیاشیاں اس وقت کے فوجی افسر اور اُن کے قریبی رشتہ دار انجوائے کر رہے تھے جبکہ دوسری جانب ملک میں گزشتہ نو سال سے جو آئین سازی کی گئی تھی وہ سب دریابُرد کر دی گئی، 1956ء کا دستور منسوخ کر دیا گیا اور اُس کے مقابلے میں 1962ء کو اپنے شخصی دستور کا اعلان کر دیا گیا۔ اب امریکی آقا مکمل طور پر مطمئن تھے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان متحدہ امریکی گروپ میں نمایاں مقام حاصل کر چکا تھا۔

اُن دنوں کثیر تعداد میں امریکی پاکستان آنا شروع ہو گئے چونکہ یہاں پر امریکی امدادی ادارے کام شروع کر چکے تھے لہٰذا ان تمام اداروں کے ساتھ امریکی ماہرین مختلف حیثیتوں میں مصروف عمل ہوگئے۔ کوئی صلاح کار تھا توکوئی کنسلٹنٹ، زراعت، تعمیرات، دیہی امور، تعلیم العرض زندگی کے تمام شعبوں میں امریکی آ کر قابض ہو گئے۔ جب امریکہ نے زندگی کے تمام شعبے اور ہر شعبے کی طرف جانے والے تمام راستے اپنے قبضے میں لے لئے تو پاکستان کے طلباء اب انگلستان کی جگہ امریکہ کارُخ کرنے لگے۔ زمینداروں کے تبادلے شروع ہوئے۔ پاکستانی زمیندار وہاں جاتے وہاں جا کر امریکی زمینداروں کے ساتھ ملتے جلتے وہاں قیام کرتے اُن کے گھروں اورکام کی جگہوں میں وقت گزارتے تھے۔ اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ دلچسپی فوجی افسران لے رہے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ فوجی افسران اُن کے بھی اس سلسلے میں منظور نظر تھے، امریکی گائے سارا دودھ اُنہیں دے رہی تھی۔ تمام مہربانیوں کا مرکز بھی یہی لوگ تھے۔

پاکستان میں امریکی ہتھیار کے انبار لگ گئے اتنے کہ گوداموں میں اورگنجائش نہیں رہی۔ اسی اثناء میں سال 1962ء کو چین اور ہندوستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اب امریکہ تو ایک سرمایہ دار ملک کی حیثیت سے اشتراکیت کا جانی دشمن تھا اور چین کے ساتھ تو اُس کی دشمنی کی ایک اور بڑی وجہ بھی تھی۔ جب امریکی جنوبی کوریا میں داخل ہوئے اور شمالی کوریا کے پیچھے ہوئے تو اس چین نے اُس کی (شمالی کوریا کی) سرپرستی کی اور اس وجہ سے امریکہ جنگ بندی پر مجبور ہوگیا، صلح پر آمادہ ہوا۔ اب اس جنگ میں امریکہ کی ہمدردی ہندوستان کے ساتھ تھی۔ ہمدردی تھی یا نہیں مگر ایک بات تو سچ ہے سب کچھ اُس کی طبیعت کے مطابق چل رہا تھا کہ چین کی اشتراکی سرکار ہند کے ساتھ برسرپیکار تھی جبکہ ہندوستان غیرجانبدار ممالک اور تیسری دنیا کے اعلانات کر رہا تھا اور یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ ہندوستان دنیا میں ہونے والی نظریاتی جنگ میں مکمل طور پر غیر جانبدار ہے۔ تو اب امریکہ خوش تھا کہ اُس غیرجانبدار ملک کے ساتھ ایک اشتراکی ریاست برسرپیکار ہوئی تھی۔ اور اب ہند بہ امر مجبوری اس طرف آئے گا اور اُس کی اس خوشی کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ اُس کے خیال میں اس طرح ہندوستان اور پاکستان کی دوستی پکّی ہو جائے گی۔

یوں امریکہ کا مدتوں کا دیکھا ہوا خواب اب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا کہ ہندوستان اور پاکستان اپنی تمام دشمنیوں کو چھوڑ کر اشتراکیت کے سامنے صف آرا ہو جائیں۔ خود ہند پر یہ حملہ اس قدر خلاف توقع تھا کہ اُس کے وہم وگمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ کبھی ایسا بھی ہو گا کیونکہ ہندوستان کے کانوں میں تو ابھی تک ہندی چینی بھائی بھائی کے نعرے گونج رہے تھے۔ اس وقت تک ہندوستان کی ساری توجہ پاکستان کی طرف تھی۔ اگر وہ اپنا دفاع مضبوط بنا رہا تھا تو بھی اُس کے سامنے پاکستان تھا چین نہیں۔ جب چین کی طرف سے حملہ ہوا تو ہندوستان فوراً یہ حقیقت جان گیا کہ چین کے ساتھ پہاڑی سرحد کی حفاظت کیلئے ان کے پاس کوئی مناسب ہتھیار نہیں ہے۔ اب ہندوستان نے برطانیہ اور امریکہ سے ہتھیار طلب کر لیا تاکہ چینیوں کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔

امریکیوں کا یہ خیال تھا کہ ہم نے پاکستان کو اب تک جتنا بھی اسلحہ دیا ہے وہ سارا اسلحہ اشتراکیت کے خلا ف استعمال ہو گا کیونکہ اُن لوگوں نے پاکستان کا دفاع اس مقصد کی خاطر مضبوط بنایا تھاکہ اُس کی مدد سے اشتراکیت کا راستہ روکا جا سکے اور اب جب اُس منطقہ میں ایک اشترکی ملک نے ایک آزاد ملک پر حملہ کیا ہے تو چاہئے کہ یہ ہتھیار اُس کے خلاف استعمال ہو جائیں اور اُس کی ضرور یہ خواہش ہو گی کہ پاکستان ان حالات میں ہند کے ساتھ اپنے تنازعات بھُلا کر اس مشترکہ دشمنی کے خلاف کھڑا ہو جائے اور وہ اگر ایسا کرنے پر آمادہ نہیں بھی ہے تو وہ ہتھیار جو ہم نے اُسے اشتراکیت کے خلاف استعمال کرنے کیلئے دے رکھے ہیں کم ازکم وہ ہتھیار تو ہندوستان کو فراہم کرے تاکہ وہ اُن کی مدد سے اشتراکیت کا مقابلہ کر سکے۔ اُن دنوں میں انگلستان میں تھا۔ اُدھر انگلستان کے اخبارات اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹس سے ایسا ظاہر ہو رہا تھا کہ امریکہ کی طرف سے اس سلسلے میں پاکستان پر ایک طرح کا دباؤ ہے۔ یوُں چین اورہندوستان کی جنگ کا خاتمہ تو اس انداز سے ہوا مگر اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سردمہری کا شکار ہوئے کیونکہ اب تک تو امریکہ اس بات پر سو فیصد مطمئن تھا کہ پاکستان کمیونزم کے خلاف اُس کا سب سے قابل اعتبار اور وفادار دوست ہے۔

امریکہ کو پاکستانی اکابرین کے وہ تمام عہدوپیمان بھی یاد تھے کہ وہ (پاکستان حکام) تو اشتراکیت کے نظریاتی مخالف ہیں اور یہ کہ پاکستان اشتراکیت کی راہ میں اسلام میں مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتا ہے تو ان حالات میں وہ (امریکہ) ششدر رہ گیا۔ وہ یہ سوچ رہا تھا کہ میں نے پاکستان میں ہتھیاروں کے انبار تو اس لئے لگائے ہیں کہ یہ لوگ کمیونزم کے خلاف ہماری جنگ لڑیں گے۔ مگر یہ تو امریکی پالیسی کے حق میں درست نہیں ہے، قوت ہند کے خلا ف استعمال کرنے لگا ہے۔ میں نے جو اپنی تجوریوں کے منہ ان کے لئے کھول رکھے تھے وہ سب کچھ میری مرضی کے خلاف جا رہا ہے اور آج جبکہ ہندوستان ایک کمیونسٹ ملک کے ساتھ براہ راست اُلجھا ہوا ہے یہ (پاکستان) اُس کی بجائے اُس اشتراکی ریاست کا ساتھ دے رہا ہے۔ اب اگر اس ساری صورتحال کا جائزہ امریکی نقطہ نظر سے لیا جائے تو وہ تو اس سلسلے میں مکمل طور پر حق بجانب تھے کہ اُس کی دی گئی امداد کمیونزم کی مخالفت کی بجائے اُس کے حق میں استعمال ہو رہی تھی۔

دوسری جانب سے ہندوستان نے بھی امریکہ سے کہا کہ ہم نے تو بہت پہلے آپ کو آگاہ کیا تھاکہ آپ کی یہ ساری مدد (خواہ وہ دفاعی مدد ہے یا اقتصادی) اشتراکیت کی بجائے ایک دن ہمارے خلاف استعمال ہو گی کیونکہ پاکستان ہند دشمنی میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور اس موجودہ صورتحال نے امریکی بدگمانی میں اور بھی اضافہ کر دیا۔ مگر ادھر پاکستان کا یہ حال تھا کہ جب امریکہ نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ چین کے خلاف ہندوستان کے ساتھ کھڑا ہوگا اور یہ کہ وہ اُس کی (ہند کی) ہر طرح کی مدد بھی کرے گا تو اُس کے (امریکہ کے) اس اقدام کا فیلڈ مارشل صاحب نے بُرا مان لیا اور امریکی سرکار پر یہ واضح کر دیا کہ ہندوستان کے ساتھ فوجی امداد کا واضح مقصد پاکستان کے ساتھ عداوت ہے۔ امریکہ جب یہ جان گیا کہ پاکستان ان حالات میں بھی ہندوستان کے ساتھ دشمنی کرتا ہے اور چین کے خلاف ہند کی امریکی امداد پر بھی ناراض ہے تو اُس نے پاکستان پر زوردے کر کہا کہ اگر آپ لوگوں نے مقررہ مدت میں یہ ہتھیار ہندوستان کے حوالے نہیں کئے تو پھر امریکہ خود آ کر ایسا کرے گا۔ وہ خود آ کر آپ لوگوں سے ہتھیارچھین کر ہند کو دے دے گا۔ کہتے ہیں کہ جب چین کو اس الٹی میٹم کا پتہ چل گیا تو سمجھ گیا کہ اس طرح تو پاکستان بیچ میں سے نکل جائے گا تو جب اگلی صبح لوگ نیند سے بیدار ہوئے تو چین میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکل چکا تھا اور ہندوستان میدان میں رہ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

بغدادی پیر، کل اور آج

تحریر: محمد عمران ڈیوڈ جونز کا ناول شاید بہت سے قارئین نے پڑھا ہو گا …