”لر او بر یو افغان“

تحریری: گلاب دین آفریدی

قوم پرست قوتوں اور عوامی نیشنل پارٹی کا ہر وقت یہ نعرہ رہا ہے کہ ”لر او بر یو افغان“، اس نعرے پر وقتاً فوقتاً تنقید اور اپنی مرضی کی تشریح کرنے کی کوششیں بھی ہوتی آ رہی ہیں۔ ”لر او بر یو افغان“ کا نعرہ بنیادی طور پر دو ملکوں یعنی افغانستان پاکستان اور افغان قوم سے تعلق رکھتی ہے۔ سب سے پہلے اس نعرے کے وجود میں آنے یا ضرورت پڑنے کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب پختون خطے یا افغان قوم کے خلاف مغلوں اور انگریزوں نے سازشیں کر کے ایک ہی قوم کو دو بڑے ٹکڑوں سمیت مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور ان کے جانے کے بعد بھی پختون قوم دو ملکوں افغانستان اور پاکستان میں منقسم ہو کر رہ گئی یہاں تک کہ ان کی قومی شناخت، زبان کلچر اور حقوق کے ساتھ ہر وقت اور ہر طرح ناانصافی برقرار رکھی گئی تو قوم پرست رہنماؤں خصوصاً قوم پرستی کے مرکز ولی باغ کی طرف سے ”لر او بر یو افغان“ کا نعرہ لگا کر قومی پہچان اور قومی تشخص سمیت تمام حقوق کے حصول کے لیے عملی کوششوں کو کامیاب بنانے کا آغاز کیا گیا۔ اور عوامی نیشنل پارٹی کے منشور کا اہم نقطہ ہدف اور نعرہ ”لر او بر یو افغان“ بھی اپنی قومی بقا اور تشخص کے حوالے سے ہی ہے۔ ویسے تو عوامی نیشنل پارٹی کا بیانیہ دنیا کی تمام کمزور مظلوم و محکوم اقوام اور طبقوں کی ترجمانی کرتا ہے کیونکہ پختون قوم کے حقوق و تشخص کو درپیش چیلنجز باقی اقوام سے زیادہ بھی ہیں اور ساتھ ساتھ ”اول زان دے بیا جھان دے“ والی حقیقت بھی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ”لر او بر یو افغان“نعرے کا مطلب پاکستان میں مقیم پختونوں کو یہاں سے الگ کرنا نہیں اور نہ ہی یہ نعرہ علیحدگی کا ہے بلکہ اس کا مطلب پاکستان اور افغانستان میں ”لر او بر“ دونوں طرف بسنے والی قوم ایک افغان قوم ہے اور یہ حقیقت تقریباً 5 ہزار سال سے ہے۔ یہاں ملی مشر اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ جناب اسفندیار ولی خان کا بیان اور بیانیہ ساری افغان قوم کا بیانیہ ہے کہ میں افغان تھا، افغان ہوں اور افغان رہوں گا۔ اسی پختون بیلٹ سے تعلق رکھنے والے بعض کج فہم، کم علم، مفاد پرست اور پروپیگنڈے کے شکار لوگ اس نعرے پر بے جا اعتراضات اٹھاتے ہیں جو اس سے پہلے صوبے کا نام پختون خوا رکھنے کے وقت بھی ایسے ہی فضول اور بھونڈے خدشات ظاہر کرتے تھے کہ نام کی تبدیلی سے یکجہتی اور فیڈریشن کو خطرات ہو سکتے ہیں حالانکہ ان عناصر کا اصل مطلب و مقصد یہ تھا اور ہے کہ ہر وقت اور ہر طرح سے پختون قوم کے حقوق اور تشخص کو کمزور کر کے اپنے مذموم مقاصد پورے کیے جائیں۔ صوبے کا نام پختون خوا رکھنے سے نہ تو ملک کو کوئی نقصان ہوا اور نہ پختون قوم کو بلکہ الٹا مملکت پاکستان کے اہم صوبے کے عوام کی محرومیوں میں کمی آ گئی اور ان کو ان کا جائز بنیادی حق قومی تشخص مل گیا۔ اسی طرح ”لر او بر یو افغان“ نعرے سے بھی افغان قوم کو فائدہ ہو گا اور جب افغان قوم کو فائدہ ہو گا تو لامحالہ دونوں پڑوسی اور برادر اسلامی ملکوں افغانستان اور پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا جس میں دو طرفہ بے اعتمادی کا خاتمہ دونوں طرف جاری تباہ کن دہشتگردی و انتہا پسندی جیسے بنیادی اور اہم ترین مسائل پر قابو بھی پایا جا سکتا ہے۔ دونوں طرف بسنے والی ”لر او بر“ افغان قوم کو نظر انداز کرنے کی کوشش اور خیال مزید نقصان کا باعث بن سکتا ہے جو دونوں پڑوسی ممالک اور لر او بر افغان قوم کے مفاد میں نہیں۔ دنیا میں وقتاً فوقتاً قلیل مدت میں مختلف وجوہات اور واقعات کی وجہ سے ملکوں کے بننے کا، بڑھنے کا اور گھٹنے کا عمل ہمہ وقت جاری رہا ہے اور رہتا ہے جبکہ کسی قوم کے بڑھنے کا گھٹنے یا ختم ہونے میں کئی صدیاں لگ جاتی ہیں۔ اور یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ دنیا کی جو اقوام اپنے تشخص اور وجود کو باوقار انداز میں زندہ برقرار رکھ پاتی ہیں کامیابی ان کے قدم چومتی ہے اور اپنے ملکوں کو طاقتور بنا پاتی ہیں۔ کسی قوم کے حقوق اور قومی تشخص کے خلاف اقدامات سے گریز کرنا ہو گا اور تمام اقوام کو جائز مقام اور حقوق دے کر ہی ملک کو مضبوط تر بنایا جا سکتا ہے۔ یہاں 1965 میں کمزور ملک پاکستان اور مضبوط عوام کی بھارت سے جنگ جیت پر جبکہ1971 میں پہلے کی نسبت مضبوط ملک مگر کمزور اور ناراض عوام کی وجہ سے وحشتناک شکست پر منتج کیوں ہوئی، اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں رہنے والے لر پختون شہریت یعنی ملک کے لحاظ سے پہلے برصغیر اور اب پاکستانی ہیں جبکہ قومیت کے لحاظ سے افغان تھے افغان ہیں اور افغان ہی رہیں گے۔ جغرافیائی لحاظ سے اہم اسلامی ممالک کے اہم حصوں پر آباد اہم افغان قوم اگر مضبوط، خوشحال اور مطمئن ہو گی تو آٹومیٹک دونوں ممالک کے مسائل میں انتہائی کمی آ ئے گی، پورے خطے میں خوشحالی آ سکتی ہے۔ یاد رہے کہ دیگر اقوام کی آنکھوں میں افغان قوم کی جغرافیائی حیثیت، معدنیات اور وسائل کٹھک رہے ہیں تبھی تو یہاں کے عوام میں مختلف پروپیگنڈوں کے ذریعے نفاق پھیلا کر نفرت بھی پھیلا رہے ہیں اور پختون قوم کی قومی جدوجہد کو بھی سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر اب دنیا اور پختون قوم سمجھ چکی ہے کہ افسانوی اور دیومالائی پروپیگنڈوں سے کام نہیں چلایا جا سکتا۔ کیونکہ لر او بر یو افغان کا نعرہ لگانے والوں کے اکابرین نے ہی اس ملک کو انگریزوں سے آزادی دلائی ہے اور اس ملک پاکستان کو سچے دل سے تسلیم بھی کیا ہے اور اس ملک کی بقا اور مضبوطی کی خاطر ہر وقت اور ہر طرح کی قربانیاں دی ہیں اور وطن دشمنوں کے مذموم عزائم اور سازشوں کو خاک میں ملایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

editorial

حکومت، اپوزیشن عوام کی سوچیں

حکومت مخالف تحریک پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے الزام لگایا ہے کہ فارن …