مولانا کو اتنا ایزی بھی نہ لیں – حماد حسن

آزادی مارچ کے حوالے سے اگر یہ کالم صرف خیبرپختونخواہ کی حد تک بھی محدود رہے تو تیاریاں ملاحظہ ہوں کہ اگست کے مہینے میں جمعیت علماء اسلام کے تمام اضلاع (بشمول قبائلی اضلاع)کے امراء اور جنرل سیکرٹریز کے مسلسل اور مشترکہ اجلاس ہوتے رہے جن میں انتہائی نچلی سطح حتی کہ محلے اور مسجد تک کے تنظیمی معاملات اور تیاریوں پر بھی طویل مشاورت اور بحث ہوتی رہی۔ صوبائی شوری کے اجلاس کے بعد مقرر کردہ کمیٹی نے صوبے کے تمام اضلاع کے دورے بھی کئے جس نے آزادی مارچ کے لئے مقامی تنظیموں سے مشاورت بھی مکمل کر لی۔جمیعت علما اسلام کے ذرائع بتاتے ہیں کہ پانچ اکتوبر کو دوسری مذہبی جماعتوں اور دھڑوں سمیت جے یو آئی کے علما پر مشتمل علماء کنونشن پشاور میں منعقد ہو گا جس کے دوسرے دن یعنی چھ اکتوبر کو جے یو آئی کی صوبائی شوری کا اجلاس ہو گا۔ جمعیت کے پارٹی ذرائع اعتماد کے ساتھ بتاتے ہیںکہ علماء کنونشن میں صوبے بھر سے کم از کم پانچ ہزار با اثر علمائے کرام شامل ہوں گے۔اس کا مطلب ہے کہ مولانا مذہبی کارڈ کسی بھی طور اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے بلکہ اسے ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گے اور شاید اسی حربے کو وہ سب سے زیادہ کارگر بھی سمجھتے ہیں تبھی تو مذہبی طبقے پر ان کا فوکس بہت ہے۔ اگر چہ پی ٹی آئی حکومت نے اس سلسلے میں کچھ حلیفوں کو میدان میں اتارنے کی کوشش بھی کی لیکن بات بنتی نظر نہیں آ رہی ہے۔مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی پارٹی کی حتی الوسع کوشش ہے کہ مذہبی طبقے کو آزادی مارچ سے پہلے پہلے ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کریں۔ بعض ذرائع کے مطابق انھیں اس سلسلے میں خاطر خواہ کامیابی بھی مل چکی ہے کیونکہ با اثر علمائے کرام اور مذہبی مدارس کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ وہ خود کو اس با رسوخ اور طاقتور مذہبی دھارے سے الگ کریں جو ان کی بقا کا ضامن ہے اور جو طاقت کے مراکز اور پارلیمان میں ہمیشہ اس طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتا رہا ہے۔گو کہ بعض لوگ مخصوص مجبوریوں کے پیش نظر دوسری سمت میں کھڑے نظر آئے لیکن باخبر لوگوں کو معلوم ہے کہ انہیں اپنی جماعتوں میں شدید دباؤ اور رد عمل کا سامنا اس حد تک ہے کہ لاوا پھٹنے کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کے با اثر رفقاء بھی مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ رابطے میں ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن کا رویہ حیرت انگیز طور پر روز بروز جارحانہ ہونے کے جہاں بہت سے اسباب ہیں وہاں ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ طاقتور سیاسی قوت نوازشریف کی حمایت کے بعد با اثر مذہبی طبقہ بھی اس سے کسی خاص فاصلے پر نظر نہیں آ رہا ہے (مسلم لیگ اگر چہ گو مگو کا شکار ہے لیکن نوازشریف مولانا کے اشتعال کے پس منظر کو بخوبی سمجھ رہے ہیں اور وہ آخر میں ہر صورت آزادی مارچ کی حمایت کریں گے۔) گویا پنجاب کا سیاسی اور خیبر پختونخواہ کا مذہبی کارکن چند دنوں بعد مشترکہ طور پر مولانا کے عقب میں دکھائی دے گا۔یہ وہی منظرنامہ ہے جو مولانا کے رویے میں ایک اعتماد کے ساتھ ساتھ جارحانہ پن بھی بھرتا جا رہا ہے۔ابھی دو دن پہلے مولانا فضل الرحمٰن نے دھمکی دی کہ اگر ہمیں پر امن احتجاج سے روکنے کی کوشش کی گئی یا احتجاج میں شامل سیاسی کارکنوں پر تشدد ہوا تو ہم پنڈی اسلام آباد جانے والے تمام راستوں پر قبضہ کرلیں گے۔ اس بیان سے سیاسی ٹمپریچر کا اندازہ باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔نہ صرف مولانا فضل الرحمٰن بلکہ ان کی پوری جماعت بھی ذہنی طور پر اس وقت شدید جارحانہ پن کے زیر اثر دکھائی دیتی ہے بلکہ وہ اس کا اظہار کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے مثلاً تیرہ اکتوبر کو پشاور میں جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ وہ پندرہ ہزار سیکیورٹی گارڈز تربیتی مارچ کریں گے جو خیبر پختونخواہ سے نکلنے والے قافلوں کی سیکیورٹی پر مامور ہوں گے جبکہ اگلے دن یعنی چودہ مارچ کو پشاور میں مفتی محمود سیمینار بھی منعقد کیا جا رہا ہے اور ظاہر ہے مولانا اپنی طاقت کا پیغام دینے کی بھر پور کوشش کریں گے۔گویا آنے والے دنوں میں مولانا مسلسل سیاسی ٹمپریچر کو بڑھاتے رہیں گے۔ابھی ابھی مولانا فضل الرحمٰن کے با اعتماد رفیق کار اور جے یو آئی کے سیکرٹری اطلاعات جلیل جان کا فون آیا تو میں نے قدرے احمقانہ انداز میں فوراً آزادی مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے حیرت انگیز اعتماد کے ساتھ کہا کہ ہمارا ٹارگٹ ہے کہ اسلام آباد میں پندرہ لاکھ سیاسی کارکن پورے ملک سے داخل کریں لیکن غالب امکان ہے کہ اس سے بھی زائد تعداد ہم صرف خیبر پختونخواہ سے لے کر چل پڑیں گے۔میں نے ان کے دعوے کا مذاق اڑایا تو انہوں نے اسی اعتماد کے ساتھ کہا کہ آپ میری گاڑی میں بیٹھ کر گنتے جائیں پشاور اور مردان میں خیبر مومند، باجوڑ، دیر، چترال، سوات، بونیر اور دوسرے اضلاع سے آئے قافلے صوابی انٹر چینج پر پہنچ کر مطلوبہ تعداد پورا نہ کر سکے تو موقع پر ہی سزا دے دیں لیکن یاد رہے کہ اس میں جنوبی اضلاع یعنی ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت، کرک اور وزیرستان وغیرہ بھی شامل نہیں کیونکہ وہ خوشحال گڑھ اور تلہ گنگ کے راستے نکلیں گے۔ میں اس اعتماد پر حیران سے زیادہ پریشان ہی ہونے لگا۔گویا آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت دن بدن گرم اور موسم ٹھنڈا ہوتا جائے گا تاہم اس کنٹراسٹ سے بننے والے سیاسی منظرنامے کے خدوخال ابھی واضح نہیں لیکن کشمیر کا معاملہ، بدترین معاشی صورتحال، شدید مہنگائی، ناکام خارجہ پالیسی اور عوامی توقعات کے بلند بام محل کا انہدام کم از کم موجودہ حکومت کو تیزی کے ساتھ اس خارجی دروازے کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کی دہلیز پر اپوزیشن جماعتیں ایک مدت سے ہمدردی اور رد عمل کے ہتھیار سے لیس تیار کھڑی ہیں لیکن کیا معلوم کہ اس دروازے میں کوئی اجنبی ہی داخل ہو کیونکہ ہماری تاریخ تو ایسے عجوبوں سے بھری پڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اے این پی کی تعلیمی خدمات

تحریر: سردار حسین بابک تعلیم کسی انسان کا بنیادی حق ہے اور تعلیم کے بغیر …

2 تبصرے

  1. Tahir Ali Khan (Official)

    اگر مارچ پرامن رہتا ہے تو پھر کوئ بڑا مسئلہ نہیں ہوگا لیکن اگر خاکم بدہن تشدد اس میں در آتا ہے تو پھر اس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں

  2. Tahir Ali Khan (Official)

    اچھا لکھا ہے آپ نے۔ اللہ خیر نازل فرمائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔