نیا میڈیا اور طاقت کا بدلتا ہوا توازن

تحریر: حماد حسن

اگر ہم قدرے جرات کے ساتھ تاریخی حقائق کے قریب رہ کر بات کریں تو اسلام آباد میں اسی وزیراعظم ہاؤس کے آس پاس ہی ہمیشہ اسی حربی حصے کا قیام رہا جس نے بارہا وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں پھلانگنے اور وزیراعظم کو حراست میں لینے کے ساتھ ساتھ چند قدم کے فاصلے پر (تب) قائم الیکڑانک میڈیا کے واحد ذریعے پی ٹی وی (ریڈیو بھی) ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کیا اور خواہش کے مطابق ہی ہمیشہ خبر کو موڑ دیا۔ یہ اس زمانے میں ایک آسان اور قابل عمل ہدف ہوتا کیونکہ تب نہ ہی کوئی متبادل میڈیا میدان میں موجود تھا نہ میڈیا کے دوسرے برق رفتار ذرائع کا اتنا وسیع اور ناقابل قابو پھیلاؤ تھا۔ اس حوالے سے ایک روداد ذوالفقار علی بھٹو کابینہ کے وزیر مولانا کوثر نیازی نے اپنی کتاب ”اور لائن کٹ گئی“ میں تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے کہ ضیا الحق کا مارشل لا لگانے اور بھٹو کا تختہ الٹنے کی رات کارروائی کس طرح اور کس انداز میں کی گئی کیونکہ مولانا کوثر نیازی اس عمل کے عینی شاہد بھی تھے اور متاثرہ سیاستدان بھی، جبکہ دوسرا بڑا حوالہ ممتاز صحافی مطیع اللہ جان کا دو حصوں پر مشتمل کالم بارہ اکتوبر کا عینی شاہد ہے۔ جو مشرف کا مارشل لا نافذ کرنے اور نواز شریف کا تختہ الٹنے کے حوالے سے اسی شام کی چشم دید گواہی ہے کہ کس طرح وزیراعظم ہاؤس پر دھاوا بولنے اور وزیراعظم کو گرفتار کرنے کے ساتھ ہی پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر پر بھی قبضہ کر لیا گیا بلکہ پی ٹی وی کے چیئرمین پرویز رشید بھی اپنے ہی منطقے یعنی پی ٹی وی آفس میں حراست میں لئے گئے تھے اور یہ بھی غالباً تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ افراتفری کی وجہ سے اسی رات خبر نامہ بھی نہیں چلا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خبر کو روکنا بلکہ اپنی خواہش کے مطابق موڑنا ہمیشہ سے آمرانہ قوتوں کی اولین ترجیح ہی رہی یہاں تک کہ مارشل لا کے ہنگام وزیراعظم ہاؤس کے ساتھ ساتھ الیکڑانک میڈیا کا واحد ذریعہ پی ٹی وی (ریڈیو بھی) اور اہم اخبارات ہی پہلی ٹارگٹ ہوتے اور ہمیشہ ایسا ہی کیا جاتا رہا لیکن یہ ارتقائی عمل اور بدلتے ہوئے زمانے کے حقائق ہی ہیں کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر قدغن اور کنٹرول کے باوجود بھی خبر کی منہ زور لہر میں کمی نہیں آ رہی ہے کیونکہ کہ متبادل اور آزاد سوشل میڈیا اپنے حریف اور روایتی میڈیا کو نہ صرف بے دست و پا بلکہ بہت حد تک غیر اہم بنانے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عتاب کے شکار عصر حاضر کی طاقتور اپوزیشن پی ڈی ایم خصوصاً مسلم لیگ نون کو عوام سے رابطہ کاری کے حوالے سے پہلی بار کسی دقت اور پریشانی کا سامنا ہرگز نہیں۔ گویا یہ ڈیجیٹل ارتقا ہی ہے جس نے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں سے خبر کو آزادی کا راستہ دیا اور با اثر قوتوں سے ان کا روایتی اور طاقتور مورچہ (میڈیا) نہ صرف چھین لیا بلکہ اس حوالے سے اسٹبلشمنٹ کے حریفوں کو کمک بھی فراہم کر دی۔ ناقابل تردید حقائق تو یہ ہیں کہ اس مورچے کے ہاتھ آتے ہی اپوزیشن روایتی حصار توڑنے میں بہت حد تک کامیاب بھی رہی حتی کہ نواز شریف کا متنازعہ لیکن حد درجہ جارحانہ رویہ بھی اسی کامیابی کے مرہون منت ہی ٹھہرا اور بیانیے کو عوامی مقبولیت بھی اسی کے سبب ہی ملی جبکہ مریم نواز کے ساتھ ساتھ نواز شریف کے دوسرے حلیف مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو زرداری، محمود خان اچکزئی اور اختر جان مینگل بھی ارتقائی عمل اور بدلتے ہوئے زمانے کے حقائق کو مد نظر رکھتے اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دن بدن جارحانہ لہجہ اختیار کرتے بلکہ آگ اگلنے لگے ہیں لیکن آواز دبانے اور کمیونیکیشن توڑنے کا زمانہ کب کا لد چکا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر یوٹیوب چینلز اور ٹویٹر کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ مخالف صحافی چھائے ہوئے ہیں (سچ تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی اسی آزادی اور پھرتی نے ٹی وی مکینک اور اخباری ہاکر کا روزگار بھی چھین لیا ہے جو بہرحال کئی حوالوں سے ایک اہم انڈیکیشن ہے) اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر برسرپیکار صحافیوں کو ایک حیرت انگیز پذیرائی بھی مل رہی ہے گویا پراپیگنڈے کے حوالے سے توازن ماضی کی مانند اب یک طرفہ نہیں رہا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ مخالفین کا پلڑا کہیں زیادہ بھاری دکھائی دیتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سیاستدان تو پہلے ہی سے منفی پراپیگنڈے کی زد میں مسلسل رہے لیکن اسٹیبلشمنٹ پہلی بار ان تلخیوں کا سامنا کرنے لگی ہے جو اسے ایک اعصابی تناؤ کی زد میں لانے کے لئے کافی ہے۔ سوشل میڈیا نے نہ صرف اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست اور صحافت کو راستہ اور قوت فراہم کر دی بلکہ اس کے نتیجے میں ہوتی رائے سازی نے سٹیٹس کو اور سیاسی نظام کے حوالے سے نہ صرف خوفناک سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ جمہوری اور سیاسی قوتوں کی جانب مبالغہ آمیز عوامی لہر کا رخ موڑنے میں حد درجہ اہم کردار بھی ادا کیا جو ناسازگار حالات کے باوجود بھی سیاسی قوتوں کو پسپائی سے بچانے کا موجب بنا لیکن حقیقت بہرحال یہ ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود بھی اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ طاقت کا توازن مکمل طور پر دوسری سمت میں جھک گیا ہے تو وہ یقیناً ایک قابل رحم بے خبری سے دوچار ہے کیونکہ اس راز کو سمجھنے کے لئے کسی بقراطی دانش کی ہرگز ضرورت نہیں کہ معاشی بربادی بیڈ گورننس اور عوامی مقبولیت سے محرومی کے باوجود بھی موجودہ حکومت کا تسلسل کیوں کر قائم ہے؟ حد درجہ متنازعہ نیب کی طاقت اور متنازعہ کردار کا محور کہاں ہے اور اس کا منبع کہاں سے پھوٹتا ہے؟ مقبول سیاسی جماعتوں کو کس نے اور کیوں پیچھے دھکیلا؟ اور ریگولر میڈیا شکنجے میں کیوں ہے؟ اگرچہ طاقت اور فیصلوں کے مراکز پر ابھی تک اسٹبلشمنٹ کا روایتی غلبہ برقرار ہے تاہم ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ عوامی رابطہ کاری اور پیغام رسانی کے حوالے سے اپوزیشن کو کسی مشکل کا سامنا نہیں۔ ایک مضبوط اور شفاف عدالتی نظام کے بغیر اسٹبلشمنٹ کی طاقت اور متنازعہ کردار پر سوالات اٹھانا آپ کو پیشہ ورانہ دیانت اور ذہنی تسکین تو فراہم کر سکتا ہے لیکن مثبت اور ٹھوس نتائج ہرگز نہیں اس لئے جب تک عدالتی نظام اور مضبوط عدلیہ کے حوالے سے کوئی خفیف سا سوال بھی باقی رہے گا تب تک ملک کی صحیح سمت کا تعین کرنے میں ہمیں من حیث القوم شدید مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر ہم مایوسی اور تلخی کی بجائے امید اور اثبات کے زاویے سے معاملات یعنی تیزی کے ساتھ بدلتے مناظر پر نگاہیں مرکوز رکھیں تو اس امکان کا تناسب بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ جوں ہی پرخلوص اور بہترین ذہن بروئے کار آئے تو حقائق کے ادراک کا راستہ اور اس پر چلنے کا سلیقہ بھی ایک ساتھ میسر آئے گا اور یہی اس ملک کی بقا اور سلامتی کا ضامن بھی ہو گا۔
نوٹ: حماد حسن انڈیپنڈنٹ اردو لندن کے لئے لکھتے ہیں، یہ کالم ان کی خصوصی اجازت سے شائع کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مارشل لاء کے اعلان کے بعد (دوسرا حصہ) مترجم: نورالامین یوسفزئی

یہ مسلم لیگی جس مُردار مال پر ٹوٹ پڑے تھے بالآخر اس لُوٹ مار نے …