یہ ہے سیاستدان اور ڈکٹیٹر کا فرق

تحریر: حماد حسن

دو ھزار اٹھارہ کے فتنہ انگیز انتخابات کے بعد وزیراعظم بننے والے عمران خان نے اپنی افتاد طبع کے مطابق جس طرح اپنی سیاست کو گالم گلوچ اور حقائق سے دوری پر استوار کیا اسی طرح اپنے پیروکاروں کی تربیت بھی کی اور انھیں ایک عجیب و غریب سیاسی شعور فراہم کیا جہاں سے بے سروپا اور حقائق سے ماورا سوالات بہم اٹھ رہے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سوالات صرف جمہوریت، سیاست اور سیاستدانوں پر اٹھائے جا رہے ہیں، اس کی پہنچ نہ کسی عہدِ آمریت تک ہے نہ ھی کسی آمر کے گریبان تک، الزام و زم کی قمچیاں بنتی زبانوں کی زد میں نہ ایبڈو کا سرکس سجاتا ایوب خان آتا ہے نہ ملک کو دولخت کرتا یحیی خان نہ کوڑوں اور پھانسیوں کے بازار سجانے والا ضیا الحق اور نہ ملک کو آگ میں جھونک کر فرار ہونے والا پرویز مشرف بلکہ صرف وہ لوگ آتے ہیں جو جمہوری جدوجہد کے حامی بنتے ہیں۔ یہ سوالات ہیں بھی کیا؟ محض بے معنی بہتان ترازی، گالم گلوچ اور چور چور کی بے بنیاد تکرار جسے دہرانے والوں کو خود بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور ان کا مقصد و منزل کیا ہے بلکہ ”طوطا زبانی“ انہیں بے سمت راہوں اور بے درک سنگ میلوں کے بھٹکتے راھی بنا چکی ہے۔ ظاہر ہے ان بے سر و پا سوالات پر بحث ایک کار فضول ھی ہے لیکن آمروں اور سیاستدانوں کا تقابل کرنے میں حرج کیا ہے؟ ایوب خان اس ملک کا پہلا ڈکٹیٹر تھا۔ اس کا تعلق ھری پور کے ایک عام گھرانے سے تھا لیکن دس سال تک بزور قوت حکومت کرنے کے بعد وہ باعزت طور پر گھر چلے گئے تو آمریت کی روایت اور اپنے بیٹوں کے لئے انڈسٹریل ایمپائر (گندھارا انڈسٹریز) کے علاوہ گوہر ایوب سے عمر ایوب تک ہمارے لئے وراثت میں چھوڑ گئے۔ اور پھر ٹرکوں پر ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“ جیسے دلفریب جملے کے ساتھ اس کی تصاویر ”کہیں“ سے اچانک نمودار ہونے لگیں۔ یحیی خان وہ ڈکٹیٹر تھے جس نے الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے والے شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار سونپنے سے انکار کیا حتی کہ ملک کو دو لخت کیا لیکن جیل تو دور کی بات ہے کوئی جے آئی ٹی تک نہیں بنی یہاں تک کہ حمود الرحمن کمشن رپورٹ بھی پردہِ اخفا میں چلی گئی کیونکہ یحیی خان کوئی جمہوری سیاستدان نہیں بلکہ ایک آمر تھے۔ ضیا الحق اس ملک کے ایک خوفناک ڈکٹیٹر تھے، منتخب وزیراعظم کا نہ صرف تختہ الٹ دیا بلکہ اسے پھانسی پر بھی چڑھایا، پیپلز پارٹی کے کتنے کارکنوں پر کوڑے برسائے اور کتنوں کو پھانسیاں دیں لیکن موصوف کا بیٹا آج بھی ایوب خان کے خاندان کی مانند اسمبلی میں بیٹھا نظر آئے گا۔ رہا بھٹو کا عدالتی قتل اور اس کے بارے میں تحقیقات تو اسے ہاتھ لگانا تو اس کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی بس میں بھی نہ تھا۔
سویہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا
پرویز مشرف نے اپنے پیشہ ور جنرل ضیا کی روایت نبھائی اور منتخب وزیراعظم نواز شریف کا نہ صرف تختہ الٹا بلکہ خاندان سمیت جیلوں میں ڈالا اور بعد میں جلا وطن کیا، موصوف ایک پراسرار جنگ ایک ٹیلیفون کال پر اپنے ملک لے آیا اور دو عشروں تک اس ملک کے دروبام خون سے نہلا دیئے لیکن کمردرد نے اس کے گرد ایسا حصار کھینچا کہ آئین و قانون قریب بھی نہ پھٹک سکے۔ اب آتے ہیں سیاست اور سیاستدانوں کی جانب، ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان ایک بھرے جلسے میں مار دیئے گئے پتہ نہیں اس نوابزادے نے وراثت میں اپنی نفیس اور پڑھی لکھی بیوی رعنا لیاقت علی خان کے علاوہ کیا چھوڑا۔ کسی کو نہیں معلوم۔ سیاستدان فیروز خان نون وزیراعظم نہ بنتے تو سونے کی چڑیا گوادر شاید آج بھی دوسرے ملک اومان کا حصہ ہوتا،
فیروز خان نون کی وراثت کا تو کسی کو نہیں معلوم لیکن ملک کے اس عظیم محسن کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا سب کو علم ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بے حوصلہ موسموں اور پرآشوب حالات میں وزیراعظم بنے تو پہلا کام یہ کیا کہ بد ترین دشمن ھندوستان کی قید سے وطن کے نوے ہزار بیٹوں کو چھڑا کر لے آئے اور آمریتوں کے شکار ملک کو ایک متفقہ آئین دیا لیکن یہی محسن ایک تاریک رات کو پھانسی پر جھول گئے اور اس کی بیوی اور بیٹی کو وراثت میں قید و بند ہی ملی، صنم بھٹو کے علاوہ تمام بہن بھائی غیرطبعی موت مرے، بے نظیر بھٹو ساری عمر آمریتوں سے ٹھکراتی رہی اور پھر ایک سڑک پر خون میں لت پت اس کی لاش پڑی تھی جبکہ شوہر ھمیشہ قید و بند ھی بھگتتے رہے کیونکہ وہ ایک سیاستدان ہے اور اس ملک میں صرف عمران خان یا شیخ رشید مارکہ سیاست کی اجازت ہے ورنہ آپ یا تو غدار ہیں یا چور! نواز شریف بھی چونکہ ایک سیاستدان اور جمہوریت کے شدید حامی ہیں، اس لئے بیک وقت غدار بھی ہیں اور چور بھی۔ سو یہ غدار ملک کو دفاعی طور پر مضبوط بنانے کے لئے ایٹمی دھماکے کرے یا ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے سی پیک اور موٹرویزکا جال بچھا دے، رہے گا غدار ہی یا سزا صرف اقامے پر کاٹتا رہے گا کیونکہ وہ ایک ”چور ہے“ اور یہ غدار اور چور کھبی جلا وطنی کاٹے گا تو کھبی قید و بند کاٹتا رہے گا اور وہ بھی کسی ”کمردرد“ کے بغیر کیونکہ وہ قمیض شلوار میں ملبوس اور عوام سے ووٹ لیتا ایک جمہوری سیاستدان ہی ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ جہاں سے ڈکٹیٹر مشرف خوفزدہ ہو کر بھاگ رہا تھا وہاں یہ ”چور اور غدار“ مشکل حالات میں اپنی بیٹی سمیت وطن لوٹ کر سزا کاٹنے واپس آ رہا تھا اور یہ صرف وزرائے اعظم پر کیا موقوف فاطمہ جناح، عبدالغفار خان، ولی خان، جی ایم سید، اکبر بگٹی، بزنجو، مفتی محمود، مودودی، عطا اللہ مینگل اور جام ساقی تک ایک دراز سلسلہ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سیاسی کارکن بھی شامل ہیں۔ کوئی غددار ٹھہرا تو کوئی چور! سو کہنا یہی ہے کہ سیاستدانوں کی کمزوریوں پر بے شک سوال اٹھائے جائیں لیکن دوسری سمت موجود آمر طبقے کو سوال سے مبرا سمجھنا نہ ہی انصاف ہے اور نہ ہی دانائی کیونکہ وہ زمانہ تو کب کا لد چکا جب ذھن سازی ریڈیو پاکستان یا پی ٹی وی کے خبرنامے کے ذریعے کروائی جاتی تھی بلکہ ٹرکوں کے پیچھے کسی ڈکٹیٹر کی تصویر اور اس پر لکھے کسی دلفریب جملے کے ذریعے بھی۔ کیونکہ یہ اس زمانے میں آسانی کے ساتھ قابو آنے والا چلتا پھرتا میڈیا تھا لیکن ڈیجیٹل انقلاب اور سوشل میڈیا کی آمد نے روایتی حربوں کے ذریعے ذھن سازی کو اڑا کر رکھ دیا ہے۔ اور اسی باخبری نے شعور کے در دروازے بھی کھول دیئے ہیں۔
نوٹ: حماد حسن یہ کالم ایک غیرملکی ویب سائٹ کے لئے لکھتے ہیں جسے خصوصی اجازت کے تحت روزنامہ شہباز شائع کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کوا، چڑیا اور میدانِ سیاست کے شاہین

تحریر: سلطان خان ٹکر ضمنی انتخابات کے بعد اپوزیشن پراعتماد سی لگتی ہے اور یہ …