میں ذوالفقارعلی بھٹو کا نواسہ اور بی بی کا بیٹا ہوں! – تحریر: ماخام خٹک

حالیہ گلگت بلتستان کے انتخابی دورے کے موقع پر ایک جلسے میں بلال بھٹو زرداری نے یہ الفاظ ایک بار پھر دہرائے ہیں کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بی بی کا بیٹا ہے، وہ کوئی کھلاڑی نہیں کہ یو ٹرن لے گا۔ بلاول نے یو ٹرن تو نہیں لیا ہے لیکن یوں ٹرن لیا ہے اور وہ یوں کہ آصف علی زرداری کی دریا دلی سمجھیں یا ان کی سیاسی دوراندیشی کہ بلاول کو صرف بلاول زرداری نہیں بنایا بلکہ بلاول بھٹو زرداری کے مشترکہ ناموں سے سیاسی میدان میں متعارف کروایا لیکن ہم نے جب بھی بلاول کو خود کو متعارف کرواتے دیکھا ہے تو وہ خود کو صرف بھٹو خاندان سے جوڑتا ہے، لیکن اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو بلاول کا ددھیال بھی ایک سیاسی گھرانا ہے۔ حاکم علی زرداری اپنے وقت کے ایک اچھے پروگریسیو اور ترقی پسند سیاست داں تھے، نیپ کی سیاست ہو یا پھر اے این پی کے ساتھ وابستگی ہو یا پھر اس کے بعد سندھ کی صوبائی سیاست، وہ ایک اچھے سیاست داں کے روپ میں نظر آئے۔

میرے خیال سے اپنے سیاسی کرئیر میں ان پر کسی کرداری تہمت کا داغ دھبہ لگا اور نہ کسی سازشی یا کج سیاسی ہتھکنڈوں کے مرتکب رہے نہ کسی آمر کی کاسہ لیسی کی اور نہ ہی سیاسی خوشامدگری کے زینے پر چڑھ کر اپنے قد کاٹھ کو اونچا کیا۔ اگر وہ چاہتے تو وہ بھی سندھ کے دیگر سیاسی وڈیروں کی طرح وہ سب کچھ کر سکتے تھے جو ان کے دیکھا دیکھی انھوں نے کیا، لیکن وہ کسی سے اس سلسلے میں مرعوب نہیں ہوئے اور وہی کیا جو ان کو پسند تھا۔ اسی طرح ان کے اکلوتے صاحب زادے سابق صدر پاکستان، موجودہ پیپلز پارٹی کے کو چئیرمین، بی بی کے شوہر اور بلاول، بختاور اور آصفہ کے والد محترم جناب آصف علی زرداری جن پر لاکھ الزامات سہی لیکن کیا وہ الزامات ان پر کسی عدالت میں ثابت ہوئے یا کسی عدالت سے سزایافتہ ہیں؟ اگر ان پر کوئی جرم ثابت ہوتا یا ان کو کسی عدالت سے سزا ملتی تو وہ پاکستان کے سپریم کمانڈر یا صدر مملکت بنتے؟ ان کو گارڈ آف آنر نہیں ملتا، ان کو بیرونی سفراء اپنے اسناد اور وزرا اپنے اعتماد پیش نہ کرتے، وہ اگر بے اعتماد ہوتے تو بے نظیر جیسی بااعتماد عورت اور بلاول کی والدہ ماجدہ ان سے شادی نہ کرتیں۔ دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو ذوالفقار علی بھٹو لاکھ بڑے لیڈر سہی، قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں، بقول سابقہ چیف جسٹس مسٹر جسٹس نسیم حسن شاہ جوڈیشل قتل ہی سہی پر عدالت سے ثابت تو ہے، ان کے کردار پر ایک جھوٹا ہی سہی داغ تو ہے، وگرنہ خالص الزام پر زرداری کو کیوں مجرم گردانا جائے؟

اب بلاول بھٹو زرداری اور ان کی سیاسی تربیت کرنے والوں اور سیاسی تقریریں لکھنے والوں کو ذرہ بلاول کے ددھیالی سیاسی گھرانے کی طرف بھی توجہ مبذول کرانی چاہئے، زرداری نے تو دونوں بہنوں عذرا پیچوہو اور ادی فریال تالپور کو پیپلز پارٹی میں ایک اہم رول دیا ہے اور اپنے ساتھ اپنے خاندان کو جوڑے رکھا ہے۔ اگر بلاول سمجھتا ہے کہ اس کا نانا ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی ماں محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں وزیر اعظم رہے ہیں تو اس کا والد محترم بھی تو اسی ملک کے صدر رہے ہیں اور پاورفل صدر رہے ہیں اور اس کے دادا بھی ایک منجھے ہوئے سیاست داں رہے ہیں اور پھر اس کا نام بھی تو اس کے پردادا کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اب یہ بلاول کی احساس کمتری ہے یا سیاسی داؤ پیچ، لیکن خاندانی پس منظر ایک ایسی چیز ہے کہ وہ پیچھا نہیں چھوڑتی، وہ کہیں نہ کہیں ضرور اپنی جھلک دکھاتی ہے اور پھر خاندانی پس منظر برا بھی نہ ہو تو پھر اس پر چپ رہنا اور دوسرے یا متوازی کو گلے لگانا ایک بہت بڑے تضاد کو ہوا دیتی ہے۔ ہوا سے کسی کی آنکھوں میں دھول، مٹی تو گرائی جا سکتی ہے پر حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، اور حقیقت یا کڑوا سچ یہ ہے کہ اب لوگ یہ اپنے جوان قائد بلاول بھٹو کے منہ سے سننا چاہتے ہیں کہ وہ یہ ضرور کہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ہے کیونکہ وہ ان کا نواسہ ہے اور یہ بھی کہتا رہے کہ بی بی کا بیٹا ہوں کیونکہ وہ تو ہے، بالکل اسی طرح سے اب آنے والے جلسوں یا پریس کانفرسسز میں یہ بھی بولنا شروع کرے کہ وہ حاکم علی زرداری کا پوتا ہے جو کہ ہے، وہ کسی آمر کی کاسہ لیسی کیوں کرے، وہ اصولوں پر سودے بازی کیونکر کرے اور ساتھ ساتھ دھڑلے سے بولے کہ وہ آصف علی زرداری مرد آہن کا بیٹا ہے اور جو کہ ہے، وہ نہ جیلوں سے ڈرتا ہے اور نہ جھوٹے مقدموں سے، امید ہے بلاول بھٹو زرداری اپنے جیالے اور جانثار عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

Khanzeb

قومیت کا انتشار ۔۔۔ مولانا خانزیب

قومیت کی تعریف میں دیگر بنیادی اکائیوں کے ساتھ اقتصادی اور معاشی اشتراک کسی قوم …