”میں آخری تھا، آخری رہ گیا”

شروع کرتا ہوں خداوند تعالی کے نام سے جو بخشنے والا اور مہربان ہے۔
میں ہشتنگر کے اتمانزئی گاؤں میں سال 1890 میں پیدا ہوا۔ اس وقت تاریخ پیدائش لکھنے کا رواج نہ تھا اور نہ کوئی لکھنا پڑھنا جانتا تھا اس لیے کسی نے میرا سنِ ولادت نہیں لکھا تھا لیکن ایک زبانی روایت کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ میں 1890 میں پیدا ہوا کیونکہ میری والدہ مرحومہ کہا کر تی تھیں کہ جب میرے بڑے بھائی ڈاکٹر خان صاحب کی شادی تھی تو میں گیارہ سال کا تھا اور ڈاکٹر خان صاحب کی شادی 1901 میں ہوئی تھی، اس حساب سے میرا سنِِ پیدائش 1890 ہے۔

میں والدین کا سب سے چھوٹا بیٹا ہوں۔ سب سے بڑی ہماری ہمشیرہ تھیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر خان صاحب تھے پھر میری دوسری بہن اور سب سے آخر میں میں پیدا ہوا۔ عموماً چھو ٹی اولاد سے والدین کی محبت زیادہ ہوتی ہے اس لیے میں انہیں بہت عزیز تھا۔ قدرت خدا کی پہلے میری بڑی بہن فوت ہوئیں پھر ڈاکٹر خان صاحب شہید ہوئے پھر میری دوسری بہن فوت ہو گئیں۔ میں سب سے آخری تھا اور آخری رہ گیا۔ اتمانزئی گاؤں پشاور سے بیس میل جانب شمال ہشتنگر کے درمیان دریائے سوات کے کنارے مشرق کی جانب واقع ہے۔ میرا تعلق محمد زئی قبیلے سے ہے جو ہشتنگر میں ابازئی سے لے کر نوشہرہ تک کے علاقے میں آباد ہے۔ یہ بہت خوبصورت اور سرسبز علاقہ ہے اور پٹھانوں کے بھائی چارہ کی تقسیم کی رو سے ہمارے دوسرے بھائیوں نے یہ علاقہ ہمیں خود عطا کیا۔ میری دادی صاحبہ یوسف زئی قبیلہ سے تھیں اور صوابی کے مرغز نامی گا ؤں کی رہنے والی تھیں اور میرے دادا صاحب محمد زئی قبیلہ سے تھے جو ہشتنگر کے اتمانزئی گاؤں کے تھے۔ میرے دادا صاحب بہت بڑے خان تھے۔ یہ قدرتی امر ہے کہ محمد زئی اور یوسف زئی قبائل کی شریک اولاد بہت لائق اور قابل ہو تی ہے۔ ان کی بیٹیاں بیٹوں سے زیادہ ذہین ہوتی ہیں۔

میری تین نو اسیاں لیڈی ڈاکٹر ہیں۔ دیگر نواسیوں میں کوئی ایم اے اور کوئی بی اے ہے۔ میری ایک بیٹی ہے جو بی اے بی ٹی ہے۔ میرا ایک چھوٹا بیٹا عبدالعلی ہے جسے میں لالی کہتا ہوں اس نے آکسفورڈ سے ایم اے کیا ہے۔ میرے دو بیٹے اور ہیں۔ بڑا عبدالغنی ہے جسے میں نے اعلی تعلیم کے لیے امریکہ بھیجا تھا، مجھے انگریزوں نے سال 1931 میں جیل بھیج کر میری جائیداد بھی ضبط کر لی تھی اس لیے مالی مشکلات کے سبب وہ اپنی تعلیم پوری نہ کر سکا اور واپس آ گیا۔ میرا دوسرا بیٹا عبدا لولی ہے جس نے سینئر کیمبرج پاس کیا ہے۔ یہ بہت ذہین اور لائق اور قابل ہے۔ یہ یورپ تعلیم حاصل کرنے نہیں جا سکا کیونکہ میں جیل میں تھا اور اس کی تعلیم بھی ادھوری رہ گئی۔ عجیب بات یہ ہے کہ میں بھی شاہی قیدی تھا، ڈاکٹر خان صاحب اور قاضی صاحب بھی تھے مگر حکومت ان کی اولاد کو تو تعلیمی وظیفہ دیتی رہی اور گھر کا خرچ بھی اور یہ شاہی قیدی کے ساتھ رعایت نہیں ایک قانونی حق تھا لیکن میرے بیٹوں کو حکومت نے تعلیمی وظائف سے محروم رکھا۔ میرے ایک بیٹے نے یوسف زئی قبیلہ کی لڑکی سے شادی کی ہے، دوسرے نے مومند اور تیسرے نے پارسی لڑکی سے شادی کی ہے۔ میری بیٹی نے کشمیری سے شادی کی ہے۔ میرے چار نواسیوں نے یوسف زئیوں میں شادیاں کی ہیں، دو نے خٹک قبیلہ میں اور ایک نے پنجاب میں پنجابی سے شادی کی ہے۔ ہم اپنی اولاد کی شادی دولت مندوں سے نہیں بلکہ شریفوں اور قابل لوگو ں سے کرتے ہیں، ہم اپنی اولاد کی شادیاں ان کی مرضی سے کرتے ہیں۔ تمام ہشتنگر کا علاقہ نہایت سرسبز اور شاداب ہے۔ رجڑ اور اتمانزئی گاؤں کے قریب دریا کے دوسرے کنارے پر ایک پرانے شہر کے آثار دریافت ہوئے۔

موضع رجڑ کے قریب دریا کے دو سرے کنارے ڈھیری شیخان کے قریب گندھارا تہذیب اور اس دور سے پہلے کے آثار ملتے ہیں۔ اس شہر کو پشکلاوتی کہتے تھے۔ یہ شہر بڑا تجارتی اور ثقافتی مرکز تھا، یہ دریا جو آج ڈھیری شیخان اور رجڑ کے درمیان بہہ رہا ہے، اس وقت ڈھیری شیخان کے مغربی جانب بہتا تھا اور یہ پرانا شہر ڈھیری شیخان سے لے کر موجودہ رجڑ تک پھیلا ہوا تھا۔ یہاں کے رہنے والے پٹھان تھے مگر بدھ مت کے پیرو تھے۔ بدھ مت یہاں سے سوات اورگلگت کے راستے تبت اور چین تک پہنچا اور پھیلا۔ بدھ مت کی چوتھی مذہبی کانفرنس بھی اسی جگہ ہوئی تھی۔ جو آ ثار ملے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے میں صنعت، تجارت، زراعت اور علم نے بہت ترقی کی تھی۔ یہ شہر نہ صرف گندھارا کی سیاست کا مرکز تھا بلکہ ایشیاء کے بیشتر حصوں کا تجارتی، صنعتی اور علمی مرکز بھی تھا۔ یہ شہر اٹک اور مارگلہ کے راستے ہندوستان کے ساتھ، سوات اور گلگت کے راستے کشمیر، تبت اور چین کے ساتھ منسلک تھا۔ دیر، چترال اور بدخشاں کے راستے وسطی ایشیاء اور وہاں سے یورپ کے ساتھ کابل قندھار اور سیستان کے راستے ایران، عراق، ترکی اور شام کے ساتھ اس شہر پشکلاوتی کے تعلقات تھے۔ یہ تجارتی اموال کی بڑی عظیم الشان منڈی تھی اور علوم کا گہوارہ تھا۔

میری والدہ صا حبہ بہت ہمدرد، سمجھدار، نیک سیرت اور خوش اخلاق خاتون تھیں۔ ہماری بہت بڑی زمینداری تھی۔ بڑا گھر تھا۔ ہماری بہت سی گائیں اور بھینسیں تھیں۔ گرد و نواح کے غریب لوگ لسی اور دہی کے لیے ہمارے ہاں آتے تھے اور میری والدہ ان کی خندہ پیشا نی سے پذیرائی کرتی تھیں، ان کو لسی اور دہی دیتی تھیں اور ان کے لیے ہر شام جدا سالن پکاتی تھیں۔ میرے والد کا نام بہرام خان تھا۔گاؤں کے خان تھے اور بڑے خان کے نام سے مشہور تھے۔ یہ دوسرے خوانین کی طرح نہ تھے۔ گاؤں میں ان کی جائیداد سب سے زیا دہ تھی لیکن یہ خان دکھائی نہیں دیتے تھے۔ وہ سمجھدار اور نیک پٹھان تھے، نہ کسی پر خود ظلم کر تے اور نہ ہی دوسرو ں کو کمزوروں پر ظلم کرنے دیتے، اگر ان پر کوئی ظلم زیادتی کرتا تو صبر سے برداشت کرتے تھے۔ انتقام کا جذبہ ان کے دل میں نہ تھا۔ اپنے بھائیوں اور چچا زاد بھائیوں نے ان کے ساتھ بہت زیادتیا ں کی ہیں، والد صاحب میں ان سے انتقام لینے کی طاقت تھی مگر انتقام لینے کے بجائے وہ ان پر احسان کرتے، اور ان کو معا ف کر دیتے تھے اور ان سے حسن سلوک سے پیش آتے تھے۔ وہ نماز کے پابند، پرہیزگار اور مرنجان مرنج طبیعت کے مالک شخص تھے۔ نہایت صبر اور برداشت والے تھے۔

جب کبھی حجرے میں اجنبی مسافر آتے تو میرے والد صاحب نوکر چاکر کے موجود ہونے کے باوجود خود کھانے پینے کا سامان اٹھا کر حجر ے میں جاتے اور کہتے: یہ خدا کے مہمان ہیں مجھے خود ان کی خدمت کرنی چاہیے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ مہمان چلے گئے ہیں اور اپنے ساتھ لحاف اور بستر بھی لے گئے ہیں مگر والد صاحب ان کی اس حرکت پر ناراض نہ ہوتے اور خاموش رہتے ۔ والد صاحب دوسرے خوانین کی طرح حاکم پرست نہ تھے، وہ نہ حکام سے تعلق رکھتے اور نہ ہی ان کی خدمت کرتے۔ میرے دادا صاحب کا بھی یہی حال تھا۔ ان کا نام سیف اللہ خا ن تھا۔ جب انگریزوں نے بونیر پر قبضہ کرنے کی خاطر بونیر پر حملہ کیا اور جہاد شروع ہوا تو تمام خوانین نے انگریزو ں کی مدد کی مگر میرے دادا سیف اللہ خان نے قوم کی مدد کی تھی۔ اسی طر ح میرے پر دادا (جد امجد) عبید اللہ خان بابا آزاد خیال، حق گو اور مشہور بزرگ تھے۔
نوٹ: فخرافغان باچا خان کی برسی کے موقع پر ان کی خودنوشت سوانح عمری ”میری زندگی اور جدوجہد” سے ماخوذ

یہ بھی پڑھیں

editorial

ریاستی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے

عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے شہید ترجمان اسد خان اچکزئی کی شہادت پر اس وقت …