اداريه

اپوزیشن رہنماوں کی گرفتاریاں اور پاکستان سے پیغام


آج ایک بار پھر اپویشن کو نیب کی جانب سے دھچکا لگا ہے اور پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف کی بیٹی کو چوہدری شوگر ملز مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کرلیا گیا ہے،مریم نواز کی گرفتاری پر اگر ایک طرف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی تو حکومتی ممبران کی جانب سے اسے اپنے بیانیے کا فتح قرار دیا گیا ہے،مریم نواز شریف کو ایسے حال میں گرفتار کیا گیا ہے جب حکومت اپوزیشن سے یہ مطالبہ بھی کررہا ہے کہ ہمیں یک آواز ہوکر کشمیر کے معاملے پر بھارت کو جواب دینا ہے،مریم نواز شریف کی اس گرفتاری کا مقصد کیا ہوسکتا ہے؟کیا یہ واقعی ہی احتساب کا وہ عمل ہے جس احتساب کا وعدہ وزیر اعظم پاکستان نے الیکشن مہم کے دوران کیا تھا یا یہ واقعہ بقول اپوزیشن کشمیر کے ناکام پالیسی سے توجہ ہٹانے کیلئے کیا گیا ہے،خیر یہ تو وقت ہی ثابت کریگا کہ مریم نواز کو کیوں گرفتار کیا گیا ؟ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے حالات میں پاکستان بھارت کو یہ پیغام دے سکے گا کہ کشمیر اور دیگر قومی مسائل پر پاکستانی سیاستدان ایک پیج پر ہے ،یہ سوچنے کی بات ہے اور اس پر پاکستانی سیاستدانوں سمیت حکومت کو بھی سوچنا چاہیے کہ اندرونی معاملات کو ایک سائیڈ پر رکھ کر دنیا کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ پاکستانی سیاستدان اس وقت ملکی حالات پر ایک پیج پر ہے۔

مقبوضہ کشمیر اور نئی دہلی کے سیاسی تعلقات کا مستقبل


بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے بعد وہاں پر برسوں سے سیاست کرنے والے سیاستدانوں کا مستقبل کیا ہوگا؟اس اہم سوال کا ہم اگر صحیح طریقے سے جانچ پڑتال کریں تو ہمیں مقبوضہ جموں کشمیر میں سیاسی طور پر مستحکم مسلمان لیڈرشپ کا مستقبل بہت ہی تاریک نظر آتا ہے وہ محبوبہ مفتی ہو یا عمر عبد اللہ اور اُس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان دونوں سیاسی رہنماوں کا رجحان روز اول سے بھارت ہی کی جانب رہا ہے ،کشمیر میں جو بھی مزاحمت ہوئی یہ دونوں سیاسی رہنما اور اُن کی پارٹیاں اُس مزاحمت کا کبھی حصہ نہیں رہے۔مزاحمت کی سیاست وہاں پر روز اول سے حریت کانفرنس اور جماعت اسلامی نے کی ہے۔اب بھارتی فیصلے کے بعد عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی جیسے سیاستدانوں نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ وہ غلط تھے کی پاکستان کے مقابلے میں انہوں نے بھارت کا انتخاب کیا تھا، اور اگر اس فیصلے کو برقرار رکھا گیا تو کشمیر پھٹ جائیگا۔اس بڑی تبدیلی کی وجہ اگر ہم نے جانچنی ہو تو وہ یہ ہے کہ کشمیر کے یہ سیاسی خاندان اب مکمل طور پر اپنے بیانیے کو لیکر ناکام ہوگئے ہیں کیونکہ کشمیر کے اندر جو پارٹیاں مزاحمت کی سیاست کررہی تھی اب اُن کا بیانیہ اور بھی مضبوط ہوجائیگا کیونکہ اُن پارٹیوں کا اب یہ موقف ہوگا کہ ہم تو روز اول سے یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان یا آزادی اور ان پارٹیوں کے مقابلے میں مفتی صاحب کی سیاسی پارٹی ہو یا شیخ عبد اللہ کی سیاسی پارٹی یا اُن کی اولادیں ہو اُن کا رجحان ہمیشہ سے دہلی کی جانب ہی رہا ہے،اب کشمیر میں صورتحال یہ بنتی جارہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی سیاسی طور پر وہ پارٹیاں جگہ لے گی جو مزاحمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہو اور نئی دہلی میں تو ویسے ہی اس وقت برسراقتدار جماعت ہندو انتہا پسند ہے،حریت کانفرنس کی جانب سے بھی یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اب وہ ہر حال میں پاکستان کا ہی حصہ بنیں گے تو کشمیر کے سیاست پر ہم اگر نظر دوڑائے تو وہاں کی صورت حال میں کافی تبدیلی رونما ہورہی ہے اور اب دیکھنا ہوگا کہ نئی دہلی کے انتہا پسند ہندو کس طریقے سے کشمیر پر اپنا یہ فیصلہ مسلط کرتے ہیں کیونکہ بھارت کے اس فیصلے سے بی جے پی کشمیر میں عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی جیسے سیاسی پارٹنرز کو بھی کھو چکے ہیں۔یہاں پر کانگریس کا کردار بھی صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ تک ہی محدود ہوگا،وہ مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنائیں گے،کشمیریوں کی ہمدردیاں بٹورنے کی کو شش کرینگے لیکن کشمیر کا کوئی سیاسی حل بھارت کے ساتھ بھی ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا اور بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ کشمیر کا معاملہ اب اور بھی گھمبیر ہوتا جائیگا۔

0 0 vote
Article Rating

یہ بھی پڑھیں

sadar Jamal

ہے بظاہر میرے ہونٹوں پے تبسم اگر

ایک بار ایک یہودی فقیر اپنے مسائل سے بے حد گھبرا گیا۔ کون نہیں گھبراتا؟ …

Subscribe
Notify of
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x