آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

وطن عزیز کی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف کی آمد کے بعد ایک نئے طرز سیاست کا آغاز ہوا ہے جس کا محور مخالفین پر الزام تراشیوں، دشنام طرازیوں اور مخالف جماعتوں کی قیادت کیخلاف نازیبا زبان کا استعمال ہے۔ علاوہ ازیں دروغ گوئی، بلند و بانگ اور غیر حقیقی دعوے اور خوشنما وعدے کر کے پھر ان سے انحراف ہی اس جماعت کی سیاست لگتی ہے۔ ان وعدوں اور دعوؤں سے انحراف کو یوٹرن کا نام دیا گیا ہے اور اس یوٹرن کو ایک بڑے رہنماء کی دانشمندی، جرات اور بیباکی سے تعبیر کیا جا رہا ہے جو سراسر غلط ہے۔ یہ اسی جماعت کی قیادت ہے جو پارلیمنٹ جیسے مقدس ادارے کی توہین ہی کی مرتکب نہیں ہوئی بلکہ اس کیخلاف پارلیمان پر حملے کا کیس بھی چل رہا ہے جو صحیح معنوں میں چل نہیں، رینگ بھی نہیں بلکہ لیٹا ہوا ہے۔ درایں اثناء کسی کو بھی یہ ہوش اور یہ خیال یا سرے سے پرواہ ہی نہیں کہ ایسا کرتے ہوئے ہم اپنی آنے والی نسلوں کیلئے کیا مثال چھوڑ رہے ہیں اور دنیا کی دیگر اقوام کو ہم کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس میں جو کچھ ہوا کیا وہ ہمارے لئے باعث شرم نہیں، کیا اس طرز عمل کا دفاع ممکن ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو آخر یہ یقین کب آئے گا، کب انہیں احساس ہو گا کہ اب وہ حزب اختلاف کی پارٹی نہیں بلکہ مقتدر جماعت ہے اور ایوان کی قیادت کے ساتھ اس کے کاندھوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیا اس ایوان کو چلانا وزیراعظم اور ان کی جماعت کی ذمہ داری نہیں، اگر نہیں تو پھر تحریک انصاف کو اقتدار سے الگ ہونا چاہیے لیکن اگر اس سوال کا جواب اثبات میں ہے تو پھر مخالفین پر مسلسل الزام تراشیاں کرکے وہ آخر کون سا ایجنڈا آگے لے کر جانا چاہتی ہے، کس کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے،کیا تحریک انصاف چین کی طرح یک جماعتی نظام کی خواہاں ہے؟ اگر ایسا ہے تو تحریک انصاف کی قیادت کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ خواب اس کا خواب ہی رہے گا قوم جسے کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دے گی۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مخدوش تر ہوتی جا رہی ہے، ملک میں مہنگائی کا جن مکمل طور پر بوتل سے باہر آچکا ہے، پٹرولیم مصنوعات، گیس اور بجلی کی اول تو قلت جیسی محسوس ہوتی ہے، ترسیل ہو بھی تو قیمتیوں میں ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے، آٹا، چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ بھی دن بہ دن غریب کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں، صحت، تعلیم اور دیگر شعبہ ہائے جات زندگی میں موجودہ حکومت کی کارکردگی بھی مایوس کن نہیں تو لائق تحسین بھی نہیں، ملک میں اساتذہ ہوں، ڈاکٹرز ہوں، طلبہ ہوں، وکلاء ہوں یا دیگر طبقات ہر کوئی برسراحتجاج نظر آتا ہے، سب سے بڑھ کر نئے اضلاع کی صورت میں ایک طویل، کٹھن اور صبر آزما سفر درپیش ہے لیکن حکومت بجائے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کے مخالفین پر الزام تراشیوں میں مصروف ہے، ملک کے موجودہ حالات کا سارا بار سابقہ حکومتوں کے سر ڈال کر وہ خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش ہی نہیں کر رہی بلکہ قوم کو گمراہ کرنے میں بھی مصروف ہے۔ ہم سجھتے ہیں کہ ماضی کی حکومتیں اور ماضیٰ کے حکمران بھلے کرپٹ اور بدعنوان ہی سہی وہ کم از کم سیاسی اقدار، روایات اور اخلاقیات کا تو پاس رکھتے تھے، دلائل کے ساتھ اپنا موقف پیش کرتے تھے اور جو بھی سٹینڈ لیتے تھے تو اس پر چٹان کی طرح ڈٹ جاتے تھے، یوٹرن نام کی چڑیا سے ان کے فرشتے بھی نابلد اور ناواقف تھے۔ اس لئے موجودہ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اس ایوان کے تقدس کا خیال رکھیں جہاں اس ملک کے عوام انہیں بھیج چکے ہیںالزام تراشیوں کیلئے نہیں بلکہ اس ملک اور اس قوم کو ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن کرنے کیلئے۔ جناب وزیراعظم! قوم گھبرانے ہی نہیں لگی ہے بلکہ وہ مایوس بھی ہونے لگی ہے۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*