تھا جس کا انتظار یہ وہ سحر تو نہیں

قیام پاکستان کے وقت سے لے کر ماضی قریب تک خیبر پختونخوا اور افغانستان کے درمیان بفر زون یا سینڈوچ بنے علاقوں کو حال ہی میں جب صوبے میں ضم کیا گیا تو جہاں نئے اضلاع کے عوام نے سکھ کا سانس لیا اور حکومت سے ہزاروں توقعات وابستہ کیں،حکومت نے بھی بلند وبانگ دعوے کئے اور ان لوگوں کو طرح طرح کی یقین دہانیاں کرائیں، وہاں نہ صرف خیبرپختونخوا کی سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے بلکہ ملک کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی اس تاریخی پیشرفت کا خیر مقدم کیا گیا لیکن افسوس کہ ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد جہاں حکومت کی نااہلی بری طرح سے عیاں ہو گئی ہے وہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے اضلاع کے عوام میں تشویش اور بے چینی بڑھ رہی ہے اور وہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نئے اضلاع کے عوام کی تشویش، بے چینی بھی بجا ہے اور وہ بجا طور شکوک و شبہات میں مبتلا ہو رہے ہیں کہ ایک طرف اگر ٹانک میں جنوبی وزیرستان کا ایک قبیلہ قریباً ایک ماہ سے برسر احتجاج ہے تو گزشتہ چند روز سے شمالی وزیرستان کی عوام نے بھی خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں چند روز سے لوگ الگ سے دھرنا گزیں ہیں لیکن ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ جہاں الگ الگ مقامات پر بیٹھے ان مطاہرین کے پاس اپوزیشن جماعتوں کے رہنماء تو گئے ہیں، ان کے ساتھ اظہار یکجہتی ہی نہیں بلکہ اسمبلی میں ان کے لئے آواز اٹھائی ہے اور اٹھا بھی رہے ہیں لیکن مجال ہے جو حزب اقتدار میں سے کسی عہدیدار یا حکام میں سے کوئی بھی انہیں پوچھنے تک گیا ہو چہ جائیکہ ان کی دادرسی کی جاتی یا یہ کہ ان کے مسائل سنے اور ہنگامی بنیادوں پر حل بھی کیے جاتے یا کم از کم مظاہرین کو نظر آتا کہ حکومت ان کے مسائل حل کرنے کیلئے عملی طور پر کوشاں ہے۔ حکومت کے اس رویے، اس سلوک اور اس طرز عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ وزیرستان ہو یا ضلع خیبر اور یا پھر نئے اضلاع کے دیگر علاقے ان کے مسائل بڑی حد تک مشترک ہیں، بدقسمتی سے وہاں پر آج بھی سیکیورٹی کے مسائل ہیں بلکہ بعض علاقوں میں تو حالات آئے روز مخدوش تر ہوتے جا رہے ہیں، معاوضوں کی ادائیگی کا مسئلہ ہے کہ ان کے مکانات، حجرے، دکانات، مارکیٹیں غرض سارا کاروبار متاثر ہوا ہے، ان لوگوں کو نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرنا ہے، وہاں پر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، تعلیم، صحت اور اس طرح کی دیگر بنیادی ضروریات درکار ہیں، وہاں پر بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی ہے لیکن بجائے اس کے کہ حکومت اپنے وعدوں یا دعوؤں کو پورا کرتی وہ آئین اور قانون کی پاسداری تک میں بری طرح سے ناکام رہی ہے۔ نئے اضلاع میں بلدیاتی نظام کا خواب بھی تاحال تشنہ تعبیر ہے۔ حکومت اور ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ وہ نئے اضلاع کے عوام کی شکایات سنیں کیونکہ ان لوگوں کا مقصد یہی ہے کہ حکمرانوں تک نہ صرف اپنی آواز پہنچائیں اور اپنے حقوق حاصل کرسکیں اس لئے پشاور، لنڈی کوتل اور ٹانک کے مظاہرین کے ساتھ نہ صرف مذاکرات کئے جائیں بلکہ ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں پورا کرنے کیلئے عملی اقدامات بھی کئے جائیں۔ نئے اضلاع کے عوام کی تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ یہ لوگ جب کسی تنازعہ کے حوالے سے جرگہ پر آتے ہیں تو پھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے تاوقتیکہ اپنی اقدار و روایات کے مطابق حل پر فریقین متفق ہو جائیں۔ پڑوسی ملک افغانستان میں جاری صورتحال اور آج ہونے والے امن معاہدے جیسی تاریخی پیشرفت کے تناظر میں حکومت سے یہ توقع بے جا نہیں کہ خطے کے بدلتے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے اضلاع میں مستقل بنیادوں پر امن و آشتی اور ترقی و خوشحالی کی جانب سفر تیزی سے طے کرے اور ظاہر ہے کہ اس پورے عمل میں عوام کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا جس کیلئے وہ آمادہ بھی نظر آتے ہیں لہٰذا حکومت کو اپنی دلچسپی اور سنجیدگی کا مظاہرہ اور مزید تاخیر سے مکمل گریز کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں

دیکھتے ہیں آگے ہوتا ہے کیا؟۔۔۔ سنگین ولی

کرونا وائرس کی وباء نے عالمی طاقت کے توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ پرانے گلے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔