بابڑہ، عزم آج بھی جوان ہے

جب سے یہ دنیا معرض وجود میں آئی ہے اور اس پر نوعِ انسانی کو بسایا گیا ہے تب سے لے کر آج تک عالم انسانی کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو امن و امان، عدل و انصاف، اور مساوات کی مثالیں خال خال ہی ملتی ہیں جبکہ اس کے برعکس دنیا کے مختلف خطوں، مختلف اقوام کی تواریخ جبرواستبداد، جور و ستم، سفاکیت اور بربریت سے بھری پڑی ہیں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو شاذ نادر ہی کیا شاید ہی کوئی ایسی مثال پیش کی جا سکے کہ طاقتور سے طاقتور اور جابر قوموں یا حملہ آوروں کے خلاف مظلوم سے مظلوم، مجبور اور کمزور سے کمزور اقوام نے اپنی رہی سہی مدافعت نہ کی ہو، کوئی کوشش یا فکری و عملی اور مسلح جدوجہد نہ کی ہو بلکہ تاریخ کا طالب علم جانتا ہے کہ اس طرح کے حالات اور صورتحال میں ہمیشہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا گیا یا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ تاریخ میں ایسی بیشتر مثالیں بھی پائی جاتی ہیں جب کمزور اور قلیل تعداد کو طاقتور اور کثیر تعداد کے خلاف برتری اور ظفرمندی حاصل ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں اگرچہ ایسی مثالیں بھی کم پائی جاتی ہیں جب کسی قوم نے لڑائی کے بعد ہتھیار ڈالے ہوں، اپنی شکست تسلیم کی ہو اور اس کے بعد فاتح نے ان کا قتل عام کیا ہو لیکن ایسی نظیر ڈھونڈنا اگر ناممکن نہیں تو نہایت مشکل ضرور ہے کہ کسی فریق نے سرے سے جنگ کی تمنا ہی نہیں کی، کوئی ارادہ بھی ظاہر نہیں بلکہ جنگ کیا خود کو مسلح تک نہیں کیا، الٹا لڑائی یا جنگ کی بجائے دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھایا اور اس کے جواب میں ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا ہو، کیا ایسی کوئی مثال دنیا کی کوئی بھی قوم، کوئی بھی ملک پیش کر سکتا ہے؟ لیکن بدقسمتی سے، انتہائی افسوس کے ساتھ ہمیں یہ کہنا پڑ رہا ہے، اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے، بلکہ مذہبی نظریے کی بنیاد پر بننے والے دنیا کے صرف دو ممالک میں سے ایک، مملکت خداداد پاکستان میں، اگر مبالغہ آمیزی سے گریز بھی کیا جائے تو، ایسی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ المیہ بلکہ یہ ہے کہ ملکِ عزیز کی پہلی سالگرہ سے دو دن قبل ہی چارسدہ کے گاؤں بابڑہ میں اس ریت، روایت اور سلوک کی طرح ڈال دی گئی جب انسانی، قانونی اور اخلاقی حق کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کے غیرقانونی، غیر انسانی، غیر اخلاقی اقدامات کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے خدائی خدمتگار تحریک کے کارکنوں پر انتہائی سنگدلی، بے حسی اور بے رحمی کے ساتھ ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا، نہتے اور بے گناہ لوگوں پر گولیوں کی بارش کی گئی، کئی بے گناہ نوجوانوں، بوڑھوں یہاں تک کہ خواتین اور بچوں کو بھی اپنے خون میں نہلایا گیا، وہ دن اور آج کا دن ایسے واقعات ملک میں تواتر کے ساتھ پیش آتے رہے اور بدقسمتی کے ساتھ پشتون اور بلوچوں سمیت اس ملک کی مجبور اور محکوم اقوام ہی کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا۔ حالیہ دنوں میں بھی پاک افغان بارڈر چمن پر اس ریت اور روایت کو زندہ رکھا گیا جب نہتے مظاہرین پر گولیاں برسا کر ان کے گرم وجود اور لہو کو سنگدلی کے ساتھ ٹھنڈا کیا گیا۔ اس حقیقت سے کسے انکار کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھتے ہیں، تنازعات یا اختلافات کو ہمیشہ مذاکرات اور مکالمے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ہماری اس رائے یا سوچ کو تنقید کی بجائے حق پرستی اور حق گوئی سمجھا جائے، نیز اسے ہماری ریاست دشمنی محمول نہ کیا جائے بلکہ یہ آواز اس ملک و قوم کی خیرخواہی اور بھلائی کی آواز ہے۔ وگرنہ حق اور سچ آج بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے، آج بھی بابڑہ کے شہیدوں کی یاد اگر تازہ ہے تو ان کے ظلم و جبر کے خلاف پرامن مزاحمت کا عزم بھی جوان ہے۔ باچا خان کے پیروکار آج بھی وہاں کھڑے ہیں جہاں وہ اس ملک کے قیام کے بعد آئے تھے، خدارا ان پر الزامات اور ان کے ساتھ اختلافات کی بجائے ان کے پاس بیٹھ جائیں، وہ آج بھی امن، محبت کی زبان بولتے اور اس ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کیا گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا چاہئے؟

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں پارلیمنٹیرین کی آرمی چیف سے ایک میٹنگ ہوئی تھی۔ اس …

%d bloggers like this: