کورونا کیسز اور تحریک انصاف کی حکومت

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں جو چیزیں بڑھی ہیں ان میں مہنگائی، ناانصافی اور لاقانونیت کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے کیسز اور اس مرض کے باعث ہونے والی اموات بھی ہیں۔ گزشتہ روز تک ملک بھر میں کورونا وائرس کی تعداد دو لاکھ بیس ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار سے متجاوز ہو چکی ہیں لیکن مجال ہے جو حکمرانوں کے ماتھے پر کوئی بل آیا ہو یا ان کے کانوں پر جوں رینگی ہو، الٹا بلند و بانگ دعووں، بے بنیاد نعروں کے علاوہ اس ملک کی سادہ لوح مگر اپنے تئیں بڑی سیانی عوام کو سبز باغات دکھائے جانے کا سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایک کروڑ نوکریاں بانٹنے اور پچاس لاکھ گھر بنانے کی دعویدار جماعت کی حکوممت میں کئی محکمہ جات کو بند کرنے اور کئی آسامیوں کو ختم کرنے کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے۔ در ایں اثناء پہلے آٹا اور چینی بحران اور توانائی و ادویات سکینڈلز میں عمران خان کے قریبی ساتھیوں اور اتحادیوں کی تلویث کے الزامات ہی نہیں عائد کئے جاتے رہے بلکہ خود حکومت نے نام نہاد انکوائری رپورٹس کو منظر عام پر لاتے ہوئے اپنی واہ واہ کرانے کی ناکام کوشش کی تو حال ہی میں پٹرول کی قلت میں اپنے منظور نظر افراد کو نفع پہنچانے کے الزام کا بھی حکومت کو سامنا ہے، اربوں روپے کی بدعنوانیوں اور کرپشن اور سانحہ ساہیوال سے لے کر صلاح الدین اور اب عرفان اللہ آفریدی تک لاقانونیت اور ناانصافیوں کی داستانیں الگ اس حکومت کے دوران رقم کی گئیں۔ تحریک انصاف اور اس کے حکومتی عہدیداروں پر عائد کئے جا رہے ان الزامات میں کتنی حد تک صداقت ہے اس سے قطع نظر ایک چیز جو واضح طور پر محسوس کی جارہی ہے وہ حکومت کی بے بسی اور لاچارگی ہے جو آج تک کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں کوئی قابل ذکر کاردگی دکھانے میں اگر ایک طرف مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہے تو دوسری جانب آج تک اپنے ہر ایک فیصلے کو لاگو کرنے کے سلسلے میں بھی اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن مجال ہے جو وزیراعظم سمیت کسی بھی وزیر یا مشیر کے قول و فعل سے ندامت یا پشیمانی کا ہلکا سا بھی تاثر کبھی ملا ہو۔ ہاں ایک سابق وزیر اطلاعات اور موجودہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ہی ہیں جنہوں نے گویا نوشتہ دیوار پڑھ کر اپنی قیادت کو آخری مرتبہ خبردار کرنے یا اس خوابِ غفلت و حالتِ انکار سے جگانے یا نکالنے کی کوشش کی ہے لیکن بادی النظر میں یہی لگ رہا ہے کہ اپنی حکومت کی طرح فواد چوہدری بھی اپنی اس کوشش میں ناکامی سے دوچار ہیں۔ کیونکہ وزیراعظم عمران خان حسب معمول اور حسب عادت اجلاسوں پے اجلاس کئے جا رہے ہیں اور خالی خولی احکامات جاری کر کے اپنا حق حکمرانی جتانے کی بے سود کوششیں کئے جا رہے ہیں۔ دس ارب درختوں کا منصوبہ اگلی نسلوں کو فائدہ پہنچائے نہ پہنچائے یہ تو آنے والی نسلوں کو ہی معلوم ہو گا لیکن بلین ٹری سونامی منصوبے میں درجنوں آتشزدگی کے واقعات پر کب کی مٹی ڈالی جا چکی ہے، اس کی تحقیقات اگر اب نہ ہوئیں نہ سہی لیکن کل ضرور کی جائیں گی کیونکہ سچ کو چاہے جتنا بھی جھٹلایا جائے یا اسے چھپانے کی کوشش کی جائے وہ ایک نہ ایک دن سامنے ضررور آتا ہے۔ ہم دعا ہی کر سکتے ہیں کہ ہمارے نیشنل پارکس صحیح سلامت ہی رہیں کیونکہ وزیراعظم ان کو محفوظ بنانے کا اعلان کر چکے ہیں کیونکہ یہ حقیقت اب قوم کے بچے بچے کی زبان پر ہے کہ وزیراعظم نے جس بھی شعبے یا کام میں ہاتھ ڈالا اس کا ستیاناس کر کے ہی چھوڑا ہے۔ آخر میں وزیراعظم اور ان کی حکومت سے یہ سوال کئے بنا رہا نہیں جا رہا کہ اب تک حکومت اپنے کس قانون یا فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنا چکی ہے جو سیاحت کے لئے نئے علاقوں کو اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک متعلقہ قوانین تیار نہیں ہوتے، کیا وزیراعظم کو یہ فیصلہ قوانین کی تیاری سے بڑھ کر کورونا وباء کے ساتھ مشروط نہیں کرنا چاہئے تھا اور آخری سوال یہ ہے کہ کورونا وباء کی وجہ سے دو لاکھ سے زائد افراد کی تکالیف، مصائب اور اذیت اور ہزاروں خاندان کو ملنے والے صدمات، اپنے پیاروں کی جدائی کے غم و الم کا ذمہ دار کون ہے؟

Advertisements

یہ بھی پڑھیں

پشتو موسیقی کل اور آج

لفظ موسیقی کے تاریخی پس منظر یا وجہ تسمیہ کے بارے میں آج تک مختلف …

%d bloggers like this: