حج، کورنا وباء اور مفادات کا ٹکراؤ

چین کے شہر ووہان سے اٹھنے والا کورونا وائرس لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ جدید طرز معاشرت میں یکسر تبدیلی کا بھی باعث بنا ہے، دور جدید کے نظام ہائے زندگی کو متاثر کرنے والے اس کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی مذہبی تقریبات، رسومات اور اجتماعات پر پابندیوں کی طرح دین اسلام کے بنیادی رکن حج کی ادائیگی بھی ایک سوالیہ نشان بن گئی تھی جو بفضلِ تعالٰی بخیر و بخوبی مگر ایس او پیز کے تحت محدود پیمانے پر انجام پائی۔ ہماری دعا ہے کہ دینِ اسلام کے اس اہم اور بنیادی رکن کی اصل روح اور حقیقت سے صرف امت مسلمہ ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت اشنا ہو جائے۔ ہم حج کے کامیاب انعقاد پر سعودی حکومت کو بھی دادا و تحسین کی حقدار سمجھتے ہیں۔ جہاں تک ملکِ عزیز میں کورونا وائرس کی صورتحال کا تعلق ہے تو حکومت کی جانب سے آج بھی روز اول کی طرح غیرسنجیدگی اور لاپرواہی کا ہی مظاہرہ کیا جا رہا ہے، آج بھی اس حوالے سے حکومتی سمت واضح نہیں ہے، وزیراعظم سمیت دیگر حکومتی اراکین ایک ہی سانس میں اگر ایک طرف ”سب اچھا“ رپورٹ دے رہے ہیں، وبائی صورتحال اور نئے کیسز میں واضح کمی کی خوشخبری سنا رہے ہیں تو وہیں اس حوالے سے احتیاط برتنے اور قوم کو وبائی صورتحال کی سنگینی میں اضافے سے خبردار بھی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں جانے کن کن ناموں سے لاک ڈاؤن کے احکامات کی اطلاعات بھی نشر اور شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اس حوالے سے ہمارا وہی سیدھا سادہ سا سوال ہے جو ہم اس سے قبل بھی بارہا پوچھ چکے ہیں کہ کیا ہماری ٹیسٹنگ استعداد میں اضافہ ہوا ہے اور کیا ہمارے پاس لاکھوں نہ سہی ہزراوں افراد کا ڈیٹا بھی موجود ہے اور فواد چوہدری کی سربراہی میں ماہرین کیا سائنسی بنیادوں پر اس کا تجزیہ کر کے وزیراعظم اور حکومت کو رپورٹ کرتے ہیں جو حکومت کی جانب سے اس طرح کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وزیراعظم آج بھی وہی مصنوعی اور بناوٹی بیانات، اعلانات اور اقدامات کر کے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ قوم کو اب کانفلیکٹ آف انٹرسٹ (مفادات کے ٹکراؤ) کا لالی پاپ دے کر مزید نہیں ورغلایا جا سکتا بلکہ اس طرح کے اقدام پر قوم خصوصاً نوجوان اب کپتان کی ”ٹیم سلیکشن“ کی صلاحیت پر سوالات اٹھانے لگے ہیں۔ سوال بنتا بھی یہی ہے کہ جب ان لوگوں کو صحت اور ٹیکنالوجی جیسی اہم ذمہ داریوں کے لئے ہائر کیا جا رہا تھا تو تب مفادات کے ٹکراؤ کے اس اصول کو کیوں مدنظر نہیں رکھا گیا تھا؟ حکومت نے مشیر برائے صحت پر عائد بیس ملین ماسک کی سمگلنگ کا الزام بھی آج دھونے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ بھارت کے ساتھ ان کے معاملات میں حکومت کو مس ہینڈلنگ اب نظر آئی ہے، کیا ان کے خلاف کسی طرح کی انکوائری کی جائے گی اور پھر اسے بھی پبلک کر کے اپنی واہ واہ کرانے کا اہتمام کیا جائے گا یا ان سمیت حال ہی میں آٹا، چینی و دیگر سکینڈلز میں ملوث قرار پانے والی دیگر شخصیات کے خلاف بھی حقیقی معنوں میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ کپتان کی خوش قسمتی یا بدقسمتی بھی ایسی ہے کہ ان کا سارا سیاسی کرئیر عوام کی آنکھوں کے سامنے ہے، ان کے تمام دعوے، نعرے اور وعدے لوگوں کی جیبوں میں پڑے ہیں، وہ وزیراعظم کو دوہری شہریت کے حوالے سے ان کا موقف یاد دلاتے رہتے ہیں، غیر سیاسی اور غیرمنتخب لوگوں کو اہم ذمہ داریاں نہ سونپنے کا عہد بھی انہیں یاد ہے۔ اک سوال جو ہم پوچھنا نہیں چاہتے بلکہ ارباب بست و کشاد کو اس کا جواب بتانا چاہتے ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ یا بہ الفاظ دیگر کپتان کی وزارت عظمٰی اور سونامی اسی مفادات کے ٹکراؤ کا ہی تو نتیجہ ہے اس لئے اب وقت آ گیا ہے کہ اس ملک میں آزاد و صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد کر کے اہل لوگوں کے ہاتھ میں زمام اقتدار دیا جائے اور ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

”باچا خان شتہ، د قیوم خان خو سہ درک نہ لگی“ ۔۔۔ فیاض الدین

یہ تو ان کی خوش قسمتی تھی کہ گولیاں ختم ہوگئیں، ہم نے کسی کو …

%d bloggers like this: