پاکستان کی خارجہ پالیسی حالات کے تناظر میں (دسواں حصہ)

مترجم نورالامین یوسفزئی

خدائی خدمتگاروں کی ایک اور بدنصیبی یہ بھی تھی کہ وہ جغرافیائی طور پر ایک ایسے خطے میں آباد تھے جس کی سٹریٹجک اہمیت امریکہ کیلئے بھی وہی حیثیت رکھتی تھی جو کبھی برطانیہ کیلئے رکھتی تھی۔ یہاں سے وہ روس کی راہ روک سکتا تھا۔ نتیجتاً خدائی خدمتگاروں پر پاکستان دشمن، اسلام دشمن اور ہندو نواز جیسے بہتان لگا دیئے گئے جبکہ دوسری طرف افغانستان کے ساتھ خون کے رشتے سے بھی بندھے ہوئے تھے اور اس بناء پر روس کے ساتھی بھی قرار دیئے گئے۔ اب حکومت پاکستان اور امریکہ دونوں کے مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ ایسے قومی اور عوامی تنظیموں کا بھی راستہ روکا جائے تاکہ وہ اُس مقدس ملک میں اقتدار کے ایوانوں تک نہ پہنچ سکیں اور یوں یہ مقدس ریاست، اسلام اور مسلماون کی بیخ کنی کرنے اور اُن کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے امریکہ اور اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑی رہے اور اُس کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرتی رہی۔ اس مذموم مقصد کا تقاضا یہ تھا کہ اس ملک (پاکستان) میں عوامی حکومت کی بجائے نوکر شاہی اور فوجی سرکار کا راج ہو۔ ملک اور قوم بھاڑ میں جائیں، اُن کے سامنے تو اپنا ایجنڈا تھا۔ یوں یہ سب (نوکر شاہی وغیرہ) دونوں ہاتھوں سے ملکی دولت لوٹتے اور اقتدار کے مزے لیتے رہے اور ریاست امریکہ کے ہاتھوں گروی پڑی رہی۔ لیاقت علی خان کے قتل کے صرف دو دن بعد سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ کو امریکہ بھیج دیا گیا۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ وزیرخارجہ ظفراللہ نے خود بھی امریکہ میں حاضری دی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس قدر جلدی اس بات کی ضرورت کیا پیش آئی؟ جب لیاقت علی خان کا امریکہ کے ساتھ جھگڑا کشمیر پر تھا یہاں تک کہ وہ (لیاقت علی خان) اس مسئلے پر ہندوستان کے ساتھ باقاعدہ جنگ کرنے کیلئے بھی تیار تھا۔ امریکی سفیر کے ساتھ اُس کی جو آخری گفتگو ہوئی تھی وہ بھی کسی الٹی میٹم سے کم نہیں تھی۔ اب ایسا دکھائی دینے لگا کہ یہ نئی حکومت (جو کہ افسرشاہی پر مشتمل تھی) امریکہ بہادر اپنے حوالے سے تمام معاملات صاف کرنا چاہتی تھی۔ اس حوالے سے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ایچی سن اپنی یاداشت میں لکھتے ہیں کہ جب میری ظفراللہ کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی تو میں نے کسی بھی مرحلے پر اُس کے منہ سے کشمیر کا ذکر نہیں سنا بلکہ میرا اندازہ ہے کہ غلام محمد سرکار کی یہ سعی ہے کہ ایسے ذرائع تلاش کئے جائیں جن کی بدولت وہ امریکہ کے اور بھی قریب جا سکیں۔
A perusal of Acheson’s memorandum of his conversation with Zafar Ullah brings out the interesting fact that Kashmir did not figure in the discussion at all. (p-188) 17th nov 51. (The Ghulam Muhammad regime was concerned with other issues that would promote ‘very close’ ties with US.)
ترجمہ: سیکرٹری آف سٹیٹ ایچی سن کی ظفراللہ خان کے ساتھ گفتگو کی یادداشت یہ دلچسپ حقیقت سامنے لاتی ہے کہ اس بات چیت میں کشمیر کا سرے سے ذکر ہی موجود نہیں تھا (غلام محمد کی سرکار کی توجہ دیگر ایسے امور کی جانب مبذول رہی کہ جن کی بنیاد پر (وہ لوگ) امریکہ کے اور بھی قریب آ سکیں“۔ مطلب یہ کہ وہ جو ظاہری رکاوٹ لیاقت علی خان نے ڈالی تھی، یعنی مسئلہ کشمیر یہ لوگ (غلام محمد سرکار) تو اُس تنازعے کا ذکر بھی نہیں کرتے یہ لوگ تو فوجی امداد اور دیگر تعلقات کی بات کر رہے ہیں۔ اب امریکہ کے سامنے خلیج میں ایران اور مشرق وسطیٰ میں مصر کے حالات تھے اور اُن لوگوں نے ان حالات پر تمام زاویوں سے خوب غور اور فکر کیا ہوا تھا۔ دراصل امریکہ کا خارجی ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا اپنا معیار تھا۔ وہ اپنی اتحادی ریاست میں ایسی حکومت کے خواہاں تھے کہ جو ایک طرف امریکہ کے ساتھ مکمل طور پر وفادار ہو اور دوسری طرف داخلی طور پر بھی خوب مضبوط اور قوی ہو۔ تو اب اعتبار اس سے زیادہ کیا اور کن پر ہوچسکتا ہے جتنا امریکہ کو غلام محمد اور سکندر مرزا جیسے لوگوں پر تھا۔ اور استحکام کا کیا ہے جب ملک کی فوج مضبوط اور اسلحہ سے لیس ہو گی تو بس ایک جرنیل ہو گا، نہ قوم کی فکر اور نہ عوام کا درد سر۔ سال 1952 کوا مریکہ میں صدارتی انتخاب ہوا اور یہ انتخاب ری پبلکن پارٹی نے جیتا جس کے نتیجے میں آئزن ہاور صدر اور رچرڈ نکسن نائب صدر مقرر ہوئے اور اس سارے انتخابی عمل کا محور اشتراکیت کا مقابلہ او رسدباب تھا۔ اب سیکرٹری آف سٹیٹ کا منصب فوسٹر کا خاندان کو خود کو کٹر عیسائی کہتا اور سمجھتا تھا اور یہ اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے تھے کہ دنیا کو کمیونزم سے بچا کر رکھیں جبکہ آئزن ہاور ایک فوجی جرنیل تھا اور گذشتہ عالمی جنگ میں اتحادی افواج کا سربراہ رہ چکا تھا اور اس نے خود اپنی آنکھوں سے روسی قوم اور فوج کی بہادری کا مشاہدہ کیا ہوا تھا کہ کیسے اُن لوگوں نے جرمن افواج کی ریڑھ کی ہڈی توڑ کر رکھ دی تھی تو اُس کی اپنی کوشش یہ تھی کہ کسی نہ کسی طریقے سے روسی انقلاب کا راستہ روکا جائے اور روس کے اردگرد ایک ایسا فوجی حصار کھینچا جائے کہ روس اپنی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں میں قید ہو کر رہ جائے۔ جولائی 1952ء کو مصر میں انقلاب آیا۔ انقلابیوں نے شاہ فاروق کو بھگا دیا اور جنرل نجیب مسند اقتدار پر بیٹھ گئے۔ جنرل نجیب کی یہ انقلابی حکومت فرنگیوں کی شدید مخالف تھی۔ امریکہ نئی سرکار کے ساتھ اپنے روابط بنا رہا تھا اور اس مرحلے پر اُس نے اس نئی سرکار سے یہ کہا کہ ہم فرنگیوں کے ساتھی نہیں ہیں مگر نہر سویز کی بین الاقوامی حیثیت تسلیم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے جنرل نجیب کی قومی اور انقلابی سرکار امریکہ کی یہ بات ماننے پر کسی بھی صورت میں آمادہ نہیں تھی تو اب اس کا سیدھا سیدھا مطلب تو یہ ہوا کہ مصر بھی امریکی بازور پر سے اُڑ گیا۔ اُدھر ایران پہلے سے ڈاکٹر مصدق کی قیادت میں فرنگی سے برسرپیکار تھا اور یوں امریکہ کے ہاتھ میں صرف ایک ہی ریاست آ گئی، وہ تھی پاکستان۔ چنانچہ اُن لوگوں نے یہاں اس ریاست میں حسب روایت ہاتھ پیر مارنے شروع کئے۔ یہاں وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کے گرد ایک جانب کا گروہ تھا جو یہ محسوس کر رہے تھے کہ پاکستان کو قائم ہوئے چھ سال ہو چکے ہیں مگر نہ کسی نے اس کا دستور تیار کیا اور نہ عام انتخابات منعقد ہو سکے بلکہ مستقبل قریب میں بھی ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے اور یہ کہ بنگالی اس ریاست میں اکثریت میں ہیں مگر اکثریت کے باوجود ملک پر حکمرانی میں اُن کا کوئی حصہ نہیں ہے جبکہ دوسری جانب پنجاب میں قادیانیوں کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے اور عوام نے مطالبہ کرنا شروع کیا کہ سرظفراللہ چونکہ ایک قادیانی ہے اس لئے اسے پاکستان کی وزارت خارجہ سے فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔ خواجہ صاحب اگرچہ ایک مذہبی آدمی تھے مگر اُن کے اُن مولویوں سے شدید اختلاف تھا جو یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا جائے۔ پاکستان میں داخلی طور پر یہ افراتفری اور انتشار امریکہ کو ہر گز وارا نہیں کھاتا تھا۔ یہاں اس ملک میں امریکہ کو سیاسی عمل بھی وارا نہیں کھاتا تھا۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے وہ تو اپنے ملک میں بھی وہ لوگ اس حد تک برداشت کرتے تھے جہاں عیسائیت کو ہتھیار بنا کر روسی اشتراکیت کا راستہ روکا جا سکے مگر اب یہاں پاکستان میں اسی صورتحال نے ایک نیا رخ اختیار کیا اور پھر اس مذہبی انتشار کے نتیجے میں یہ بھی خدشہ تھا کہ اُن کا وفادار سرظفراللہ بھی اپنے منصب سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ چنانچہ اپریل 1953ء میں خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے اُس کی جگہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو نیا وزیراعظم بنا دیا گیا۔ جنرل مرزا غلام محمد کی طرف سے برطرفی کا نوٹس ملا تو جب اس بے چارے سے اور کچھ نہ بن پڑا تو فوری طور پر برطانیہ کے ملکہ کو ٹیلی فون کیا کہ میری وزارت بچا لو۔ وہ برطانوی دولت مشترکہ کی سربراہ تھی تو خواجہ صاحب نے اُس کے سامنے یہ فریاد کی کہ مجھے گورنر جنرل غلام محمد نے غیر قانونی طور پر وزارت سے برطرف کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ماہرین کی آرا

سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کا ریفرنس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا …

%d bloggers like this: