عرفان اللہ آفریدی،انصاف اور حکومتی رویہ

ضلع خیبر باڑہ میں گذشتہ آٹھ روز تک سکول استاذ عرفان اللہ آفریدی کے قتل کے خلاف دھرنا جاری رہا جس میں وقتاً فوقتاً سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ عرفان اللہ آفریدی کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ وہ یکم جون کو اس وقت اٹھایا گیا جب وہ اپنا اپوائنٹمنٹ لیٹر لینے گیا تھا۔ اسکے بعد انہیں ایک مبینہ جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا جسکے بعد عوامی سطح پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جو منگل کے روز تک جاری تھا اور منگل کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ اس تمام صورتحال میں سب سے افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت یا انتظامیہ کی جانب سے باڑہ میں جاری احتجاج کے بارے پوچھا تک نہیں گیا کہ کیوں یہ عوام سراپا احتجاج ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے بھی کوئی سوال تک نہیں پوچھا۔ اس سے بھی بڑی افسوسناک بات یہ ہے کہ اپوزیشن اراکین اور بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین کی جانب سے بار بار حکومتی بنچوں کو یاددہانی کرائی گئی لیکن انکی خاموشی نے عوام میں مزید احساس محرومی پیدا کی۔اب خبریں آرہی ہیں کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے باہر احتجاج کے بعد انکے مطالبات منظور کئے گئے لیکن یہ معاملہ یہاں تک کیوں پہنچایا گیا؟ ابھی ابھی پولیس کے کردار پر سے انگلیاں تہکال کے عامر کی وجہ سے نہیں ہٹی ہیں، ایسے میں عرفان آفریدی کے مبینہ جعلی مقابلے میں ہلاکت پولیس اور بالخصوص سی ٹی ڈی کے کردار پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان میں آئین و قانون موجود ہے اور اگر کسی سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو اسکے لئے عدالتیں موجود ہیں، یہ فیصلہ وہی عدالتیں کرے گی کہ کون ملزم،کون مجرم اور کون بے گناہ ہے۔ سوال یہاں یہ بھی بنتا ہے کہ انضمام کے بعد بھی حکومتی و انتطامی رویہ نہیں بدلا۔ اب بھی وہاں کے رہائشیوں کو عام پاکستانی کی طرح نہیں دیکھا جارہا کیونکہ اگر ساہیوال میں یہی سی ٹی ڈی فورس کسی پر فائرنگ کرتی ہے تو پاکستانی میڈیاپر یک دم ہر طرف یہی بات چل پڑتی ہے کہ سی ٹی ڈی نے ماورائے عدالت قتل کردیے۔ ہم ہر قتل کے خلاف ہیں لیکن قتل میں فرق نہیں ہونا چاہئیے، چاہے وہ ساہیوال میں ذیشان اور خلیل ہو یا باڑہ کا رہائشی عرفان آفریدی۔ انسانیت کی بنیاد پر ہر ماورائے عدالت قتل کے خلاف پاکستان کے عوام ایک ہیں کہ جتنا بھی بڑا ملزم یا مجرم کیوں نہ ہو، جب تک عدالت انہیں سزا نہ سنائے، اس طرح جعلی مقابلوں میں کسی کو مارنا نہ صرف قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت کے خلاف بھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت وقت کو حالات کی نزاکت اور ضم اضلاع کے عوام کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے اس واقعے کی جلد سے جلد انکوائری کرنی چاہئیے تھی تاکہ دودھ کا دود ھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ اگر عرفان گنہگار تھا تو اسے سزا ایک مبینہ جعلی مقابلے میں کیوں دی گئی؟ اس سوال کا جواب ابھی حل طلب ہے اور امید ہے کہ اس ملک میں قانون کے رکھوالے اور محافظ اس سوال کا جواب ضرور ڈھونڈ کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

sadar Jamal

دانہ خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے

جب لازو کا آخری وقت قریب آیا تو کسی نے اس کی زندگی کے کچھ …