جس کا کام اسی کو ساجھے

کیا اس رائے میں کوئی کلام ممکن ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ابتدائی دو سالوں میں حالات جس قدر دگرگوں ہوئے ہیں اتنے پچھلے بہتر سالوں میں بھی نہیں ہوئے تھے، جتنا نقصان اس ملک اور اس قوم کا ہوا ہے وہ گذشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ میں نہیں ہوا؟ سب سے پہلے تو گذشتہ حکومتوں نے مسلح افواج اور عوام کے تعاون اور قربانیوں سے عسکریت پسندی کا قلع قمع کر دیا تھا اور ملک میں امن و امان کی صورتحال بڑی حد تک اطمینان بخش ہو گئی تھی لیکن موجودہ حکومت نے ان ساری قربانیوں پر پانی پھیر دیا ہے، تبدیلی سرکار کی غلط ترجیحات یا ناقص پالیسیوں اور معاملہ فہمی کی صلاحیت کے فقدان کے باعث آج ملک بھر خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عسکریت پسند ایک بار پھر منظم ہو رہے ہیں، ان کی تخریبی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، باجوڑ سے لے کر وزیرستان اور دیر سے لے کر کراچی و کوئٹہ تک ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تواتر کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔ اندرون ملک ریاستی رٹ پر اعلیٰ عدالتیں بھی سوالات اٹھانے لگی ہیں، گذشتہ دو سالوں میں جس طرح کے واقعات ملک کے طول و عرض میں رونما ہوئے اور ان کے حوالے سے حکومت اور متعلقہ حکام کا جو رسپانس اور جو ردعمل رہا وہ پوری قوم کے سامنے ہے اور جسے انتہائی افسوس ناک ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں زیرگردشی قرضہ جات ہوں یا بیرونی قرضے دونوں میں اضافہ بھی فقیدالمثال ہے۔ مہنگائی کی شرح میں بھی ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوا ہے اور وہی چیزیں مہنگی کر دی گئی ہیں جو عام آدمی کے استعمال میں آتی ہیں بلکہ یہ وہ اشیاء ہیں جن کے بغیر عام آدمی کی زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر مستزاد یہ کہ بے روزگاری کی شرح میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، حالیہ دنوں میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پچاس لاکھ کے قریب لوگ تبدیلی سرکار کے باعث اپنے روزگار یا ملازمت سے محروم ہوئے ہیں۔ اسی طرح چیک اینڈ بیلنس کے ناقص نظام کی وجہ سے آٹا، چینی، بجلی، پٹرول اور ادویات کے مصنوعی بحران بھی اب روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں بھی ناقابل یقین حد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ حکومت آج تک اپنے کسی ایک فیصلے پر عملدرآمد یقینی نہیں بنا سکی ہے۔ یہ سب اور اس طرح کے دیگر گو ناگوں مسائل ایک طرف لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یوٹرن یا بہ الفاظ دیگر گھٹنے ٹیکنے کی عادی تبدیلی سرکار نے مگر جو ناقابل تلافی نقصان قوم کو پہنچایا ہے، یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ تبدیلی سرکار کی صورت قوم کو جس گھاٹی میں اتارا گیا اور گزارا جا رہا ہے یہاں سے قوم تہی دست ہو کر ہی نکلے گی۔ اندرون ملک ذرائع ابلاغ کو مکمل طور پر اپنا مطیع کر لیا گیا ہے، ایک آدھ مخالف آواز اگر کہیں سے اٹھ بھی رہی ہے تو وہ نقارخانے میں طوطی کی آواز ثابت ہو رہی ہے۔ ملک کے اصل خیر خواہوں، بہی خواہوں اور محبین وطن کو ملک دشمن، غدار اور ایجنٹ ثابت کیا جا رہا ہے اور جو ملک و قوم کے اصل غدار ہیں انہیں مسیحا کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ہم کسی کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہراتے لیکن کسی کو بھی کلین چٹ بھی نہیں دیں گے بلکہ ملک آج جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس کے لئے ہم جمہوری و غیرجمہوری دونوں قوتوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی برابر کے ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ قائد ن لیگ میاں محمد نواز شریف ہوں یا کوئی بھی دوسرا قومی رہنماء اور یا پھر ہماری خواب غفلت کے مزے لوٹتے عوام ہماری اس رائے سے اختلاف نہیں کر سکتا کیونکہ ایک ہی سوراخ سے یہ ایک نہیں دو نہیں تین نہیں بلکہ پانچ چھ مرتبہ ڈسے جا چکے ہیں لیکن انہیں ہوش آج بھی نہیں آیا۔ آخر میں ہم انگریزی کے ایک مشہور مقولے کے مصداق اتنا کہنا چاہیں گے کہ جس کو جو کام آتا ہے اس کے حوالے کیا جائے، کھیلوں کے ماہر کو کھیل کے امور کی دیکھ بھال ہی سونپی جائے، ایسے ہاتھوں میں ملک و قوم کا مقدر دینا دانشمندانہ فیصلہ ہرگز نہیں ہے، صورتحال ہم سب کے سامنے ہی تو ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بی آر ٹی، ایک ”پوڈری” اور رکشہ ڈرائیور – تحریر: ملک سیدزمان خان

پشاور بی آر ٹی منصوبے پر ایک واقعہ بلکہ لطیفہ یاد آیا۔ ایک ”پوڈری” (ہیروئنچی …

%d bloggers like this: