عوامی مفاد اور قوم کا مستقبل

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان مسئلہ کے حل کے لئے جاری بین الافغان مذاکرات کے شرکاء نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ باہمی بھائی چارے اور محبت سے رہیں، مشکلات ابھی بہت سی درپیش ہیں اور تمام نکات پر اگر باہم اتفاق نہیں بھی ہوتا تو فریقین نکات پر سمجھوتہ کر لیں۔ شرکائے مجلس نے جامع جنگ بندی اور خواتین کے حقوق کی پاسداری پر زور دیا ہے۔ مذاکرات میں شریک امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے کہا کہ افغان امن عمل کے لئے ہم نے اپنے حصے کا کام کرنا ہے، افغانوں کو اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا اور جو لوگ افغانستان میں امن چاہتے ہیں انہیں ملکی مفاد اور عوام کی خواہشات کو دیکھنا ہو گا۔ دوسری جانب دنیا بھر کے ممالک کی طرح پاکستان نے بھی اس اہم پیشرفت کا خیر مقدم کیا ہے، اور اگر انصاف سے کام لیا جائے تو بین الافغان مذاکرات کے خیال یا خواب کو عملی شکل یا تعبیر دینے میں پاکستان کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے امریکہ و اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا کو جسے تسلیم اور سراہنا چاہئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے بھی اس پیشرفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے جہاں یہ امید ظاہر کی کہ یہ نتیجہ خیز ثابت ہوں گے وہاں اس مقصد (نتیجہ خیز مذاکرات) کے لئے فریقین پر زور بھی دیا کہ وہ اپنی اپنی انا کے خول سے نکل کر عوامی مفاد اور قوم کے مستقبل کی فکریں۔ افغان امن عمل میں اس اہم موڑ کے حوالے سے اپنے ایک پیغام میں انہوں نے اس امر بلکہ حقیقت کا اک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان جنگ سے یہ ملک اور خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا متاثر ہوئی ہے (لہٰذا) اس جنگ کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے (کیونکہ) پرامن افغانستان صرف افغانستان ہی نہیں اس پورے خطے اور پوری دنیا کے لئے اہم ہے۔ محولہ بالا تمام مواقف میں سے کسی بھی موقف سے اختلاف ممکن نہیں لیکن سوال پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام کیونکر ممکن بنایا جا سکتا ہے جب فریقین کی جانب سے مسلسل ایک دوسرے کا ہی نہیں بلکہ معصوم و بے گنا عوام، جن میں شیر خوار و کمسن بچوں سمیت خواتین اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں، کا خون بہایا جا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں اور یہ امید نہیں بلکہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ دوحہ مذاکرات میں شریک یا افغان امن عمل کے حوالے سے درپردہ و اعلانیہ کوششیں کرنے والے تمام ممالک اور طاقتیں افغانستان میں قیام امن کی خواہاں ہیں لیکن افسوس کہ افغانستان میں جاری کشت و خون پر مبنی حالات کو دیکھ کر ہمارا یقین ڈگمگا جاتا ہے اور ہم بعض قوتوں کے کردار کے حوالے سے شکوک و شبہات کے شکار ہو جاتے ہیں۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے تو کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر براہ راست امریکہ پر عسکریت پسندوں کی اعانت کے الزامات عائد کئے تھے۔ اس لئے امریکی آج بھی اگر ”اپنے حصے کا کام“ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں تو ہمیں لازمی طور پر تشویش لاحق ہو جاتی ہے کیونکہ اس امر سے پوری دنیا آگاہ ہے کہ امریکہ کے مفادات کیا ہیں اور وہ ان مفادات کے حصول کے لئے، ضروری ہوا تو، افغانستان یا کہیں پر بھی جنگ کی آگ کو بجھانے کی بجائے اسے ہوا دے گا۔ جہاں تک افغان مسئلہ کے فریقین کو افغانستان یا افغان کے عوام کے مفادات کی فکر کا تعلق ہے تو اس کا فوری و عملی اظہار جنگ بندی کا اعلان کر کے کیا جا سکتا ہے کیونکہ جنگ کے خاتمے یا عارضی جنگ بندی کے بعد بھی انگنت چیلنجز درپیش ہیں، افغانستان اور افغان معاشرے کی تعمیر نو اور تشکیل نو کے لیے ڈھیر سارا کام کرنا ہے۔ اسی طرح پاک افغان تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ پاکستان کو افغانستان سے ملحقہ صوبے خصوصاً ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی کاموں میں تیزی لانا چاہئے اور بنیادی توجہ تعلیم اور صحت پر مرکو کرنی چاہئے کیونکہ قوم کے مستقبل کے لئے امن و استحکام کے بعد سب سے زیادہ ضروری صحت اور اس سے بھی بڑھ کر تعلیم ہی ہوتی ہے جس کی خیبر پختونخوا میں بالعموم اور ضم شدہ اضلاع میں باالخصوص حالتِ زار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کیا گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا چاہئے؟

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں پارلیمنٹیرین کی آرمی چیف سے ایک میٹنگ ہوئی تھی۔ اس …

%d bloggers like this: