”ملک ڈبو دیا گیا“

اس وقت پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ملکِ عزیز میں بھی جہاں ایک طرف کورونا کی وباء ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، آئے روز متاثرہ افراد اور اس مہلک مرض کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومتوں کی جانب سے انسداد کورونا کے اقدامات میں تیزی لائی جا رہی ہے وہاں وطنِ عزیز میں کاروبار زیست مکمل طور پر بحال اور نتیجتاً کورونا وباء کے پھیلاؤ کے لئے ماحول سازگار بنتا یا بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ملکِ عزیز میں پہلے سے بے قابو مہنگائی ایک عام شہری خصوصاً مزدور طبقات کے لئے مکمل طور پر ناقابل برداشت ہو جائے گی کیونکہ آئی ایم ایف نے بجلی، گیس اور یوٹیلیٹی سٹوروں پر سبسڈیز کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے جو درحقیقت مطالبہ نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی یہ ڈیمانڈ دراصل ایک حکم کا درجہ رکھتی ہے تبھی تو وزارت خزانہ میں ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا جا چکا ہے جو سبسڈیز کے خاتمے کے لئے سفارشات مرتب کرے گا۔ اس بارے وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ارشاد عالیہ بھی ملاحظہ ہو کہ محولہ بالا عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ جائزہ مذاکرات جاری ہیں، کامیاب ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کے ساتھ قرضے کا پروگرام بھی بحال ہو جائے گا اور رکی ہوئی یا روکی گئی قسط بھی جاری ہو جائے گی یا بہ الفاظ دیگر جاری کر دی جائے گی۔ یعنی ملک فی الوقت جن کٹھن معاشی حالات سے گزر رہا ہے اس میں افاقہ کی بجائے یہ مزید سنگین صورت اختیار کر جائیں گے۔ یہاں ہم ملک کے سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف کے ساتھ اتفاق کریں گے، اختلاف کی کوئی صورت نکلتی بھی نہیں ہے کہ قیامِ پاکستان سے بالعموم اور بالخصوص گذشتہ نو دس سالوں میں ملک اور قوم کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا اس کے نتائج بلکہ منفی اثرات اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں اور نجانے آنے والے دنوں میں مزید کون کون سی آزمائشیں منہ کھولے ملک و قوم کی منتظر ہیں، کہ انہیں سزا دیتے دیتے ملک کو ہی ڈبو دیا گیا۔ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں سابق وزیراعظم نے اب دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ملک کو مزید تماشہ نہیں بننے دیں گے۔ اس مقصد کے لئے ن لیگ یا دیگر اپوزیشن جماعتیں کیا کر سکتی ہیں، کر کیا رہی ہیں اور آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو گا، آنے والے سطور میں یہ صورتحال واضح ہو جائے گی۔ گذشتہ روزکے اخبارات میں شائع رپورٹس کے مطابق قائد ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کے مابین ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کی تحریک پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ دونوں رہنماؤں میں اے پی سی کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کے لئے جامع روڈ میپ پر اتفاق پایا گیا ہے۔ دونوں پارٹی سربراہان نے اسمبلیوں سے استعفوں پر مشاورت کے لئے کمیٹی کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ دوسری جانب اے پی سی کے انعقاد، نواز شریف کی تقریر اور اس کے بعد ان کی جانب سے وقتاً فوقتاً پیغامات کے نتیجے میں حکومت مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے اور اس بوکھلاہٹ میں وہی ہتھکنڈے بروئے کار لائے جا رہے ہیں جو پرانے پاکستان کا خاصا یا اس دور کی نشانیاں ہیں۔ ہم اس سے قبل بھی اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ اپوزیشن کا اصل امتحان عوام کی عدالت میں اپنا مقدمہ موثر طریقے سے پیش کرنا اور ان کی ایسی ذہن سازی کرنا ہے کہ وہ عوام دوست اور عوام دشمن عناصر میں تمیز کر سکیں اور منزل، عوام کا حق حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود، کے حصول کی راہ میں درپیش مصائب اور تکلیفات کا سامنا کرنے کے لئے کمربستہ ہو جائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہی ہیں، عوام کی حمایت و تائید حاصل ہو جائے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت آپ کا سامنا نہیں روک سکتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ غیرجمہوری قوتوں کا پروپیگنڈا کہہ لیں یا جمہوری قوتوں کا اپنا کردار مگر عوام کی اکثریت کو ملک کی موجودہ سیاسی قیادت پر اعتبار ہے نا بھروسہ، تو عوام کا اعتماد اور بھروسہ دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اپوزیشن کا کیا لائحہ عمل ہو گا؟ یا وہی پرانا کھیل کھیل کر اپنا اپنا الو سیدھا کیا جائے گا؟

یہ بھی پڑھیں

بی آر ٹی، ایک ”پوڈری” اور رکشہ ڈرائیور – تحریر: ملک سیدزمان خان

پشاور بی آر ٹی منصوبے پر ایک واقعہ بلکہ لطیفہ یاد آیا۔ ایک ”پوڈری” (ہیروئنچی …

%d bloggers like this: