حکومت صرف گھٹنے ٹیکنا جانتی ہے

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پٹرول کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر کے اس ملک کے بدنصیب عوام کے سروں پر ایک اور بم گرا دیا۔ اخبارات میں شائع رپورٹس کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں پانچ روپے فی کلو کا اضافہ کر دیا گیا ہے، گھریلو سلینڈر کی قیمت میں پچاس روپے جبکہ کمرشل بنیادوں پر استعمال ہونے والی ایل پی جی کی قیمت دو سو روپے بڑھا دی گئی ہے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ ایک ہفتے کی قلیل مدت کے دوران ان قیمتوں میں دوسری مرتبہ یہ اضافہ کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کی جانب سے حکومت اور وزیراعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں رچائے جانے والے ڈرامے، پٹرول بحران، پر اپوزیشن نے ایک بار پھر وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کے مطابق مہنگائی کا طوفان سونامی کی صورت اختیار کر گیا ہے، حکومت ٹیکس اکٹھا کرنے، انڈسٹری کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اس لئے وزیراعظم اپنی ناکامیوں کا اعتراف کر کے اپنے گھر چلے جائیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سفند یار ولی خان نے کورونا وباء کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایف کی غلام حکومت اسی کی ہدایات پر عوام کو لوٹ رہی ہے، وزیراعظم کے دائیں بائیں مافیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے تو پٹرول بحران کو حکومتی ڈرامہ قرار دیتے ہوئے یہ الزام تک عائد کر دیا کہ پٹرول کو پہلے سستا کروا کر ذخیرہ کروایا اور اب مہنگا کر کے مافیا کو فائدہ پہنچایا گیا کیونکہ ”سلیکٹڈ وزیراعظم“ کو عام آدمی کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ان کی اس بات سے بھی اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں کہ غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر ملک کی معیشت کو سہارا نہیں دیا جا سکتا۔ ہم چیئرمین پیپلز پارٹی کی اس رائے سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے یہ اضافہ ضرور کرنا چاہیں گے کہ جو حکومت خود ”دوسروں“ کے سہارے یا بہ الفاظ دیگر بیساکھیوں پر کھڑی ہو وہ معیشت یا ملک کے عام شہری کو کیا سہارا دے پائے گی۔ معاملہ یہیں تک محدود ہوتا تو بھی اس سے صرف نظر کیا جا سکتا تھا کہ اس ملک ناپرسان کی گزشتہ حکومتوں، خواہ جمہوری ہوں یا غیرجمہوری، نے بھلا کون سے اس ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہائی ہیں۔ سبھی ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں لیکن اس جماعت اور اس کی قیادت و حکومت نے اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ ہماری وزیراعظم عمران خان سے یہ گزارش ہے کہ انہیں فرصت ہو تو کبھی اپنے سب سے موثر ہتھیار، سوشل میڈیا، کا ذرا غور سے جائز لیں اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اپنے کانوں سے سنیں کہ خلقِ خدا ان کے بارے میں کیا کہہ رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے کو قریباً دو سال ہو گئے لیکن کسی ایک بھی شعبہ میں اس نے تاحال کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی ہے بلکہ اسے ہر محاذ پر ناکامی اور رسوائی کا ہی سامنا رہا ہے۔ قوم اب جان چکی ہے کہ یہ حکومت اور یہ حکمران محض شور ڈالنے اور مخالفین کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے۔ موجودہ حکمرانوں میں کوئی وژن ہے نہ ہی ان میں کوئی بھی کام سرانجام دینے کی اہلیت لیکن ڈھٹائی میں یہ اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ بدقسمتی تو ان کی یہ بھی ہے کہ ان حکمرانوں کے سارے بیانات، سارے نعرے اور سبھی دعوے ریکارڈ پر ہیں جو ملک کے کونے کونے میں بجائے جا رہے ہیں لیکن ان میں اتنی اخلاقی جرات کہاں کہ یہ قوم کے سامنے اپنی غلطیوں کا اعتراف اور پھر ان غلطیوں پر معافی مانگ کر گھروں کو لوٹ جائیں۔ ان کو بس گھٹنے ٹیکنا ہی آتا ہے بلکہ حق کی بات تو یہی ہے کہ موجودہ حکمران گھٹنے ٹیکنے کے بعد ہی مسند اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

sadar Jamal

پوائنٹ آف نو ریٹرن۔۔۔ ڈاکٹر سردار جمال

ہمارے اعلیٰ حکام ایسے سست روی کے شکار ہیں کہ ان کو اس ملک میں …