پی ٹی آئی حکومت اپنی اولین ترجیح کے حصول میں ناکام

تحریک انصاف حکومت کے نئے وزیر خزانہ نے قوم کو یہ ’’نوید‘‘ سنائی ہے کہ جون دو ہزار اٹھارہ تا دسمبر دو ہزار بیس کل سرکاری قرضہ میں ساڑھے بارہ ہزار ارب کا اضافہ ہوا ہے۔ پیر کے روز قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران نئے وزیر خزانہ نے قرضوں میں اس بے تحاشہ اضافے کی وجوہات بیان کیں اور کہا کہ پیسے کی قدر میں کمی کے باعث قرض میں تین ہزار ارب اضافہ ہوا جبکہ دو ہزار چار سو ارب بنیادی خسارے کی فنانسنگ کے لئے ادھار لئے گئے تھے۔ نوتعینات وزیر خزانہ نے تاہم پیسے کی قدر میں کمی کی بنیادی وجوہات بتانے کی زحمت شاید اس لئے بھی گوارا نہیں کی کہ شاید ہی نہیں یقیناً اس ضمن میں بنیادی الزام ان کی اپنی حکومت کے سر ہی جاتا ہے۔ اگرچہ اقصادی امور سے متعلق ماہرین معاشیات کی آراء کو ہی معتبر سمجھا جائے گا تاہم اس امر یا حقیقت سے تو بچہ بچہ بھی واقف ہے کہ جس ملک یا علاقے میں جنگ ہو گی، بدامنی ہو گی، حالات خراب ہوں گے اور سب سے بڑھ کر سیاسی عدم استحکام ہو گا وہاں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ اور ماند ہی رہیں گی اور جب کاروبار نہیں ہو گا، روزگار نہیں ہو گا تو ایسے ممالک یا اقوام مالی مسائل کا شکار ہوں گے، ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو گا، قرضوں کے بوجھ تلے بھی دبیں گے اور یوں انہیں اپنی قومی خودمختاری سمیت اپنے دیگر مفادات پر بھی سمجھوتہ کرنا ہو گا۔ اس لئے ہمیں کہنے دیجیے کہ روپے کی قدر میں کمی کی ایک بڑی وجہ اگر ملک میں امن و امان کی ابتر ہوتی صورتحال ہے تو دوسری جانب موجودہ حکمرانوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث طول پکڑتے سیاسی عدم استحکام نے بھی اس میں ایک بنیادی کردار ادا کیا ہے لیکن افسوس کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے ایک حالیہ بیان میں بھی اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت یا سمجھوتے کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں،بہ الفاظ دیگر ملک میں سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ پیسے کی قدر میںمزید کمی آئے گی، افراط زر میں اضافہ ہو گا اور نتیجتاً ملک میں دندناتے پھر رہے مہنگائی کے جن کو قابو کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ حیرت ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ہوں، نئے وفاقی وزیر خزانہ ہوں یا موجودہ حکومت کا کوئی بھی دوسرا ذمہ دار، سبھی اپنے بیانات میں مہنگائی کے خاتمے کو تو موجودہ حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں تاہم دوسری جانب اس ضمن میں ناگزیر قرار دیئے جانے والے اقدامات سے ناقابل یقین حد تک گزیر بھی کیا جا رہا ہے اور حکومت کا یہی طرزعمل یا رویہ ہے جو ملک کے مالی، سیاسی اور انتظامی مسائل میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ بہ الفاظ دیگر پاکستان تحریک انساف کی حکومت اپنی اولین ترجیح یا ہدف کے حصول میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے، وزیر اعظم کو اپنی دیگر ناکامیوں کے ساتھ ساتھ اس ناکامی کا بھی اعتراف کر لینا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں

بغدادی پیر، کل اور آج

تحریر: محمد عمران ڈیوڈ جونز کا ناول شاید بہت سے قارئین نے پڑھا ہو گا …