کورونا وبا سے بچاؤ، حکومت کس حد تک سنجیدہ ہے؟

کورونا وائرس نے اس وقت جہاں دنیا بھر کے ممالک کو مفلوج کر رکھا ہے وہیں پاکستان بھی مشکلات کا شکار ہوتا جا رہا ہے اور معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ بچوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کو واحد حل گردانتے ہوئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، اب اندرون ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے بھی روابط محدود کرنے اور کہیں مکمل بند کرنے کیلئے پلاننگ کی جا رہی ہے۔ بارڈر بند کرنے کے این سی او سی کے فیصلے سے ممکن ہے کہ کورونا کی نئی اقسام در آنے کا سلسلہ رُک جائے جس سے ہسپتالوں کے بھرنے کا امکان ظاہر کیا جا چکا ہے۔ ماہرین طب اس غیرملکی وائرس کی نئی اقسام کو زیادہ متعدی قرار دے رہے ہیں، افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر بھی اسی وجہ سے سیل کئے گئے ہیں تاکہ کورونا وائرس کی مزید اقسام کے پھیلنے کا سلسلہ روکا جا سکے کیونکہ ابھی حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کراچی میں پھیلنے والی اقسام میں برازیلین اور افریقن اقسام شامل ہیں اور یہ زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، جہاں پہلے سے آکسیجن کا مسئلہ ہو وہاں ان نت نئی کورونا اقسام کی وجہ سے مزید پیچیدگیاں بڑھیں گی۔ این سی او سی کے مطابق کورونا کی نئی اقسام کو روکنے کیلئے افغانستان اور ایران کے ساتھ زمینی راستے سے آمد ورفت اور بارڈر پر کورونا پروٹوکول کو یقینی بنانے کیلئے اقدام اٹھایا گیا اور اس کی رو سے نئی لینڈ مینجمنٹ پالیسی کا اطلاق زمینی راستے سے آنے والے لوگوں اور پیدل آمدورفت پر کیا جائے گا جبکہ کارگو، باہمی تجارت اور پاک افغان ٹریڈ اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ دونوں پڑوسی ممالک کی سرحد پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں اور ہیلتھ کیئر ورکرز کی نفری بڑھانے کے علاوہ ٹیسٹنگ پروٹوکول اور سخت ایس او پیز پر عملدرآمد بھی یقینی بنانے کیلئے کارآمد فیصلے کئے جائیں گے۔ دیارِ غیر سے آنے والے مسافروں کیلئے بھی سول ایوی ایشن نے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے جس کی رو سے اب5 مئی سے سعودی عرب سے پاکستان آنے والے مسافروں کیلئے کورونا وائرس کا ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ ان مسافروں کا کورونا ٹیسٹ72 گھنٹے سے پرانا نہیں ہونا چاہئے جبکہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے والے مسافروں کو سفر کی اجازت نہیں ہو گی اور منفی کورونا ٹیسٹ والے مسافر ہی پاکستان سفر کر سکیں گے۔ دوسری جانب ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس وقت ملک میں اس سے بھی سخت ایس او پیز پر عمل درآمد کی ضرورت ہے کیونکہ کورونا کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے4414 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ113 افراد انتقال کر گئے۔ کیسز بڑھنے کے بعد حکومت نے اقدامات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے پہلے اگر اس قسم کے اقدامات بروقت اٹھائے جاتے تو شاید اس قدر کیسز بڑھتے نہ ہی بچوں کا مستقبل داؤ پر لگتا، اب بھی حکومت کے پاس وقت ہے کہ وہ بروقت اقدامات اٹھائے اور ملک و قوم کے اس مستقبل کو محفوظ بنائے تاہم اس کے لئے جس قسم کی سنجیدگی، یکسوئی اور استقامت درکار ہوتی ہے، بدقسمتی سے موجودہ حکومت اس سے مکمل طور پر عاری دکھائی دیتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ حکومت تمام تر سیاسی و گروہی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس سلسلے میں مزید مکمل سنجیدگی کا مظاہرہ کرے بصورت دیگر جو بھی نقصان خدانخواستہ ہوتا ہے موجودہ حکمران آج نہیں تو کل اس کی قیمت ضرور چکائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

Bacha Khan

صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد کشمیر پر حملہ (دوسرا حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی افواج کی طرف سے ایک خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی اور …