انسداد کورونا کے اقدامات غیرموثر کیوں؟

ملکِ عزیز میں اس وقت کورونا وبائی صورتحال کی شدت میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے باوجود اس کے کہ حکومت تعلیمی اداروں اور بازاروں کی بندش سمیت اس طرح کے کئی، کاغذی حد تک قابل تعریف، اقدامات کے بعد اب بینالصوبائی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی ایک لائحہ عمل تیار کر کے جاری کر چکی ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود مرض کی شرح میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیا حکومت ملک کے تمام نا سہی اکثریتی باشندوں کے کورونا ٹیسٹ یا ویکسینیشن کے حوالے سے کسی طرح کا کوئی پلان اور اس پلان کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم دے سکتی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ملک میں ہر تیسرا چوتھا بندہ اس وائرس کو لئے اس کے مزید پھیلاؤ کا باعث بن رہا ہے؟ لیکن سب سے اہم اور بنیادی سوال وہی ہے جو انہی صفحات پر ہم بار بار اٹھا بھی چکے ہیں، سوال عوام ہی نہیں حکام اور ذمہ داروں کی بھی سنجیدگی کا ہے جو بدقسمتی سے تاحال کسی بھی جانب نظر نہیں آ رہی ہے۔ میڈیا اور حکومت کی جانب سے جاری اعلانات و بیانات کی حد تو ٹھیک لیکن اس امر یا حقیقت سے انکار کسی طور ممکن نہیں کہ باہر بازاروں میں یا گلی کوچوں اور پارکوں میں یا اس طرح کے دیگر عوامی مقامات پر آج بھی قبل از کورونا والی صورتحال ہی پائی جاتی ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ انسداد کورونا کے اقدامات کو غیرموثر کرنے میں دیگر عوامل کے ساتھ اس کا بھی بنیادی ہاتھ ہے؟

یہ بھی پڑھیں

بغدادی پیر، کل اور آج

تحریر: محمد عمران ڈیوڈ جونز کا ناول شاید بہت سے قارئین نے پڑھا ہو گا …