نااہلی پاکستان کا معاشی کفن

ایک کے بعد ایک ایسا واقعہ ہوا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ وزارت پٹرولیم کی نااہلی بار بار واضح ہو رہی ہے مگر نقصان ملک اور عوام کا ہو رہا ہے۔ جنوری میں پہلی دفعہ ہوا کہ حکومت پاکستان دیر سے مارکیٹ میں ایل این جی کا ٹینڈر لے کر گئی تو شروع کے بیس دن میں سپلائرز ہی نہیں آئے جس سے گیس کا بحران پیدا ہوا اور پہلی دفعہ یہ بھی ہوا کہ جو سپلائر ٹینڈر لینے میں کامیاب ہوا وہ آیا ہی نہیں، اس نے گیس لینے سے انکار کر دیا اور حکومت نے اس بات کی تصدیق بھی کی۔ پاکستان ایل این جی لمٹیڈکے مطابق ٹینڈر میں کامیاب ہونے والے نے جب گیس لینے سے انکار کیا تو ہم دوسرے اور تیسرے کامیاب ہونے والے سپلائرز کے پاس گئے مگر انہوں نے بھی گیس لینے سے انکار کر دیا۔

آگے یہ بھی کہا کہ جو سپلائر وعدے کے مطابق ایل این جی سپلائی کرنے میں ناکام رہے تو ان کا بانڈ ضبط کر دیا جائے گا یعنی تین لاکھ ضبط کئے جائیں گے یعنی فی کارگو ساڑھے تین کروڑ روپے جو نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عام طور پر بڈ لینے کے سپلائر تین لاکھ ڈالرز جمع کراتے ہیں پھر بڈ کی منظوری لینے کے بعد دس فیصد پرفارمنس گارنٹی جمع کراتے ہیں جو اس کیس میں 35 لاکھ ڈالرز بنتے ہیں مگر جب 28 دسمبر کے ٹینڈر کی منظوری کے بعد سات جنوری کو جا کر بولی ایوار ڈ کی گئی تو سپلائر نے پرفارمنس گارنٹی جمع نہیں کرائی تھی۔ یعنی پاکستان کا ہر طرح سے نقصان ہی نقصان ہوا۔ اگر جلدی ٹینڈر ہوتا تو تین فائدے ہوتے۔ پہلے یہ کہ ریٹ کم ملتا۔ دوسرا یہ کہ سپلائر نے دس فیصد کی پرفارمنس گارنٹی جمع کرائی ہوتی تو اس کو اپنے نقصان کا احساس ہوتا اور تیسرا یہ کہ سردی میں گیس کی شدید کمی ہونے کی وجہ سے سپلائر کے گیس نہ دینے کے امکانات بہت کم ہوتے کیونکہ انہیں بہت پہلے پاکستان کے لئے گیس سپلائی کا انتظام کرنا پڑتا۔ دیر کرنے سے یہ تینوں کام نہیں ہو سکے۔

گیس کی مارکیٹ میں پاکستان کو ایک سنجیدہ پلیئر کے طور پر لیا جاتا ہے اس لئے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا مگر اب ایک کے بعد ایک دھچکا لگ رہا ہے۔ کبھی سپلائرز آتے نہیں تو کبھی ٹینڈر لینے کے بعد بھاگ جاتے ہیں کیونکہ وزارت پٹرولیم نے بار بار غلطیوں کے باوجود بھی دیر کی جس سے پیسوں کا نقصان الگ ہو رہا ہے، گیس کی کمی کا مسئلہ الگ پیدا ہو رہا ہے اور مذاق پاکستان کا الگ اڑایا جا رہا ہے۔ پچھلے چار سال سے پاکستان نے ایل این جی کے آٹھ کارگوز منگوا رہا ہے اور اس سال بھی فروری کے لئے آٹھ کارگو زکا انتظام موجود ہے مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان آٹھ کارگوز میں سے سات کارگوز ایل این جی کے طویل المدتی معاہدے کے تحت آئیں گے جو گزشتہ حکومت نے کئے تھے۔ اگر یہ بھی نہ ہوتے تو پاکستان میں گیس کا بدترین بحران ہوتا اور دوسری بات یہ ہے کہ گزشتہ چار سال کی مثال کیسے دی جا سکتی ہے کیونکہ خود حکومت کے دعوے کے مطابق پاکستان میں ہر سال اندرون ملک گیس کی پیداوار میں آٹھ فیصد کی کمی واقع ہو جاتی ہے یعنی گزشتہ برس کے مقابلے میں دو سو ایم ایس سی ایف ڈی گیس سسٹم میں ویسے بھی کم ہو گی۔ پھر حکومتی دعوے کے مطابق انڈسٹری کا پہیہ تاریخ کے مقابلے میں تیزی سے گھوم رہا ہے یعنی انڈسٹری کی ڈیمانڈ بھی پچھلے سال سے زیادہ ہے اور آبادی بھی پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہے تو ہر طرح سے گیس کی ڈیمانڈ پچھلے سال سے زیادہ ہے مگر وزارت پٹرولیم اپنی ناکامی کو یہ کہہ کر چھپا رہی ہے کہ چار سال سے ہر فروری میں آٹھ کاگوز ہی منگوائے جا رہے ہیں۔

اب فرنس آئل سے مہنگی بجلی پید ا ہو گی۔ دوسری بات یہ کہ ایل این جی ٹرمینلز فروری کے مہینے میں پوری طرح خالی رہیں گے اور پاکستان کپیسٹی چارجز کی مد میں لاکھوں ڈالرز الگ ضائع کرے گا اور عوام کا نقصان ہی نقصان رہے گا۔ اب مندرجہ بالا پکچر پیش کرنے کے بعد چند سوالات اٹھتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ عمران خان نے میڈیا پر یہ کہا تھا کہ اڑھائی سال ہمیں ایل این جی کے بارے میں مختلف اعداد و شمار پیش کئے جاتے رہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کون درست کہہ رہا ہے اور کون غلط، اڑھائی سال کے بعد تو پتہ چلا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور خواب کیا پیش کیا جا رہا ہے تو کیا آپ نے ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا؟ اگر ایکشن لیا جاتا تو یہ کھلواڑ اب تک جاری نہ ہوتا، جس کے خلاف ایکشن لیا جانا تھا تو ان کو آپ نے وہاں سے اٹھا کر وزارت ہوابازی عنایت کی ہے۔ موصوف کا یہاں پر بھی یہ گل کھلا رہے ہیں کہ آج کئی ممالک میں پی آئی اے پر پابندی ہے اور ایک جہاز بیرونی عدالت کے ہاتھوں یرغمال ہے جبکہ دوسرے موصوف کو وزیر بنانے کی خاطر سینیٹر بنانے کی افواہیں مارکیٹ میں بک رہی ہیں۔ جب احتساب نہیں ہوتا تو ملک کا نقصان کم نہیں بلکہ بڑھتا ہے جو کہ بڑھ رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کو غلط اعداد و شمار پیش کرنے کے سبب ملک کو ایل این جی کی مد میں 122 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔ آپ چونکہ ایماندار ہیں اس لئے گردشی قرضہ آپ کو سونے نہیں دیتا ہے لیکن گیس کی مد میں غلط فیصلوں کی وجہ سے گردشی قرضہ بھی بڑھا ہے گھٹا نہیںکیونکہ ایل این جی مہیا نہ ہونے کی وجہ سے ٹرمینل پلانٹس آئل فرنس سے بجلی پیداکرتے ہیں جس کی لاگت ایل این جی کے مقابلے میں زائد ہے جبکہ آپ کی حکومت آنے سے ملک میں بجلی بلز کی ریکوری میں کمی آئی ہے اور ساتھ ہی لائن لاسز میں اضافہ بھی ہوا ہے تو اس سے لامحالہ گردشی قرضے میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف ایل این جی ٹرمینلز کو گیس نہ ملنے کی وجہ سے ہم انہیں کپیسٹی چارجز دینے پر بھی مجبور ہیں تو اس مد میں بھی گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے۔

آپ کی نیند کا علاج آپ کے ہاتھ میں ہے بلکہ اب تو پوری قوم کی نیند اڑ چکی ہے لیکن آپ تشخیص غلط کر رہے ہیں، اپنی ناکامیاں بھی اپوزیشن کے کھاتے میں ڈالتے ہیں اور قوم کو مس لیڈ کر رہے ہیں تو اس سے نیند کی شکایت بڑھتی ہے گھٹتی نہیں۔ نواز حکومت اگر ایل این جی کے متعلق بروقت فیصلے نہ کرتی تو آج نہ جانے آپ اور قوم کی نیند کی شکایت کا کیا عالم ہوتا لیکن اس فیصلے کو بھی داد دینے کے بجائے سنگین کرپشن پر مبنی فیصلہ قرار دیا جاتا ہے حالانکہ یہ طویل المدتی معاہدہ ایشیائی ممالک کے مقابلے میں سستا ترین معاہدہ تھا۔ شاہد خاقان عباسی کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ عمران خان سے حکومت نہیں چل رہی اور یہ جتنی جلد حکومت چھوڑ دیں تو ملک پر یہ ان کا احسان ہو گا۔ عمران خان اگر ایسا نہیں سوچتے ہیں تو عمران خان کو لانے والے ہی ایسا سوچیں۔

یہ بھی پڑھیں

editorial

ریاستی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے

عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے شہید ترجمان اسد خان اچکزئی کی شہادت پر اس وقت …