سیاحت کا عالمی دن اور ہمارا پاکستان

آج دنیا بھر میں سیاحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا میں سیاحت کے فروغ، آگاہی اور اس کے ذریعے لوگوں اور ماحول کی بہتری کے لیے کام کے حوالے سے مل کر کام کرنا ہے۔یہ دن اقوام متحدہ کے اداے ورلڈ ٹورارزم آرگنائزیشن کے زیر اہتمام پہلی بار سال انیس سو اسی میں منایا گیا جس کے بعد ہر سال ستائیس ستمبر کا دن عالمی طورپر سیاحت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سیاحت کا شعبہ اس لحاظ سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ آج کل کے دور میں ڈپریشن اور ٹینشن بہت عام سی بیماریاں ہیں، ایسے میں سیر و تفریح انسانی دماغ اور ذہن کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔

شہری علاقوں میں رہنے والے لوگ جب کسی دریا یا ندی کے کنارے کچھ وقت گزارتے ہیں تو ان کو زندگی کا اصلی احساس ہونے لگتا ہے۔ قدرتی چشموں سے بہتا پانی ہو یا آسمان سے باتیں کرتے درخت، دریا کا شور ہو یا پرندوں کے گیت یہ سب ہی انسانی دماغ کو تروتازہ کر دیتے ہیں۔ پاکستان جس کو قدرت نے بے پناہ قدرتی حسن دیا ہے اور اس دھرتی پر پرانے زمانے کی وہ قومیں آباد رہی ہیں جنہوں نے کبھی دنیا پر راج کیا تھا۔ ان بادشاہوں کے آثار قدیمہ، بلوچستان اور سندھ کے صحرا ہوں یا گلگت بلتستان، سوات اور چترال کے فلک بوس پہاڑ، میدانی علاقے ہوں یا خوبصورت وادیاں گھنے جنگلات ہوں یا بہتے چشمے اور آبشار اس مملکت خداداد میں سیاحت کے حوالے سے ہر وہ موسم اور ہر وہ خوبصورتی موجود ہے جو کہ سیاحت کے شعبے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے باقی ممالک جن میں اتنی قدرتی خوبصورتی ہوتی نہیں انہوں نے محنت کر کے اپنے ممالک کو دنیا کی مقبول ترین سیاحتی مقامات میں تبدیل کیاہے مگر ہمارے ملک میں ہم قدرتی حسن اور قدرت کی دی ہوئی اس دولت سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔

ہمارے ملک کی بدقسمتی سمجھیں یا دنیاوی حالات پچھلے بیس سال سے پاکستان اور پورا خطہ بری طرح جنگ کے اندھیروں میں ڈوبا رہا، افغانستان میں امریکی حملے کے بعد خطے میں ایسے حالات پیدا ہوئے یا ایک سازش کے تحت پیدا کر دیئے گئے کہ جس میں پاکستان جو اس جنگ میں شامل ایک حمایتی ملک تھا اس میں ملکی معیشت، دفاع اور باقی معاملات سمیت سیاحت کے شعبے کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ اندرون ملک سیاحت میں شاید اس جنگ کا وہ اثر نا ہوا ہو مگر عالمی سطح پرسیر و تفریح کے لیے پاکستان آنا کوئی اچھی سوچ نہیں سمجھی جاتی کیونکہ پاکستان کی بجائے سیاح کسی پرامن ملک میں آرام سے اپنی تفریح کر سکتے تھے بجائے اس کے کہ پاکستان میں خطرہ مول لیا جائے۔ ملک کے اندر جیسے حالات بہتر ہونا شروع ہوئے تو سیاحت کے شعبے میں بھی جان آگئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار چودہ سے لے کر سال دو ہزار بیس تک پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں تین سو سترہ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مگر رواں سال کی شروعات سے دنیا میں کورونا وبا پھیلنے کے بعد پوری دنیا میں سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا۔ پاکستان میں تو خدا کی رحمت سمجھیں یا حکومت کی بہترین پالیسی جس کی وجہ سے کورونا وبا کو قابو کر لیا گیا۔ اور جون جو کہ پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے بہترین مہینہ سمجھا جاتا ہے اس میں سیاحت کے شعبے کو کھول دیا گیا جس کے ساتھ ہی ملک کے شمالی علاقہ جات میں ریکارڈ تعداد میں لوگ سیر و تفریح کے لیے گئے جس سے سیاحتی مقامات کے ہوٹل مالکان اور سیاحت کی صنعت سے وابستہ لوگوں کا گزر بسر ممکن ہو گیا۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے مگر ہم نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اپنے کام کو دس سال پہلے پورا کر لیا ہے جو کہ یقینی طور پر ایک اچھی نشانی ہے۔

مگر کیا ہم صرف عالمی اداروں کی ڈیڈلائن دیکھ کر ہی کام کریں گے۔ کیا اس کے بغیر ہم اپنی ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے خود سے کچھ نہیں کریں گے۔ پاکستان میں سیاحتی مقامات تک جانے والے راستوں پر سڑکیں تک موجود نہیں اور جہاں تک سڑک گئی بھی ہو اس میں ناقص میٹیریل استعمال کیا ہوتا ہے جو کہ کچھ مہینے یا سال بعد پانی میں بہہ جاتا ہے اور پھر لوگ کھنڈر سڑک پر سفر کے بعد ہی سیاحتی مقامات تک پہنچتے ہیں۔ سیاحتی شعبے میں بہتری کے لیے سب سے پہلے تو ملک میں امن کا قیام ضروری ہے کیونکہ امن ہوگا تو ہی کوئی سیاح پاکستان کا رخ کرے گا یا ملک کے اندر اگر امن ہوگا تو تب ہی لوگ اپنے خاندان کے ساتھ سیاحت کے لیے جا سکیں گے۔

اس لیے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے امن کا قیام اور سیاحوں کے لیے وہ بنیادی انتظامات ضرور کیے جائیں تاکہ سیاح کسی بھی سیاحتی مقام پر اپنے آپ کو غیرمحفوظ نا سمجھیں۔ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں سیاحت اور آثار قدیمہ کے ساتھ وہاں ایسی ثقافت اور ایسے تاریخی مقامات موجود ہیں جو کہ سالانہ پاکستان کو کروڑوں روپے کی آمدن دے سکتے ہیں مگر جب تک امن نہیں ہوگا اور سیاحوں کو اپنی زندگی کی ضمانت نہیں ہو گی تو کوئی بھی اس صوبے میں سیاحت کی غرض سے نہیں جائے گا۔ بلوچستان ایک طرف افغانستان تو دوسری طرف ایران سے متصل ہے، یہ اس صوبے کی قسمت بدلنے کے لئے کافی ہے مگر بد قسمتی سے یہ فائدے کی بجائے نقصان میں جا رہا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے ساتھ سرحدوں کی وجہ سے ہی اس صوبے میں اکثر بد امنی ہوتی ہے۔

اسی طرح پاکستان کے قبائلی اضلاع جو خوبصورتی اور قدرتی حسن میں اپنی مثال آپ ہیں وہاں غیر ملکی تو کیا ملکی سیاحوں کے لیے بھی جانا مشکل ہے کیونکہ ایک تو ان علاقوں کو جانے والے راستے خطرناک اور زیادہ تر خراب ہیں تو دوسری طرف سیاحوں کی جان کو خطرہ بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ علاقے بھی سیاحوں کے مراکز بننے سے محروم ہیں۔ ان علاقوں میں اگر پوری طرح امن قائم ہو جائے تب بھی کسی سیاح اور خصوصی طور پر غیر ملکی سیاحوں کو ان علاقوں کی سیر کی طرف راغب کرنے اور ان کو یہ بات یاد دلانا یا سمجھانا کہ پشتون مہمان نواز اور غیرت مند قوم ہے بہت مشکل ہے کیونکہ پچھلے بیس سال سے پشتون کو دنیا نے ایک الگ رنگ میں دیکھا اور دکھایا ہے اب یہ حالت ہے کہ دنیا میں کوئی بھی عام پشتون شلوار قمیص پہنے یا داڑھی رکھنے والے کو شک کی نظر سے دیکھتا ہو وہاں کیوں کوئی سیاح اس علاقے کی طرف مائل ہو گا۔ ہمیں قبائلی روایات اور ثقافت کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ ہمیں قبائلی علاقوں میں کھیلے جانے والے علاقائی کھیلوں کے مقابلے منعقد کرانے چاہئیں، ان علاقوں کا وہ چہرہ دنیا کو دکھانا ہو گا جو کہ دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے، جو ثقافت اور مہمان نوازی کبھی پشتون کی پہچان ہوتی تھی وہ تشخص وہی عزت واپس دینی ہے۔

تب ہی جا کر ان علاقوں میں اصلی ترقی کا دور شروع ہو گا اور ملک اور بیرون ملک سیاح ان علاقوں اور ان لوگوں کا اصلی رنگ دیکھ سکیں گے۔ پاکستان میں دنیا کی دوسری بلند ترین پہاڑی چوٹی کے ٹو ہے تو اس کے ساتھ پاکستان میں صحرا تھر جیسا صحرا اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کی حسین وادیاں، وادی سوات کی دلنشین آبشاریں اور وادی ناران کاغان کے فلک بوس درخت یہ سب ہی سیاحت کے مراکز ہیں۔ اب حکومت ان مقامات تک رسائی آسان بنا دے اور یہاں آنے والوں کے لیے وہ سہولیات مہیا کرے جس سے ان علاقوں میں سیاحت میں اضافہ ہو، یہاں کو لوگوں کو روزگار ملے اور ملک کی آمدن میں بھی اضافہ ہو۔ موجودہ حکومت بار بار یہ دعوی کرتی ہے کہ سیاحت کو فروغ دینا اس کے منشور میں شامل ہے اور اس حوالے سے کچھ اقدامات بھی کیے گئے ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ان سوا دو سالوں میں حکومت سیاحت کے شعبے میں وہ کام نا کرسکی جس کی اس سے امید کی جا رہی تھی، اور جتنی انہوں نے اپنے منشور میں اس شعبے کی ترقی کے لیے وعدے کیے تھے۔ پچھلے کچھ سالوں میں شمالی علاقے خصوصاً کمراٹ جانے والے سیاحوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے اس لئے اس جانب سفر کو آسان بنانا ہو گا۔ اس ملک کو سیاحت کا مرکز بنانے کے لیے پہلے اس کو ایک پر امن ملک بنانا ہو گا۔ جب تک پاکستان کے اپنے پڑوسی ممالک سے تعلقات اچھے نا ہوں، جب تک خطے میں امن نا ہو تب تک پاکستان میں سیاحت کا شعبہ ترقی نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں

بی آر ٹی، ایک ”پوڈری” اور رکشہ ڈرائیور – تحریر: ملک سیدزمان خان

پشاور بی آر ٹی منصوبے پر ایک واقعہ بلکہ لطیفہ یاد آیا۔ ایک ”پوڈری” (ہیروئنچی …

%d bloggers like this: