کیا کیپٹن صفدر دوسرے زرداری بننے جا رہے ہیں؟

بے نظیر کی موجودگی میں آصف علی زرداری کو لوگ جانتے تو ضرور تھے اور کیونکر نہ جانتے، شادی جو بے نظیر سے کی تھی، یا بے نظیر کے شوہر نامدار جو تھے۔ اسی طرح کیپٹن صفدر کو بھی لوگ نواز شریف کی موجودگی اور مریم نواز کے ہوتے ہوئے جانتے ضرور تھے اور کیونکر نہ جانتے داماد جو تھے نواز شریف کے اور خاوند و مجازی خدا وند جو تھے مریم نواز کے۔

زرداری کس طرح پارٹی کے سربراہ یا شریک چیئرمین اور بعد میں صدر پاکستان بنے، سب روز روشن کی طرح عیاں ہے لیکن اب بات ہم کر رہے ہیں کیپٹن صفدر کی جو سیاست تو کافی وقت سے کر رہے تھے یا کر رہے ہیں، کیسز اور جیلوں کو بھی بھگتا، لیکن کبھی بھی دامادِ نواز شریف اور خاوندِ مریم نواز سے زیادہ نہیں پہچانے گئے لیکن گجرانوالہ جلسے میں جانے کے دوران مریم نواز کی گاڑی چلانے سے لے کر اپوزیشن کے کراچی کے پہلے اور مجموعی طور پر دوسرے جلسے کے انعقاد کے دوران قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں سیاسی نعروں تک محض تین دنوں میں نہ صرف سیاسی طور پر پہچانے گئے بلکہ ایک سیاسی لیڈر کی شکل میں بھی سامنے آ گئے۔ میڈیا بتاتا ہے کہ جب کیپٹن صفدر مریم نواز کی گاڑی گجرانوالہ جلسہ گاہ کی طرف لے جا رہے تھے تو مریم نواز کو ایک کال آتی ہے اور اس کال کے بعد خواجہ آصف کیپٹن صفدر کو ریپلیس کرتے ہیں اور آگے بظاہر ڈرائیو تو خواجہ آصف کرتے ہیں پر درون خانہ ایک اہم راز کو بھی زیر بحث لاتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور کیپٹن صفدر کے ساتھ ویسے ہی ہوا جیسے بے نظیر کسی پارٹی کے رازونیاز کے دوران آصف علی زرداری کے ساتھ ایک ہاتھ دور رکھ کر کرتی تھی لیکن زرداری پھر بھی جیل کی صعوبتوں کو بھگتتے رہے اور اداروں کے سامنے کھڑے، پر بی بی کے سامنے جھکتا رہا اور جب وقت قیام آیا تو پھر ایک عادی عبادت گزار کی طرح سجدے میں نہیں بلکہ ایک حاضر دماغ اور خشوع وخضوع دکھانے والے ایک مقتدی کی طرح امام کے پیچھے نیت باندھ کر قیام ہی میں کھڑے رہے۔

شاید کیپٹن صفدر نے بھی یہ محسوس کیا ہو گا کہ جیل جانے، سزا بھگتنے اور نیب کے کال اپ نوٹسز کو بھگتانے کے بعد بھی وہ نوازشریف کے رازونیاز کے دائرے میں ایک نقطے کی مانند جگہ نہیں رکھتے تو پھر انہوں نے بھی تو کچھ سوچنا تھا، آخر آرمی کے کیپٹن رہے ہیں، حالات کے مطابق سٹرٹیجی بنانا تو ان کو ابتدائی ٹریننگ میں سکھایا جاتا ہے اور کیپٹن تک پہنچتے پہنچتے تو وہ کئی بار اس کا عملی مظاہرہ بھی کر چکے ہوتے ہوں گے اب کیپٹن صفدر نے یہ قدم غیر شعوری طور پر تو میرے خیال سے اٹھایا نہیں ہو گا بلکہ سیاسی شعور اور موقع محل کے بروقت استعمال کا وہ نعرہ مستانہ اور باغیانہ حرکت اور عمل کا وہ اظہار ہے کہ اب یہ مسلم لیگ ن کی سیاست میں بالخصوص اور ملکی سیاست میں بالعموم گونجتا رہے گا۔ ان پر ایف آئی آر میں جو سیکشن لگے وہ قانون کے کریمینل سائیڈ کے ایک پریکٹیشنر کے لئے شائد کوئی معنی نہ رکھتے ہوں کیونکہ جو دفعات تھیں وہ بیلیبل (قابل ضمانت) تھیں، ایسے کیسز میں جیل جانا نہیں پڑتا ہے اور پولیس ریمانڈ میں ہی ضمانت ہو جاتی ہے، پر سیاست کے پچ پر ایک اچھے داؤ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اب کیپٹن صفدر کی یہ قربانی قبولیت کے درجات پر فائز ہو چکی ہے اور اس کے سیاسی ثمرات بھی سندھ پولیس کے اعلی افسران کی چھٹیوں پر جانے سے اور سندھ حکومت کی چیف آف آرمی سٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے اس واقعے کا نوٹس لینے کا کہنے اور آرمی چیف کا بلاول کو فون کرنے، سندھ کے کورکمانڈر سے نوٹس لینے کی صورت میں آ چکے ہیں۔ اب مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ش کی دوڑ میں مریم صفدر کے کندھے مضبوط کرنے اور ان کندھوں پر چڑھنے کے لئے ایک اور لفظ ص کا بھی اضافہ ہوگیا ہے اور مزے کی بات یہ کہ ان کو سیکیورٹی کلیئرنس کے لئے بھی پاپڑ بیلنے نہیں پڑیں گے کیونکہ ان کے نام کے ساتھ کیپٹن (ر) کا جو سابقہ نتھی ہے وہ ان کا بیڑا پار لگانے کے لئے کافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

Sultan

LNG کوئی گاجر مولی نہیں؟

غلط اور تاخیر سے فیصلوں کی وجہ سے قومی خزانے کو 122 ارب روپے کا …