کرک کو کس کی نظر لگ گئی؟

پورے پاکستان میں کرک وہ واحد ضلع تھا اور ہے جہاں صرف ایک قبیلہ، ایک ہی قوم ”خٹک” آبا د ہیں۔ پورے پاکستان میں کرک ہی وہ واحد ضلع ہے جس میں ایک ہی مذہبی مسلک کے لوگ آباد ہیں، یہاں کو ئی فرقہ پرستی نہیں۔ پورے پاکستان میں کرک ہی وہ واحد ضلع ہے جس میں خواندگی کی شرح قابلِ تعریف ہے۔ کوئی سرکاری ادارہ ایسا نہیں جہاں خٹک موجود نہ ہو، پورے پاکستان میں کرک ہی وہ واحد ضلع ہے جس میں مشکل سے ایسا قبرستان ملتا ہے جس میں کسی قبر پر ہلالی پرچم نہ لہرا رہا ہو، ڈیفنس فورسز میں ملازمت کرنے والے ہزاروں شہید اسی ضلع میں آسودہ خاک ہیں۔

پورے پاکستان میں کرک ہی وہ واحد ضلع ہے جس میں اس وقت بھی دہشت گردی کا کوئی قابلِ ذکر واقعہ نہیں ہوا جب پورا ملک خصوصاً خیبر پختونخوا دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا اور روزانہ خیبر پختونخوا میں کہیں نہ کہیں دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا تھا۔ پورے پاکستان میں کرک وہ واحد ضلع تھا جو سب سے زیادہ پرامن، دہشت گردی اور دہشت گردوں سے پا ک تھا۔ پورے پاکستان میں کرک ہی وہ واحد ضلع ہے جس پر ذاتِ الہیٰ خصوصی طور پر مہربان ہے، معدنی دولت سے مالامال اس ضلع میں گیس اور تیل کے اتنے بڑے ذخائر موجود ہیں جو کسی اور ضلع میں نہیں ہیں۔ اندریں حالات ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس ضلع میں ترقی کی رفتار قابلِ رشک ہوتی مگر ترقی تو درکنار پچھلے چند ہفتوں سے اس ضلع میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں ان سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ کرک کا رخ کسی ایسی طرف جا نکلا ہے جو بربادی کا راستہ ہے۔ گزشتہ دنوں خٹکوں اور ضلع کرک کے سابقہ ریاستی دارلحکومت ٹیری میں واقع ہندوؤں کی سمادھی (جس کو عرفِ عام میں مندر کہا جاتا ہے) پر چند ناعاقبت اندیش لوگوں نے حملہ کیا، اسے گرایا، جلایا اور یوں پورے کرک کی بدنامی ہوئی صرف پاکستان میں نہیں، پوری دنیا میں بدنامی ہوئی۔

وجوہات جو بھی تھیں مگر کسی مذہب کے عبادت خانہ کو جلانے یا مسمار کرنے کی اجازت دینِ اسلام ہرگز نہیں دیتا۔ تادمِ تحریرِ قبیلہ خٹک کے متعدد مشران، جن میں مولوی شریف کے علاوہ مولوی میرزاقیم اور رحمت سلام بھی شامل ہیں، اس رسوائے زمانہ واقعہ کے الزام میں پابند سلاسل ہیں۔ اس افسوسناک واقعہ کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ گزشتہ روز پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا جس میں ایک پولیس کانسٹیبل شہید کیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس نے کرک کے خراب ترین حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے بذاتِ خود کرک کا دورہ کیا۔ پولیو ٹیم پر حملہ پورے ضلع کے لئے ایک اور رسوائی کا سبب بنا۔ قتل، چوری، ڈاکہ اور نشے کا استعمال بھی اگرچہ باعثِ تشویش بات ہے مگر اس کا تعلق حدودِ ضلع تک محدود ہے مگر مندر کو جلانے یا پولیو ٹیم پر قاتلانہ حملہ جیسے واقعات تو ملکی اور عالمی سطح پر بدنامی کا موجب ہیں۔ بعض ایسے ناکردہ جرائم بھی ہیں جو ضلع کے باسیوں کے صفحہء قسمت پر خوامخواہ تحریر کئے گئے ہیں جو انہوں نے کئے ہی نہیں ہیں، وہ جرائم بجلی اور گیس چوری کے ہیں۔ اسلام آباد میں جب بھی ضلع کرک کا ذکر آتا ہے تو کرک کے لوگوں پر بجلی اور گیس چوری کا الزام ضرور لگایا جاتا ہے۔ یہ کوئی نہیں کہتا کہ یہ ضلع تو پورے ملک کو گیس سپلائی کرتا ہے مگر خود گیس سے محروم ہے۔

اسی طرح اگر بجلی جائز طریقے سے نہیں ملتی تو پھر مجبوراً چوری تو ہو گی۔ الغرض یہ ضلع جائز اور ناجائز دونوں طریقوں سے ایک ایسی سمت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جو تباہی اور بربادی کا راستہ ہے۔ ان قابلِ تشویش حالات کی ذمہ داری اگر ایک طرف چند انتہا پسند افراد پر عائد ہوتی ہے تو خیبر پختونخوا پولیس کی بھی ذمّہ داری اور فرضِ اولین ہے کہ وہ امن و امان قائم رکھنے میں اپنے فرائض کی انجام دہیمیں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے۔ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کو چور چور کی گردان کی بجائے حقائق پر مبنی صورتِ حال کا جائزہ لے کر عوام کے مسائل و مشکلات کو حل کرنے کی طرف توجہ دینا چاہیے۔ عوام کے منتخب نمائندوں کو بھی اس نازک صورتِ حال کا جائزہ لے کر اس کے سدِ باب کا سوچنا چاہئے۔ اگرچہ اس وقت پانی سر سے نہیں گزرا، حالات اس نہج پر نہیں پہنچے کہ واپسی ممکن ہی نہ ہو، البتہ کرک جس ڈگر پر اور جس سمت پر چل پڑا ہے وہ درست نہیں اور اسے درست کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کوا، چڑیا اور میدانِ سیاست کے شاہین

تحریر: سلطان خان ٹکر ضمنی انتخابات کے بعد اپوزیشن پراعتماد سی لگتی ہے اور یہ …