اے این پی کی ذمہ داری ختم

رفتہ رفتہ پشتونوں کی سیاسی سوچ بدل رہی ہے، جو بھی پشتون تھوڑی بہت سیاسی سوچ اپنا لیتا ہے اس میں تھوڑا سا سیاسی شعور آ جاتا ہے، وہ اپنے پشتونوں کی فکر میں لگ جاتا ہے، باچا خان نے جب محسوس کیا کہ انگریزوں کے سامنے پشتونوں کی کوئی سنجیدہ سیاسی تحریک نہیں ہے، انگریز اس وقت کی امیرترین اور طاقتور قوم تھی، باچا خان نے سوچا کہ اس طاقت کے سامنے آپ جتنی بھی طاقت استعمال کرتے ہیں اتنا ہی آپ کو زیادہ نقصان ہو گا۔ جب پشتونوں نے مزاحمت شروع کی تو پشتون ڈیورنڈ لائن کے ذریعے تقسیم ہوئے۔ افغانستان کے حکمرانوں کی مجبوری تھی کہ وہ اپنا آدھا حصہ انگریز کو دیں اور باقی افغانستان کو بچایا جائے۔ موجودہ پختونخوا سمیت سابقہ فاٹا کو تو انگریزوں نے طاقت سے فتح کیا جبکہ انگریز نے کئی اسٹریٹجیز اپنا لی تھیں، سب سے بڑھ کر انگریزوں کی طاقتور فوج تھی اور اس کے بعد انگریزوں کی مضبوط معاشی طاقت تھی۔ ان کے پاس اتنا زیادہ پیسہ تھا جس سے انہوں نے پختونخوا کے لالچی اور قوم دشمن خوانین، ملکان اور مولویوں کو خرید لیا جنہوں نے انگریزوں کے تحفظ کے لئے کام کیا، جس پشتون نے انگریزوں سے بغاوت کی بات کی، اسے غدار قرار دیا گیا۔ باچا خان نے پشتونوں کو سیاسی کرنا چاہا کہ انگریز جیسی سپر پاور طاقت کے سامنے اور ان کے خریدے ہوئے پختون غلاموں کے سامنے عدم تشدد پر مبنی سیاسی تحریک چلانا ہو گی کیونکہ پرتشدد تحریک ناکام تھی۔ آدھے سے زیادہ پشتونوں کو انگریزوں نے خرید لیا تھا اور باقی کو کوئی شعور نہیں تھا۔ باچا خان نے اپنی تحریک کا آغاز تعلیم سے کیا، پشتونوں کو شعور دیا کہ علم کیسے حاصل کیا جاتا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے، آزادی کیا ہوتی ہے اور آزادی کس طرح حاصل ہوتی ہے، اپنے درمیان میں سر، نوابوں اور خان بہادروں کا مقابلہ کیسے کرنا ہے، باچا خان کی جدوجہد سے تو ساری دنیا واقف ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے لیکن یہ بات بلکل اٹل ہے کہ پشتونوں کو سیاسی سوچ باچا خان نے دی ہے۔ باچا خان نے بے تحاشا قربانیاں دی ہیں۔ باچا خان کی سیاسی اور تعلیمی جدوجہد کی بدولت آج مجھ جیسے ناچیز کو بھی یہ معلوم ہے کہ میرے کیا حقوق ہیں، میری کیا تاریخ ہے، میرے وسائل کیا ہیں اور اس پر کس کا قبضہ ہے۔ یہ سب باچا خان بابا کی تحریک کے ثمرات ہیں۔ باچا خان کی اس سیاسی اور آگاہی تحریک کو بعد میں ولی خان اور اسفندیار خان نے جاری رکھا۔ انگریز کی جگہ پاکستان نے لی۔ پاکستان میں ہمارے ساتھ شراکت اقتدار کی بات ہوئی اور ہم سب مسلمان تھے، پڑوسی قومیں ہیں، ہم نے پاکستان کو تسلیم کیا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ انگریزوں کے ساتھ کام کرنے والے جاگیردار لوگ یہاں بھی سیاست میں داخل ہو چکے ہیں اور انگریزوں کی فوج میں اور بیوروکریسی میں کام کرنے والے پاکستان میں اعلی عہدوں پر براجمان ہیں اور اس نئی ریاست میں عوام کے حقوق غصب کر رہے ہیں، جمہوریت کو ناکام بنانے کی سازش کر رہے ہیں، بیرونی طاقتوں کے سامنے سر جھکا کر چلتے ہیں، ڈالرز لیتے ہیں، آئین بناتے نہیں اور قانون شکن بنتے ہیں، جاگیردار اور سرمایہ دار غریب کو مزید غربت میں دھکیل رہا ہے تو ولی خان جمہوریت کی مضبوطی کے لئے آگے بڑھے اور وہ تحریک بعد میں عوامی نیشنل پارٹی میں تبدیل ہو گئی۔ عوامی نیشنل پارٹی نے ہر دور میں جمہوریت آئین کی بات کی ہے بلکہ غیر جمہوری قوتوں سے جمہوریت کا دفاع کیا ہے۔ اس درمیان میں افغان جنگ شروع ہوئی جو امریکہ اور روس کی جنگ تھی لیکن افغان سر زمین استعمال ہو رہی تھی، کمیونزم کو ہرانے کے لیے اسلام استعمال ہو رہا تھا۔ اسی درمیان اربوں ڈالرز آ رہے تھے۔ مولوی صاحبان یا تو استعمال ہو رہے تھے یا وہ گیم سمجھ رہے تھے لیکن لوگوں کو استعمال کر رہے تھے۔ اس وقت باچا خان کی تحریک پیچھے چلی گئی۔ تحریک جاری تھی لیکن پروپیگنڈوں، نصاب، میڈیا برین واش اور ممبر نے اکثریت پشتونوں کو سیاسی طور پیچھے دھکیل دیا۔ نیشنلزم سوچ محدود ہو رہی تھی۔ پشتون دوسرے راستے پر گامزن تھے جو پرتشدد راستہ تھا، پشتون اپنے آپ کو تباہ کر رہے تھے لیکن عوامی نیشنل پارٹی نے باچا خان کا نظریہ، سوچ اور فکر اس وقت بھی زندہ رکھا، پشتونوں کو جگا رہے تھے کہ اس جنگ سے نکل آئیں، یہ دو طاقتوں کی جنگ ہے، آپ صرف آگ میں لکڑیوں کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔ ہماری پیدائش اس وقت ہوئی جب کابل میں ڈاکٹر نجیب کی حکومت تھی اور پھر جب ہم بڑے ہو رہے تھے تو ڈاکٹر نجیب اقوام متحدہ کے دفتر میں پناہ لے چکے تھے پھر ڈاکٹر نجیب کا قتل ہوا، میں بارہ سال کا تھا، مجھے معلوم نہیں تھا کہ ڈاکٹر نجیب کون تھا، امریکہ اور روس کی جنگ ہے، لیکن مجھے یہ معلوم تھا کہ طالبان اور روس کی جنگ ہوئی تھی، طالبان نے روس کو شکست دی تھی پھر طالبان کی حکومت بنی اور اس حکومت کی تعریفیں ہمارے سادہ لوح لوگ بار بار کر رہے تھے۔ مجھے واقعی معلوم نہیں تھا کہ افغان کون ہیں، سرد جنگ کیا ہوتی ہے، سرد جنگ افغان سرزمین پر کیوں لڑی گئی، معیشت ایک قوم کے لئے کتنی اہمیت رکھتی ہے، ہمیں صرف یہ معلوم تھا کہ روسی جہنمی ہیں اور طالبان بڑے اچھے فرشتے ہیں۔ پھر عوامی نیشنل پارٹی سے میری محبت پیدا ہوئی اور رسالے دیکھنے کا اتفاق ہوا، باچا خان کے بارے میں پڑھا اور عوامی نیشنل پارٹی کے مشران ولی خان اور اسفندیار خان کی تقاریر سننے کو ملیں۔ اس وقت سے ہم میں یہ شعور آیا کہ ہم کون ہیں، ہمارا ملک پاکستان ہے لیکن پاکستان نے ہمیں کیا دینا ہے، ہم کو کیا دینا ہے، پشتون اور افغانستان کیوں آگ پکڑ چکے ہیں، مسائل کا حل کیا ہے، اسفندیار ولی خان کی2000 سے پہلے کی تقاریر میں ہمارے لئے شعور بھی تھا، ہمارے لیے راستہ بھی تھا، ہمارے مسائل کا حل بھی تھا اور ہمارے حقوق کے لئے آواز بھی تھی۔ مشرف دور میں بھی اسفندیار ولی خان کی تقاریر میں پشتون نوجوانوں کے لئے سیاسی شعور بھی تھا اور جدید پشتون سیاست کی سمجھ بھی تھی۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھ جیسے لاکھوں نوجوانوں کو یہ شعور عوامی نیشنل پارٹی نے دیا ہے کہ میں کون ہوں، اور میرے کیا حقوق ہیں، میری کیا تاریخ ہے، اب وہ لاکھوں نوجوان مزید لاکھوں لوگوں کو سمجھا رہے ہیں اور عنقریب یہ تعداد کروڑوں میں پہنچنے والی ہے۔ آپ نے کل پرسوں کا واقعہ دیکھا ہوگا کہ افغان شہری کے ساتھ ناروا اور غیر انسانی سلوک کیخلاف پورا پختون بیلٹ ایک ہو چکا ہے، لوگ آواز بلند کر رہے ہیں، وہ لوگ بھی افغان کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں جو کل تک یہ کہتے تھے کہ افغانی نمک حرام ہیں، آج وہ اپنے افغان بھائی کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، یہ تبدیلی پشتون تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو مل رہی ہے کہ پشتون قبیلوں سے اور سیاسی پارٹیوں سے نکل کر اپنے پشتون بھائی کی عزت کی خاطر ایک ہو چکے ہیں۔ ہاں! میں یہاں کہہ سکتا ہوں کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنا کام پورا کر دیا ہے، اب سیاسی شعور اکثریت پشتونوں نے حاصل کر لیا ہے، یہاں عوامی نیشنل پارٹی کی ذمہ داری مکمل ہوئی، اب آپ فیصلہ کریں کہ اپنے حقوق حاصل کرنے ہیں، اپنے وسائل پر اختیار حاصل کرنا ہے، جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کام کرنا ہے، آپ جس راستے پر بھی جائیں گے اگر آپ کی جدوجہد نیشنلزم کی بنیاد پر ہو رہی ہے تو یہ کریڈٹ عوامی نیشنل پارٹی کو جاتا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کو ایک مدرسہ سمجھ کر اس کا احترام ہر پشتون پر لازم ہے۔ مستقبل میں اس کے ساتھ کچھ ایشوز پر کسی کا بھی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن جس مدرسے نے آپ کی تربیت کی ہے اس کا احترام آپ پر لازم ہے۔

یہ بھی پڑھیں

sadar Jamal

دانہ خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے

جب لازو کا آخری وقت قریب آیا تو کسی نے اس کی زندگی کے کچھ …