مہابنڑ۔۔انتہائی پرکشش مگر عدم توجہی کا شکار سیاحتی مقام

خیبر پختونخوا کے متعدد علاقے قدرتی خوبصورتی اور دلکش مناظر سے مالا مال اور غیرملکی اور مقامی سیاحوں کیلئے کشش کا باعث ہیں جنہیں کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا نا ہی کیا جانا چاہیے لیکن بدقسمتی سے پچھلے یا موجودہ حکمرانوں میں سے کسی نے بھی ان پرکشش سیاحتی مقامات کی ترقی اور فروغ کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا نہیں ہے۔ ان خوبصورت اور پرکشش مقامات میں سے ایک مہابنڑ بھی ہے جو خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع جیسے بونیر، صوابی، ہری پور اور تور غر کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، یہ سائٹ شانگلہ اور مانسہرہ اضلاع سے بھی بہت کم فاصلے پر واقع ہے۔ ہزاروں ایکڑ سے زیادہ ہموار زمین پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے، مقامی افراد کے مطابق سطح سمندر سے6500 فٹ بلندی پر ہے لیکن یہاں کا ماحول کچھ مختلف کہانی بتا رہا ہے کیونکہ یہاں ہر کوئی آکسیجن کی کمی کو محسوس کر سکتا ہے اور یہاں کی ہوا بھی خشک ہے۔ پہاڑ کی چوٹی کو ”باغونہ” (باغات) کہا جاتا ہے جہاں سے بونیر، صوابی، تور غر اور ہری پور کے نظاروں کو دیکھا جا سکتا ہے، باغونہ سے تربیلہ جھیل کے خوبصورت مناظر سے بھی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

اسی طرح مہابن پہاڑ، جنگل اور پرندوں کے لئے بھی جانا جاتا ہے۔ سیاحتی مقام کے طور اسے ترقی دینے میں حکومت کی ناکامی کے علاوہ جنگلات کی غیرقانونی کٹائی کے سبب مہابن کا مستقبل بھی خطرے میں ہے۔ موجودہ وقت میں مختلف سڑکوں کے ذریعے ان چاروں اضلاع سے جیپ کے ذریعے اس چوٹی تک آسانی سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن مواصلات کے شعبہ میں مزید ترقی اور بہتری سے سیاح عام موٹر کاروں کے ذریعے کئی کلومیٹر لمبی چوٹی تک آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔ پہاڑی سلسلے کی چوٹی پر باغونہ سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک خاص سائٹ موجود ہے جسے بارچر کہا جاتا ہے۔ درحقیقت بارچر ایک ایسے درخت کا نام ہے جس نے تقریباً پورے پہاڑ کا احاطہ کیا ہے جو پرندوں اور دیگر جنگلی جانوروں کیلئے سب سے زیادہ محفوظ پناگاہ یا گھونسلا سمجھا جاتا ہے۔ کچھ تین سال پہلے خیبر پختونخوا کے محکمہ سیاحت نے یو این ڈی پی اور ہاشو فاؤنڈیشن کے مالی تعاون سے سیاحوں کیلئے سہولیات کی فراہمی پر کام شروع کیا جس کے بعد ہی یہاں پر10 رہائشی اپارٹمنٹس (سات سنگل کمرے اور تین ڈبل کمرے) قائم ہوئے۔ ان اپارٹمنٹس کے علاوہ دفتر، باورچی خانے اور دیگر سہولیات بھی مہیا کی گئی ہیں۔ یہ سائٹ70 کنال اراضی پر محیط ہے۔ ان تمام امپورٹڈ پلاسٹک میٹریل سے بنے اپارٹمنٹس اور سہولیات کو شمسی توانائی کے نظاموں کے ساتھ دلکش بھی بنایا گیا ہے۔

اگرچہ یہ سائٹ انتہائی خوبصورت جگہ پر واقع ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں تک پہنچنے کیلئے مناسب سڑک کا فقدان ہے یہاں تک کہ سڑک جیپ، پک اپس اور موٹرسائیکلوں کیلئے بھی موزوں نہیں ہے۔ اگرچہ یہاں قدرتی چشمے موجود ہیں لیکن متعلقہ حکام نے کنوؤں کی کھدائی پر لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں جو ناکام ہو گئے تھے۔ اسی طرح محکمہ سیاحت کی جانب سے درختوں، گلابوں اور دیگر پودوں کی شجرکاری سے اس سائٹ کو ابھی اور پرکشش بنانا ہے۔ تاہم ضلع بونیر کے علاقے ملکا کے رہائشی سید محمد حسین کا خیال ہے کہ سڑکوں کی تعمیر سے پانی اور اس جیسے دیگر کئی مسائل کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ بارچر اور ملکا کے درمیان آٹھ کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر اور بارچر اور ٹاپ کے درمیان ڈیڑھ کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ کلومیٹر سڑک کی تعمیر سے یہ خوبصورت سائٹ آسانی سے صوابی سے منسلک ہو جائے گی۔ حکومت نے اتلاٹان کے قریب گدون کے علاقے میں مہابن کے جنوبی کنارے پر ایک اور ڈیم کی تعمیر کے لئے بھی منصوبہ بنایا ہے جو مستقبل قریب میں مہابنڑ کے خاص طور پر باغونہ کی قدرتی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرے گا۔ خنجراب سے گوادر تک تجارتی سفر اور سیکیورٹی صورتحال کی نگرانی کے لئے ایک بہت بڑا کمپلیکس تعمیر کرنے کے بارے میں پہلے ہی اطلاعات ہیں۔ ملکا سے تعلق رکھنے والے سید خورشید باچا اس علاقے کے خوبصورت پہاڑوں کی چوٹیوں کی ترقی کے لئے ہمیشہ کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے اب تک بڑی تعداد میں عہدیداروں، سیاحوں، طلباء اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو مدعو کیا ہے۔ اگرچہ اب لوگ بارچر کا رخ کر رہے ہیں لیکن سہولیات کے فقدان کی وجہ سے وہ زیادہ دن قیام نہیں کر سکتے۔ محکمہ سیاحت خیبر پختونخوا کے اعلی حکام کے علاوہ کوئی بھی پہلے سے تیارشدہ سائٹ میں سہولیات کے فقدان کا ذمہ دار نہیں ہے جن میں بونیر اور صوابی کے اطراف سے یہاں تک رسائی کے راستے بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

Bacha Khan

صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد کشمیر پر حملہ (دوسرا حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی افواج کی طرف سے ایک خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی اور …