ایک کارخانہ ہزار لنگر خانوں سے بہتر ہے

تحریر: ماخام خٹک

سوشل میڈیا ہر وقت آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور آپ کے ساتھ رہتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ موبائل اب عادت کی طرح بن چکا ہے، جیسے ہی بندہ ذرہ فارغ ہوتا ہے ہاتھ فٹ سے موبائل کی طرف چلا جاتا ہے اور گوگل، وٹس ایپ، انسٹاگرام اور ٹویٹر وغیرہ کو سرچ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ آج اتوار کی چھٹی کی وجہ سے کچھ فراغت ملی تو فیس بک پر سرچ کے دوران ایک پوسٹ پر نگاہ رک گئی ایک پوسٹ اور دو تصویریں، لیکن دونوں ساتھ ساتھ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے معنی کے لحاظ سے، سماجی طور پر اور اقتصادی نقطہ نظر سے بعدالمشرقین تھیں۔ پوسٹ کی اوپری حصے کی تصویر ایک کارخانے کی تھی اور کارخانہ برابر چلتا ہوا دکھایا گیا تھا اور کارخانہ تیارکردہ مصنوعات سے لدھا پھندا ہوا تھا اور کارخانے کے مزدور اور دیگر ملازمین کام میں مصروف عمل دکھائی دے رہے تھے، جبکہ تصویر کے نیچے والے حصے میں بھی لوگ مصروف عمل تھے لیکن کسی کام کاج میں نہیں بلکہ کھانے کے دسترخوان پر قطار میں کھانا تناول فرما رہے تھے اور ساتھ میں لکھا ہوا تھا، ”ایک کارخانہ ہزار لنگر خانوں سے بہتر ہے۔“ یہ پوسٹ اور تحریر کو پڑھنے کے بعد میرے مشاہدے میں آنے والے متعدد دسترخوان اور کھانا کھلانے والے گشتی کارکن میری نظروں کے سامنے آ گئے خواہ وہ سیلانی دسترخوان ہو، چھیپا دسترخوان ہو، ایدھی دسترخوان، حسینی دسترخوان ہو یا دیگر دسترخوان یا خیراتی ادارے ہوں، چونکہ میں کراچی میں رہتا ہوں تو میں کراچی کے حوالے سے بات کروں گا۔ یہ دسترخوان یا لنگر خانے کراچی میں ہر دوسرے تیسرے چوک یا چورنگی پر آباد ہیں اور شہر کی دیگر جگہوں اور گلیوں میں ان لنگر خانوں کی موجودگی اس کے علاوہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف ہوٹلوں میں ان مفت کھابے والوں یا غریب سائلین کی اکثریتی موجودگی الگ ہے جہاں دیگر مخیر حضرات ان ہوٹل کے مالکان کو ان مستحقین کے ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کی ادائیگیاں چپ کے سے کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں صدقہ، خیرات خود کو اور اپنے پیارے مرحومین کو بخشوانے اور بلائیں دور کرنے کے لئے خاص طور پر غریب غربا کو کھانا کھلانے اور مدرسہ و مسجد میں دینے کے رواج یا طریقہ کار کو افضل اور پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس طرح کے پیسے سکول، کالج، یونیورسٹی یا دیگر کارآمد جگہوں ہر نہیں لگائے جاتے ہیں اور نہ ایسے افراد کو دیئے جاتے ہیں جو غریب اور تنگدست ہوتے ہوئے اچھے ہنرمند اور اہل کسب ہوتے ہیں، جو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ایسی جگہ پر کام کاج کے وقت کھانا کھانے یا ناشتہ کرنے کو آتے ہیں۔ اگر یہ مخیر حضرات ایسے لوگوں کی مدد کریں تو یہ دیرپا اور کارآمد طریقہ ہو گا جو صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ اس بندے کے خاندان کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی خدمت اور اصلاح کا موجب ہو گا۔ میرے خیال سے جتنا پیسہ ان لنگر خانوں، ان جگہوں اور ورکروں پر خرچ ہوتا ہے ان پیسوں سے ان لوگوں کے لئے جو وہاں تین وقت کھانے کے لئے آتے ہیں ان کے روزگار کے لئے چھوٹی چھوٹی سمال کاٹج انڈسٹری کے طرز پر یونٹس بنائے جا سکتے ہیں جن سے لنگر خانوں سے نکلنے والے عادی اور پروفیشنل مفت خوروں کے بجائے کارآمد اور پروفیشنل ورکرز اور ماہرین پیدا ہو سکتے ہیں جو نہ صرف اپنے اور اپنے خاندان کے لئے مفید ہوں گے بلکہ ملک کے سماجی اور اقتصادی امور میں بھی اپنا حصہ بقدر جثہ ملاتے جائیں گے۔ اور مزید یہ کہ مخیر حضرات کا راستہ نہیں تکتے رہیں گے اور دوسروں کے دسترخوان پر سوالی بن کر جھکے ہوئے سر سے کھانا نہیں کھائیں گے بلکہ اپنے گھر میں اپنے بچوں کے ساتھ اونچے سر اور اونچی نظروں سے نوالہ حلال اپنے شکم تک پہنچائیں گے اور اس کھانے میں کوئی عار اور شرمندگی بھی لنگر کے کھانے کی طرح محسوس نہیں کریں گے کیونکہ اگرچہ کھاتا تو منہ ہی ہے پر شرم آنکھیں محسوس کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بیانیے پر ڈٹا ہوا نواز شریف

تحریر: حماد حسن وہ یہی نواز شریف ہی تھا جس نے اپنی قریب المرگ اہلیہ …