نااھلیوں کا ڈراپ سین

نااھلیوں کا ڈراپ سین

وہ قومیں جو جدید دنیا میں عروج حاصل کر چکی ہیں، انسانی تجربوں اور مشقتوں کے لاتعداد پیمانوں سے گزری ہیں اور اپنی ریاستوں کو ترقی کے حوالے سے اوج ثریا پر پہنچا چکی ہیں اس کا ایک ہی بنیادی سبب ہے اور وہ ہے سویلین بالادستی اور جمہوریت کا تسلسل۔ جمہوری اصولوں تک پہنچتے پہنچتے دنیا نے اقتدار کے اصولوں کے حوالے سے ایک لمبا ارتقائی سفر طے کیا ہے یہاں تک کہ مولانا ابوالکلام آزاد بھی جمہوریت کے طرزِ حکمرانی کو اسلامی اصولوں کے عین مطابق قرار دیتے ہیں اور جمہوریت کے شورائیت کے اصول کو سماجی انصاف اور معاشی مساوات کے حصول کا ایک بہترین وسیلہ سمجھتے ہیں۔ مولانا آزاد ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اسلام کا نظام حکومت شورائیت ہے، مجلس شوری کو سربراہ مملکت کے مقابلے میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے، جمہور کی حقیقی مرضی شورائیت کی روح ہے۔ اسی طرح مولانا آزاد موجودہ دور میں اجتہاد کی جمودی کیفیت کو رد کرکے کہتے ہیں کہ مجلسِ شوری ان تمام معاملات میں آج بھی قانون سازی کر سکتی ہے جن میں قرآن و سنت کی واضح نصوص نہیں ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اسلام کے نام پر ملاکنڈ ڈویژن میں ایک تحریک چلی تھی۔ اس تحریک کے رہنما برملا اپنے جلسوں میں جمہوریت کو کفر قرار دیتے تھے۔
؎احکام تیرے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند
اگر موجودہ دنیا میں کوئی اپنے آپ کو کو عقل کل سمجھ کر عوامی راج کیلئے کوئی اور طرزِ حکمرانی کا تجربہ یا جستجو کرے گا تو ناکامی اس کے اس ارادے کا مقدر ہوگی خواہ وہ کتنے ہی جتن کر لے ساتھ ہی کسی ریاست کا بنانا اور اسے ایک حقیقی ویلفیئر سٹیٹ بنانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہوتا۔ اگر آپ کسی دو بھائیوں کے درمیان کسی چھوٹے سے دس مرلے کے گھر کی تقسیم بھی مسلم اصولوں کے برعکس کریں گے تو ان دونوں حقیقی بھائیوں کے درمیان وہ تقسیم بھی بیشمار سماجی مسائل کا باعث بنے گی چہ جائیکہ دو ریاستوں کی غیر فطری تقسیم۔ اسی طرح کسی بھی ریاست کو بنانے کیلئے بہت بڑے ہوم ورک اور اہل تدبر و دانش افراد کا وجود ضروری ہوتا ہے۔ اب ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ تقسیم ہند کے وقت مسلم لیگ کی قیادت نااہل تھی، دوراندیشی سے عاری اپنے مفادات و جاگیروں کے تحفظ کیلئے بورژوا طبقے کا ایک ہجوم تھا جنھوں نے اپنی جاگیروں کا تحفظ تو کیا مگر کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر۔ ہم مسلمان ہر نماز کے بعد یہود کو نیست و نابود کرنے کیلئے ہاتھ اٹھاتے ہیں، دنیا کی ہر مصیبت کے ذمہ دار یہود کو ٹھہراتے ہیں مگر یہ بھی کوئی یاد رکھے کہ اگر کسی نے مشکل ترین ماحول میں اپنی قوم کی بقا کیلئے اپنی ریاست قائم کرنی ہو تو وہ ان یہود سے جا کر کچھ سیکھ لے۔ جب 1948 میں اسرائیل معرضِ وجود میں آتا ہے تو ایک سال کے اندر اندر ان پر عربوں کی طرف سے چڑھائی کی جاتی ہے مگر اپنی حکمت عملی اور ہوم ورک کے ذریعے وہ اس کم سنی میں نہ صرف عربوں کی بہت بڑی طاقت کو پسپا کر دیتے ہیں بلکہ مزید مقبوضات بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور آج تک ایک سو تیس ارب مسلمان ان ایک کروڑ یہودیوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد آج تک ایک مخصوص ذہنیت کے زیر اثر سیاسی بالادستی اور لیڈر شپ کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا گیا ہے۔22 اگست1947 کو تب کے صوبہ سرحد میں خدائی خدمتگاروں کی ایک منتخب عوامی حکومت کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ان مخصوص رجحانات کی عکاسی کرتا ہے جو مستقبل میں اس ملک میں سیاست کے حوالے سے روا رکھے جانے والے تھے۔ جمہوری روایات کو شروع سے ہی پنپنے نہیں دیا گیا اور مفلوجوں کو سیاست کو بدنام کرنے کیلئے بطورِ علامت بٹھایا گیا۔ آج تک تسلسل کے ساتھ سیاست اور اس کی علامتوں پر غداری، کرپشن اور ایجنٹ سمیت ہر تہمت لگائی گئی۔ سیاست کو ایک گالی بنا دیا گیا۔ ان تمام المیوں کو چھپانے کی کوشش کی گئی جن کے باعث آج تک اس ملک سمیت یہ سارا خطہ آگ میں جل رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ مصیبتیں انہی غیر جمہوری دوروں میں تخلیق کی گئیں جو اب ایک مہیب سائے کی طرح سب کا پیچھا کر رہی ہیں۔ ان تمام جمہوریت دشمن رویوں کی معراج موجودہ حکومت کی شکل میں کھڑی ہے جو مسلسل بیس سال سے ہر مصیبت کی ذمہ داری سیاستدانوں کے سر تھوپ رہی تھی اور ریاست کی ہر ناکامی کی ذمہ دار سیاستدانوں کو ٹھہرا رہی تھی مگر جب خود میدان میں بغیر کسی ہوم ورک کے ان کو کھڑا کیا گیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بغیر کسی ہوم ورک کے بٹھائے گئے تو اب اس غیر حقیقی قوتوں کی حقیقت سب کے سامنے عیاں ہے کہ سارے ملک میں سماجی زندگی کے ساتھ ادارہ جاتی طور پر بھی ایک افراتفری کا سماں ہے۔ مہنگائی، کرپشن اور بدانتظامی ہر لیول پر اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ اب اس بگڑی کا علاج ہے کیا اور ان نااہل ترین وفاداروں کے ذریعے اب اس سسٹم کو چلانا کیسے ہے۔ اگر اس ملک کو باقی رکھنا ہے اور اپنے آپ کو بچانا ہے تو پاکستان میں تمام محکوم قومیتوں کو حقوق دینے ہوں گے، سیاست کے خلاف سازشوں سے توبہ تائب ہونا پڑے گا اور عوامی راج اور جمہوریت کو کھلے دل سے تسلیم کرکے اس ملک کی داخلی اور خارجہ مشکلات کے حل کا اختیار ان کو دینا ہوگا بصورت دیگر آنے والا وقت مزید مصیبتیں لے کر آئے گا اور پھر اس کا حل کسی کے پاس بھی نہیں ہوگا۔
٭٭٭٭٭

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*