ترقی دوستی میں ہے

ایک کہاوت ہے کہ دنیا میں کبھی بھی پڑوسی کے ساتھ تعلق خراب نہ کرو کیونکہ آپ پڑوسی کو کبھی بھی اپنی مرضی سے تبدیل نہیں کرسکتے۔ اگر آپ کے گاؤں کی سطح پر کسی پڑوسی کے ساتھ تعلقات خراب ہو جائیں تو یہ آپ کیلئے مستقل درد سر رہے گا اسی لئے تو دین اسلام میں پڑوسی کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح دنیا میں جدید قومی ریاستوں کے قیام کے بعد ہر ملک کے اپنی پڑوسی ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ کئی صدیاں پہلے جب قومی ریاستوں کا وجود نہیں تھا تو یہ ممکن تھا کہ صبح آپ ایک پڑوسی کے ساتھ ہوں اور شام کو کسی دوسرے کے ساتھ لیکن موجودہ جدید دنیا میں اب یہ ممکن نہیں رہا کہ کوئی ملک طاقت کے بل بوتے پر آکر کسی ملک پر قبضہ جما لے بلکہ بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ طاقتور ممالک کی مداخلت اور اپنا تسلط جمانے کا طریقہ بھی بدل گیا ہے۔ پاکستان کے پڑوس میں چار ممالک ہیں: ہندوستان، افغانستان، ایران اور چین۔چین کے ساتھ کسی حد تک ہمارے سفارتی تعلقات اچھے ہیں مگر باقی تین ممالک کے ساتھ آج تک بے اعتمادی کی فضاء قائم ہے۔ دنیا میں ہر ملک کی خارجہ پالیسی اس کی داخلہ پالیسی کی تابع ہوتی ھے مگر بدقسمتی سے پاکستان کی داخلہ پالیسی خارجہ پالیسی کی تابع ھے۔ ایران کے ساتھ آج تک اعتماد کی وہ فضاء قائم نہ ہو سکی ہے جو کہ ہونا چاہئے تھی، اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک پاکستان کے اندر شیعہ کمیونٹی کے ساتھ معاندانہ رویہ اور ان کو مذہبی انتہاء پسندی کی بھینٹ چڑھانا، دوسری بڑی وجہ افغانستان کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان خارجہ پالیسی کے حوالے سے کشمکش ھے، ہر ایک تخت کابل کے حوالے سے اپنے اپنے اغراض و مقاصد رکھتا ہے جبکہ تیسری وجہ ایران کے اندر مداخلت کے حوالے سے ان کے تحفظات ہیں۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ پاکستان کی خارجہ پالیسی سازوں کی ایک بڑی ناکامی ھے جو آج تک دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا نہیں بنا سکے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی بنیادی وجہ چالیس سال سے جاری وہ ناکام خارجہ پالیسیاں ہیں جن کا مقصد تخت کابل پر اپنے گماشتوں کو بٹھانا اور ایک جنگی و عسکری سوچ کے ذریعے ان کی پوری سوسائٹی کو کنٹرول کرنا تھا۔ یہ انہی غیر فطری خارجہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ چالیس سال بعد بھی پاکستان تخت کابل کے حوالے سے سفارتی تنہائی کا شکارھے، پورے افغان معاشرے اور خصوصاً ان کی جوان نسل پاکستان سے انتھائی متنفر ہو چکی ھے جو اپنی تمام بربادیوں کا ذمہ دار پاکستان کو سمجھتی ہے۔ موجودہ وقت میں ھندوستان سفارتی کامیابی کے حوالے سے پاکستان سے آگے ہے۔ ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگائی گئی ہے مگر ابھی تک اس حوالے سے کوئی سفارتی کامیابی حاصل نہیں کی ھے۔ پاکستان کے بیڈ طالبان افغان گورنمنٹ کے بیڈ بن چکے ہیں جو اب اس ملک کی سلامتی کے حوالے سے بہت مسائل پیدا کررہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ واقع سولہ تجارتی راستوں میں سے بارہ پوائنٹس کی بندش دونوں ممالک کے درمیان بدترین سفارتی تعلقات کی عکاسی کرتی ھے۔ تقسیم برصغیر کے بعد ھندوستان کے ساتھ ہر قسم کی محاذ آرائیوں کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہونا چاھیے تھا مگر جناح صاحب اور قیوم خان کشمیری کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں کشمیر کی شکل میں ایک بہتا ہوا ناسور پیدا ہوا جس سے آج بھی خون ٹپک رہا ھے۔ اگر ہندوستان کے ساتھ مستقل دشمنی رکھنا تھی تو پھر تقسیم کیوں کر کی گئی۔ ھندوستان کے ساتھ خراب تعلقات کا نتیجہ ھے کہ ملک کا ستر فیصد بجٹ دفاع کے نام کر دیا جاتا ھے جو کہ درحقیقت ایک سوچ کے تحت دفاع کی ضرورت کو جبراً تخلیق کیا گیا ہے۔ ھندوستان کے ساتھ تناؤ کے نتیجے میں آج تک اس ملک کو کوئی اچھا دن نصیب نہیں ہوا ہے الٹا آدھا پاکستان مشرقی پاکستان کی شکل میں ہم ہمیشہ کیلئے گنوا چکے ہیں جبکہ ھندوستان کے بیس کروڑ مسلمانوں کو بھی ہمیشہ کیلئے مصیبتوں کے حوالے الگ سے کیا گیا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ھندوستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے پر مفاہمت کی جائے، جو کشمیر جس کے پاس ھے وہ جانے اور اس کا کام۔ دنیا میں باوقار رہنے کیلئے تمام پڑوسیوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی داغ بیل ڈالنا ہو گی، قومیں جنگوں اور اسلحہ کے انباروں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ ترقی امن اور دوستانہ تعلقات کے ساتھ مشروط ہے۔

یہ بھی پڑھیں

Hunarmal

وَلَو کُنتُم فی بُروجِِ مُشیدۃ

موت کو تھوک کے حساب سے بانٹنے والا کورونا وائرس پوری آب وتاب کے ساتھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔