سی پیک اور پختونوں کا ہارا ہوا مقدمہ

چند دن سے چترال موٹر وے کی باتیں ہو رہی ہیں اور اس کو سی پیک کا نام دیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ کے احسن اقبال نے ایک جھوٹا بیان دیا کہ چترال دیر کو سی پیک کا حصہ بنایا گیا تھا اور مراد سعید اس کی تردید میں کہہ رہے ہیں کہ نہیں ایسا نہیں تھا ہم نے یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے لیکن درحقیقت دونوں اس معاملے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔ پختونوں کو سی پیک میں محروم کرنے کے ذمہ دار پنجاب کی مسلم لیگ اور پختونخوا میں برسرِ اقتدار تحریک انصاف دونوں ہیں۔ مسلم لیگ کے دور میں مغربی روٹ کا جھوٹا وعدہ کیا گیا اور جب وہ ایفا نہ ہو سکا تو پی ٹی آئی نے اس پر آواز نہیں اٹھائی اور یوں اس منصوبے میں پختون بیلٹ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نظر انداز کیا گیا۔ اب یہ ممکن نہیں رہا کہ چترال دیر اور پختونخوا کے نئے اضلاع کو اس سے منسلک کیا جائے کیونکہ سی پیک صرف ایک سڑک کا نام نہیں بلکہ ان بڑے چار منصوبوں کا نام ہے جو اس پراجیکٹ کا حصہ ہیں جن کے تمام فوائد کو پنجاب کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ موجودہ صدی تجارت کی صدی ہے۔ ایک وقت میں ٹیکنالوجی کی برتری توپ و تفنگ کو عالمی دنیا پر اجارہ داری کی ضمانت سمجھا جاتا تھا مگر وقت کے ساتھ ترقی اور دنیا میں معزز ہونے کے پیمانے اور معیار بھی بدل جاتے ہیں۔ اگر ہم دنیا میں اکانومی کے حوالے سے برتری کی بات کریں تو اس میدان میں چین پوری دنیا سے آگے نکل رہا ہے یہاں تک کہ امریکہ کی تجارتی مارکیٹ پر بھی ستر فیصد چینی اشیاء کا قبضہ ہو گیا ہے اور یہ مقدار پورے مغرب میں روز بروز بڑھ رہی ہے۔ چین نے70 کروڑ لوگوں کو چند سالوں میں غربت کی لکیر سے نکالا ہے اور دوسرا وہاں پر کرپشن کو سرکاری سطح پر کافی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ چین کے اِن دونوں دعوؤں کو سو فیصد حقیقت قراردینا ذرا مشکل ہے۔ مگر اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ قوم جو انیسویں صدی کے وسط میں افیون کے نشے کی رسیا تھی اور جس کو اس وقت کی فرنگی سامراج نے اپنے اقتصادی فائدے کیلئے محکوم بنایا تھا۔ چین ہم سے ایک سال بعد ماوزے تنگ کے کمیونسٹ انقلاب کے نتیجے میں آزاد ہوا تھا اور اس وقت ان کے پاس50 ملین ڈالرز کے زرمبادلہ کے ذخائر تھے جبکہ پاکستان کے55 ملین ڈالرز کے ذخائر تھے مگر آج چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے جس کی خام قومی آمدنی کا حجم14000 ڈالرز سے زائد ہے اور اِس کا ہر سال کا فاضل تجارتی حجم تقریباً200 ارب ڈالرز کا ہے اور آج اس کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم3000 ارب ڈالرز ہے۔ جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ بمشکل مانگے تانگے کے ہمارے پاس8 سے10 ارب ڈالرز کا زرمبادلہ ہے۔ چونکہ مستقبل میں چین اپنی تجارتی مارکیٹ اور اقتصادی حجم کے زور پر بالادستی کیلئے دوڑ دھوپ میں مصروف ہے جس کیلئے ابھی بھی کافی سفر درکار ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ پڑوس میں ہے، ان کے ساتھ تعلقات بھی کسی حد تک خوشگوار ہیں مگر پاکستانی حکمرانوں کی ناا۰لیوں کی وجہ سے ان سے وہ ریاستی فوائد سمیٹنے میں وہ ناکام ہوئے ہیں جو ابھی تک حاصل کرنے چاہئے تھے۔ چین نے کچھ عرصہ سے اپنے تجارتی حجم کو بڑھانے اور پھیلانے کیلئے وسطی ایشیا، یورپ، خلیجی ممالک اور دوسرے خطوں تک بڑے اقتصادی روٹس کے ذریعے پہنچنے کیلئے تگ و دو شروع کی ہے۔ ان تجارتی روٹس میں سے ایک پاک چائنہ اکنامک کاریڈور بھی ہے۔ یہ صرف ایک روڈ نہیں ہے بلکہ اس میں اندسٹریل زونز، بڑے پیمانے پر تجارتی اشیاء کی نقل و حمل، بجلی، گیس، ریلوے ٹریکس اور دوسرے بڑے اقتصادی منصوبے شامل ہیں۔ اس کا بنیادی اور ابتدائی روٹ مغربی روٹ تھا جس کو گلگت، چترال، دیر چکدرہ کے راستوں سے گزار کر پختونخوا کے نئے اضلاع کے تمام علاقوں کو اس سے بڑے بڑے روڈز کے ذریعے ملانا تھا مگر مسلم لیگ اور تحریک انصاف کی نااہلیوں کے سبب مستقبل کے حوالے سے پختون بیلٹ اپنا مقدمہ ہار چکی ہے۔2015 میں اے پی سی کے اعلامیہ کی روشنی میں تمام سفارشات کو پس پشت ڈال دیا گیا جس میں سب سے پہلے مغربی روٹ کو بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا جبکہ محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان نے بھی پختونوں کے مقدمے پر سکوت اختیار کیا اس لئے وہ بھی تاریخ میں پختون بیلٹ کی محرومیوں سے بری الذمہ نہیں ہیں کیونکہ یہ دونوں اس وقت مسلم لیگ کے مضبوط اتحادی تھے، اگر یہ چاہتے تو مسلم لیگ سے وہ بہت کچھ کروا سکتے تھے مگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا اور ڈی آئی خان میں صرف ایک حلقے کیلئے موٹر وے کے حصول پر اکتفا کیا گیا۔ اے این پی نے ایک حدتک آواز بلند کی۔ اسفندیار ولی خان چین کے دورے پر گئے، چینی حکام کو یہاں کے سیاسی معروضی صورتحال اور حقائق سے آگاہ کیا مگر حکومت وقت اور بعد میں آنے والوں کی نااہلیوں کی وجہ سے وہ کوشش صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ پختون لیڈرشپ اگر کسی اور مسلے پر متفق نہیں ہوتی تو کم از کم سی پیک میں پختون بیلٹ کو نظر انداز کرنے کے خلاف شدت کے ساتھ سڑکوں پر نکلنا چاہیے تھا اور جب تک سی پیک پر اس کے ابتدائی نقشے کے مطابق کام نہیں شروع کیا جاتا اپنا احتجاج جاری رکھنا چاہئے تھا مگر کسی نے بھی ایسا اقدام اس قومی مسئلے پر نہیں اٹھایا۔ یہ مسئلہ قوم کے مستقبل کے حوالے سے خوشحالی کی ضمانت تھا۔ یہ منصوبہ مستقبل میں اقتصادی تبدیلی کے حوالے سے ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا تھا مگر اس مستقبل کی خوشحالی میں پختون اپنا مقدمہ پی ٹی آئی کی شکل میں ہار گئے۔ پچھلے دور میں پرویز خٹک جب وزیر اعلی تھا تو اس نے ایک دن کہا تھا کہ مغربی روٹ کو نہ بنانے کی وجہ سے ہم سی پیک کو پختونخوا سے گزرنے نہیں دیں گے مگر پھر وہ بھی اگلے دن سرنڈر ہو کر خاموش ہو گئے اور یوں پختونوں کے اس وقت کے حکمران ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پختونوں کا مقدمہ ہار گئے جن میں وہ پختون بھی مجرم ہیں جنھوں نے نااہل لوگوں کو اپنے مستقبل کا مالک بنایا تھا اور وہ لوگ بھی مجرم ہیں جو پختونوں کے ووٹ سے اقتدار کی ایوانوں تک پہنچے تھے۔ احسن اقبال اور مراد سعید دونوں جھوٹے اور پختونوں کی محرومیوں کے ذمہ دار ہیں۔ سی پیک صرف ایک سڑک کا نام نہیں بلکہ ان چار بڑے بڑے منصوبوں کا نام ہے جن کا رخ پنجاب کی طرف موڑ دیا گیا ہے اور اب ہمیں کچھ بھی ملنے والا نہیں۔ چونکہ اس بڑے اقتصادی منصوبے کا مقصد اور عزم چین اور پاکستان کے محرومیوں اور غربت کے شکار علاقوں کو ترقی کے دھارے میں اس بڑے اقتصادی منصوبے کے ذریعے شامل کرنا تھا جن میں چین کا سنکیانک اور پاکستان میں پختونخوا کے نئے اضلاع اور جنوبی اضلاع کو سرفہرست رکھا گیا تھا تاکہ یہاں پر روزگار کے وسیلے لوگوں کو میسر آسکیں اور اس منصوبے کے نتیجے میں پھر اقتصادی ترقی سنکیانک سے لے کر پاکستان کے محروم اور شورش زدہ علاقوں میں مستقل امن کا سبب بنے۔ امن کے ان امکانات کے نتیجے میں چین کی مستقل ترقی مقصود تھی۔ چین نے ایسا ہی کیا اور اس نے اپنے تمام پسے ہوئے علاقوں کو اس منصوبے کا حصہ بنایا مگر بدقسمتی سے پاکستان کی طرف ایک بار پھر وہی پنجاب کی بالادستی کا کارڈ سی پیک کی شکل میں کھیلا گیا جس میں مسلم لیگ ن بھی پختونوں کی محرومیوں کا ذمہ دار ہے مگر سب سے زیادہ ذمہ داری تحریک انصاف پر عائد ہوتی ہے کیونکہ پچھلے سات سال سے پختونوں نے ان کو حکمران بنایا ہوا ہے اور وہی اب اس خطے کے مستقبل کی محرومیوں اور بربادیوں میں برابر کے شریک ہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف کے وزرا کی طرف سے ہر مسئلے پر غیرذمہ داری کے ساتھ غیرضروری تبصرے کئے جاتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ باتیں سی پیک کے حوالے سے عبدالرزاق داؤد اور مراد سعید نے کچھ عرصہ پہلے کیں جس کے نتیجے میں چینی حکام نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور انہی کی خواہش پر سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ پاکستان کے شورش زدہ علاقوں کو نظر انداز کرنا ایسے اقدامات ہیں جن سے اس سارے منصوبے کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ تجارت آپ تب کریں گے جب امن ہو گا، جب جنگ زدہ علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے سے آپ باہر کرتے ہیں تو امن کی آشا کی امید پھر ایک سراب ہی ہو گا۔ اس مسئلے پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی بڑھکیں مارنا صرف مگر مچھ کے آنسو بہانا ہیں اور کچھ نہیں کیونکہ یہ لوگ پختونوں کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں اگر ہوتے تو آج یہ سارا علاقہ چترال سے لے کر وزیرستان تک سی پیک کا حصہ ضرور ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں

Sareer Khan

دنیا کی تاریخ کا عجیب و غریب ظلم ۔۔۔ پروفیسر سریر خان

تین جون پلان کے نتیجے میں جب14 اگست1947 کو پاکستان کا قیام عمل میں لایا …

%d bloggers like this: