اسلام، دنیا اور آج کا مسلمان

تحریر: مولانا خانزیب

شہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان ہے سادہ
مانندِ بتاں پوجتے ہیں کعبے کے برہمن
نذرانہ نہیں، سود ہے پیرانِ حرم کا
ہر خرقہ سالوس کے اندر ہے مہاجن

پاکستان میں کچھ واعظین اور ہر وقت حکمرانوں کے چوکھٹ پر سلامی دینے والے خطباء اسلام کی تعبیر کچھ اس انداز میں بیان کرتے ہیں جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ اسلام بھی یہودیت و مسیحیت کی طرح دنیا کو چھوڑ کر صرف آخرت کا انتظار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس سوچ کی ترویج درحقیقت حکمرانوں کیلئے سیاسی مصلحتوں کی خاطر عام عوام کو رضا بالقضا کے سامنے سر تسلیم خم کر کے انہیں مسلط شدہ پالیسیوں کو قبول کرنے پر راغب کرنا ہوتا ہے جو افتاد حکمرانوں کی نااھلیوں کی وجہ سے پڑی ہے۔ اس گمراہ کن رجحان سے یورپ کی نشاۃ ثانیہ سے پہلے اہل کلیسا کی اور ان کی دنیا بے زاری کا منظر ابھرتا ہے جس میں انھوں نے دین خدا کو بازار کی جنس بنا دیا تھا، اپنے لئے ہر آسائش کو روا رکھتے تھے جبکہ سوسائٹی کی تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر کے ان کو صرف روز قیامت کے انتظار پر راضی کرتے تھے۔


موجودہ جدید متمدن دنیا میں اسلام کی اس طرح خشک اور جامد تشریح سے نہ تو کوئی اسلام کی خدمت کر رہا ہے اور نہ ہی مسلمانوں اور دنیا کے باقی انسانوں کے اجتہاد کا راستہ روک کر ہم درحقیقت دنیا کے ساتھ چلنے سے اپنے آپ کو بری الذمہ کر رہے ہیں، اس کے مستقبل میں مزید بھیانک نتائج نکلیں گے۔ ایک حدیث پاک میں رسول اللہ نے صاف فرما دیا ہے کہ ”لا رھبانیۃ فی الاسلام“، اسلام میں عیسائیت کی طرح دنیا اور مخلوق کو چھوڑ کر بیابانوں اور جنگلوں میں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ آپؐ نے انسانی سماج کا حصہ ہو کے لوگوں کو دنیا کے وسائل کے درست استعمال کی ترغیب اور اس کے ذریعے مخلوق کی خیر خواہی کر کے اللہ کی رضا نوید دی ہے۔ جو لوگ ممبر پر بیٹھ کر دنیا کو چھوڑ کر صرف آخرت کے انتظار میں رہنے کی ترغیب دے رہے ہیں درحقیقت وہ رسول اللہ کی سیرتِ طیبہ سے ناواقف ہیں، ایسے لوگ خوش الحان واعظ تو ہو سکتے ہیں مگر دین اسلام کے سمجھنے والے کبھی نہیں، ایسے لوگ آج کے تیز ترین دور میں پھر تمسخر ہی بنیں گے۔ ایک حدیث میں کہا گیا ہے کہ ’]الدنیا مزرعۃ الاخرہ“، (دنیا آخرت کی کھیتی ہے)، جب دنیا کو ترک کر کے چھوڑو گے تو آخرت کیلئے تیاری کہاں کرو گے؟ جب دنیا نہ ہو گی تو حج، زکوۃ سمیت اسلام کے ان ہزاروں احکامات کو کیسے فالو کروگے جن پر بڑی بڑی بشارتیں اور اللہ کی خوشنودی رکھ دی گئی ہے؟ ایک حدیث میں پیغمبر خداؐ نے فرمایا ہے کہ اپنی دنیا کے لئے یوں دل لگا کر کام کر جیسے تو نے ہمیشہ یہیں زندگی گزارنی ہے اور آخرت کے لئے اس یقین اور اخلاص سے کام کر جیسے تو نے کل ہی مر جانا ہے۔

موجودہ جدید متمدن دنیا میں اسلام کی اس طرح خشک اور جامد تشریح سے نہ تو کوئی اسلام کی خدمت کر رہا ہے اور نہ ہی مسلمانوں اور دنیا کے باقی انسانوں کے اجتہاد کا راستہ روک کر ہم درحقیقت دنیا کے ساتھ چلنے سے اپنے آپ کو بری الذمہ کر رہے ہیں، اس کے مستقبل میں مزید بھیانک نتائج نکلیں گے

ایک زمانے میں اہل کلیسا کی کوشش تھی کہ خواص کے علاوہ کسی کوبھی عیسائی تعلیمات اور انجیل کے مطالعے کا موقع نہ دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہایت اہتمام سے لوگوں کے ذہنوں پر اپنی حاکمیت کے پہرے بٹھا کر انہیں صحیح علم اور فکر و نظر سے دور رکھتے تھے۔ کلیسا لوگوں میں مذہبی معلومات کے حصول اور عقلی و فکری صلاحیتوں کی پیدائش اور پروان چڑھنے کا سخت مخالف تھا۔ اس دور میں انجیل کی تشریح کا حق، اس کے درس کا حق اور اس کی اجازت کا حق صرف کلیسا کو حاصل تھا مقامی اور علاقائی زبانوں میں انجیل کا ترجمہ تک کرنے کی بھی ممانعت تھی۔ توحید و تثلیث کے ناقابلِ حل معمے کے علاوہ نفس پرست مذہبی پیشواؤں نے عوام کو عجیب و غریب سخت اذیت ناک ریاضتوں میں مشغول کر دیا تھا۔ ان ریاضتوں کو بھگتے بغیر کوئی شخص دین دار نہیں ہو سکتا تھا۔ تجارت کو مذہبی نقطہ ِنگاہ سے ناپسند کیا جاتا تھا۔ غرض عیسائی مذہب وساوس اور اوہام کا گورکھ دھندا بن چکا تھا۔ معمولی معمولی مسائل پر کشت و خون ہو رہا تھا۔ مینار پر کھڑے رہنا، ہاتھ پاؤں کو ساکت کرلینا نفس کشی کا عام طریقہ بن چکا تھا، شادی بیاہ سے اجتناب اور رہبانیت اختیار کرنا مقدس عبادت تھی۔ عوام پوپ کی اندھی تقلید میں جکڑے ہوئے تھے۔ یورپ کے اس دور میں عوام بادشاہوں سے اتنے نہیں ڈرتے تھے جتنا ان کے دلوں میں پوپ اور اس کے ماتحت راہبوں کا رعب بیٹھا ہوا تھا۔ عوام توکجا بڑے بڑے بادشاہ بھی پوپ کو نارارض کرنے سے ڈرتے تھے۔ ہر ملک کا بادشاہ ان کی خدمت میں نذرانے اور کلیسا کیلئے مقررہ ٹیکس بھیجنے پر مجبور تھا لہذا پوپ کا اقتدار صرف مذہبی امور تک محدود نہ تھا بلکہ درحقیقت اس زمانے میں یورپ کی سب سے بڑی سیاسی طاقت بھی پوپ ہی تھا۔ کلیسا کی مخصوص جائیددادوں کے علاوہ پوپ، تمام بشپ اور پادری الگ بڑی بڑی جاگیروں کے مالک تھے اور ان وسیع و عریض زمینوں میں رہنے والے، کاشت کرنے والے کسان جو عملی طور پر غلامانہ زندگی گزار رہے تھے، پوپ اور کلیسا کی زبردست فوجی طاقت کا کام بھی دے رہے تھے۔ خدائی اختیارات پوپ نے اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔ لوگوں کو گناہوں سے پاک کرنے کا کلیسا نے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا تھا وہ یہ کہ کوئی کتنے ہی سنگین گناہ کا مرتکب ہو جائے، کسی غریب کو قتل کیا ہو، چوری یا زنا کیا ہو، وہ اس گناہ سے اس طرح سے پاک ہو سکتا تھا کہ پوپ کو مقررہ قیمت دے کر مغفرت نامہ حاصل کر لے۔ جس کو یہ مغفرت نامہ مل گیا وہ جہنم کی آگ سے آزاد ہو۔

صلیبی جنگوں کے زمانے میں تو مغفرت ناموں کی یہ تجارت اتنی عام ہوگئی تھی کہ مالدار اور امیر لوگ دھڑا دھڑ بخشش کے ان پروانوں کو خرید رہے تھے۔ اس طرح مال دار لوگوں کیلئے غریبوں پر مظالم توڑنے کے مواقع بھی حاصل ہو گئے تھے اور کلیسا کا خزانہ بھی پُر و معمور ہوتا چلا جا رہا تھا۔ غرض پوپ ایسی مطلق العنان طاقت تھی جس کے سامنے کسی کو پر مارنے کی مجال نہ تھی اور اگر کبھی کسی بد بخت نے کلیسا یا یورپ کی دھاندلیوں کے خلاف آواز بلندکی یا عیسائی عقائد کے معموں کو عقل کی کسوٹی پرکھنا چاہا اسے فوراً بدعتی قرار دے دیا جاتا۔ بدعتی کی اصطلاح ایسے ہی افراد کیلئے استعمال کی جانے لگی تھی جو مذہبی احکام کی کوئی ایسی تعبیر یا تشریح کرے جو پوپ کی رائے کے خلاف ہو یا جو کلیسا کے جابرانہ قوانین یا اس کے غیر معقول اعتقادی گورکھ دھندوں سے الجھ جائیں یا کوئی اور سائنس کا حقیقی نظریہ پیش کرتا جو پوپ اور اھل کلیسا کے من بھاتے تصورات سے مختلف ہوتا، ماہرین فن اور اھل علم کو برسرِ بازار رسوا کر کے توبہ تائب کیا جاتا تھا۔ لیکن حقیقتاً اسلام اس کلیسائیت سے کسی بھی قسم کی مشابہت نہیں رکھتا اس لئے اسلام کے درست علم اور اس کی حکمتوں سے ناشناسائی بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

اسلام کا مزاج یہ ہے کہ یہ انسانوں کو عقیدہ کی پوری آزادی دیتا ہے اور انھیں دائرہ ایمان میں داخل ہونے پر مجبور نہیں کرتا، لیکن وہ کسی شخص کو اس بات کی چھوٹ بھی نہیں دیتا کہ وہ انسانی مصالح کو پامال کرے، انسانوں کی جانوں کے درپے ہو، ان کے مالوں میں لوٹ کھسوٹ کرے، ان کی عزت و آبرو پر حملہ آور ہو یا ایسے کام کرے جن سے نسل انسانی کے تسلسل میں رکاوٹ آئے یا عقل انسانی میں فتور پیدا ہو۔ ان مصالح میں سے کسی مصلحت پر دست درازی کو وہ سنگین جرم قرار دیتا ہے اور اس پر سزا عائد کرتا ہے۔ اس موضوع پر امام غزالی نے تفصیل سے ”المستصفی“ میں روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے پانچ مقاصدِ شریعت کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھا ہے۔ ان پانچوں اصولوں کی حفاظت ضروریات، انتہائی ناگزیر چیزوں کے درجے میں ہے، اس لیے کہ یہ انسانی مصالح کا اعلی ترین درجہ ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ شریعت نے اس منکر دین کو، جو دوسروں کو گم راہ کرنے کے درپے ہو، قتل کرنے اور اس بدعتی کو، جو دوسروں کو اپنے خود ساختہ عقیدہ کی طرف دعوت دے، سزا دینے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح شریعت نے قصاص کو واجب کیا ہے تاکہ انسانی جانیں محفوظ رہیں۔ شراب نوشی پر سزا لازم کی ہے تاکہ انسانی عقل محفوظ رہے جس کی وجہ سے انسانوں کو احکام کا مکلف کیا گیا ہے۔ زنا پر حد واجب کی ہے تاکہ نسل اور نسب محفوظ رہیں۔ چوروں اور لٹیروں کی سرزنش کا حکم دیا ہے تاکہ اموال محفوظ رہیں، جو انسانوں کی معیشت کا ذریعہ ہیں اور جن کے وہ محتاج ہیں۔ ان پانچوں بنیادی اصول کی پامالی کی ممانعت اور اس پر تنبیہ و سرزنش دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب میں پائی جاتی ہے۔

اسلام نے اپنے پیروکاروں کو رزق حلال کمانے کی ترغیب دی ہے اور حرام رزق سے بچنے کی ترغیب بھی دی اور ترہیب بھی کی۔ نبی کریم کی صحیح مسلم کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے، اللہ تعالی خود طیب ہے اور وہ اسی چیز کو پسند کرتا ہے جو طیب ہو۔ بخاری میں حضرت مقدام بن سعد یکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سرورِ کائنات نے فرمایا، اس کھانے سے بہترکوئی کھانا نہیں جس کو کسی نے اپنے ہاتھوں سے کام کر کے حاصل کیا اور بے شک اللہ کے نبی داؤدؑ)اپنی دستکاری سے کھاتے تھے۔ ابن ماجہ میں ام المومنین سیدہ طیبہ اماں عائشہ الصدیقہ سلام اللہ علیہا روایت فرماتی ہیں کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا جو تم کھاتے ہو ان میں سب زیادہ پاکیزہ وہ ہے جو تمہارے کسب سے حاصل ہو اور تمہاری اولاد بھی منجملہ کسب کے ہے یعنی اولاد کی کمائی بھی انسان کے لئے مالِ حلال میں شمار ہو گی۔ ایک اور کنزل العمال کی حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالی کے فرائض کے بعد اہم فریضہ کسب حلال ہے یعنی نماز، زکوۃ، روزہ اور حج کے بعد مسلمان پر اہم فرض رزق حلال کمانا ہے۔ اس کے یہ معنی بھی ہوئے کہ مسلمان جب روزی کمانے کی سعی کرتا ہے اور روزی کمانے میں سرگرداں رہتا ہے تو دین اسلام روزی کمانے سے اسے منع نہیں کرتا بلکہ روزی کمانے کے لئے کچھ حدود وقیود مقرر کرتا ہے تاکہ ان حدود وقیود کی پابندی کرتے ہوئے وہ اپنے لئے اور اپنے اہل خانہ کیلئے رزق حلال کمائے۔ حلال رزق میں برکت ہوتی ہے اور رزق حرام دیکھنے میں زیادہ لیکن حقیقت میں اس میں برکت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر رزقِ حلال سے تیار کیا گیا تین افراد کا کھانا پانچ افراد کھائیں تو کھانا پھر بھی بچ جاتا ہے جبکہ حرام کی کمائی سے تیار شدہ تین افراد کا کھانا تین افراد کی کفایت بھی نہیں کرتا، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا، جو بندہ مال حرام حاصل کرتا ہے اگر اس کو صدقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اس کے واسطے اس میں برکت نہیں اوراپنے بعد چھوڑ مرے تو جہنم جانے کا سامان ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا، جنت میں وہ گوشت داخل نہیں ہو گا جو حرام کھانے سے بڑھا ہو اور ہر وہ گوشت جو حرام خوری سے بڑھا ہو دوزخ کے زیادہ لائق ہے۔

ہم مسلمان جانتے ہیں کہ ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء و رسل کو اللہ تعالی نے حبیب اللہ نہیں فرمایا لیکن اللہ تعالی نے ہمارے نبی کریم کو حبیب اللہ فرمایا اور ہمارے آقا نے فرمایا: ”الکاسب حبیب اللہ“ رزق حلال کمانے والا اللہ کا دوست ہے۔ کتنی فضیلت والی بات ہے ان حضرات کے لئے جو رزق حلال کماتے ہیں کہ لسان نبوتؐ نے انہیں اللہ کا دوست ہونے کی بشارت دی ہے، یہ کوئی عام فضل وعنایت نہیں۔ اسی طرح اولیائے کرام رحمہم اللہ کا معمول رہا کہ وہ رزق حلال کیلئے تگ ودو کرتے تھے، وقت کے بادشاہ ان کے پاس نذرانے بھیجتے لیکن یہ حضرات انہیں قبول نہ فرماتے بلکہ واپس بھیج دیتے تھے۔ چند واقعات حضرات اولیائے کرام رحمہم اللہ کے پیش خدمت ہیں جن کی دینی کاوشوں سے اسلام چہار جوانب پھیلا۔

حضرت عبداللہ بن مبارک رحم اللہ علیہ بہت بڑے محدث فقیہ گزرے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد کسی نے انہیں خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ حضرت کیا معاملہ پیش آیا تو فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے بخش دیا ہے لیکن میرے گھر کے سامنے جو لوہار تھا اسے بلند مرتبہ ملا ہے۔ وہ شخص حیران ہو ا۔ صبح اس کی بیوی سے جا کر ملا اور پوچھا کہ تیرا شوہر ایسا کیا عمل کرتا تھا کہ اسے جنت میں عبداللہ بن مبارک سے بھی اونچا رتبہ ملا ہے۔ اس کی بیوی نے کہا اور تو خاص نہیں ایک تو جب آخر شب عبداللہ بن مبارک نمازِ تہجد کیلئے بیدار ہوتے تو یہ کہتا تھا کہ اے اللہ! کاش میرے رزق میں فراخی ہوتی تو میں بھی رات کے اس پہر تیرے سامنے سر بسجود ہوتا۔ دوسرا اس کا عمل یہ تھا کہ جب یہ دکان پر ہتھوڑا مارنے کیلئے اوپر اٹھاتا اور آذان ہو جاتی تو فوراً ہتھوڑا پیچھے کی جانب گرا دیتا تھا کہ اللہ نے پکارا ہے، بس یہ دو عمل تھے اس کے اور تو کچھ خاص نہیں۔ اس حکایت سے معلوم ہوا کہ رزق حلال کمانے کی برکت اور کسب حلال کے ساتھ اللہ کے فرائض کی پابندی ایسا عظیم الشان عمل ہے جس سے انسان بڑے بڑے زاہدوں سے بھی روزِ محشر بڑھ سکتا ہے۔ اِس زمانے میں لوگ لقمہ حلال کی بالکل پروا نہیں کرتے، جو چیز نظر آتی ہے آنکھیں بند کر کے کھاجاتے ہیں اور پھر تاویل کرتے ہیں کہ یہ یوں ہے اور یوں نہیں۔ شریعت ہمارے لئے کیا چیز حلال کرتی ہے اور ہم مسلمانوں کا کیا حال ہو گیا ہے، نہ حلال کی پرواہ کرتے ہیں نہ حرام کی اور حرام کو مباح بنا کر کھا جاتے ہیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ حلال اور حرام کے متعلق صریحی اور قطعی نصوص کو ترک کر دیا جاتا ہے اور بعض ظنی اور بعید از قیاس آیات و احادیث سے استدلال کر کے حرام کو حلال بنا دیا جاتا ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی رحم اللہ علیہ جب ٹرین پر سفر کرتے تھے تو سامان کا وزن خود کراتے تھے، جتنا سامان زیادہ ہوتا اس اضافی سامان کی رقم جمع کراتے۔ ایک بار ایک ٹکٹ کلکٹر نے کہا کہ حضرت آپ رقم جمع نہ کرائیں، فلاں اسٹیشن تک میں خود ہوں اس کے بعد جو ٹکٹ کلکٹر آئے گا میں اسے کہہ دوں گا وہ آپ کو تنگ نہ کرے گا۔ حکیم الامت حضرت تھانوی رحم اللہ علیہ نے فرمایا کہ بھائی وہ کہا ں تک جاتا ہے، اس ٹکٹ کلکٹر نے کہا حضرت جہاں تک ٹرین جائے گی تو حضرت تھانوی نے فرمایا کہ بھائی مجھے تو اس سے بھی آگے جانا ہے اور میری منزل روزِ محشر ہے، اگر وہاں تک تمہاری رسائی ہے تو بتلا۔ وہ خاموش ہو گیا اور حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اضافی سامان کی اضافی رقم جمع کرا دی۔

یہ بھی پڑھیں

زرعی پیداوار میں جمود کے اسباب اور ان کا حل

تحریر: محمد سعید خان کیمیاوی کھادوں کے استعمال میں بتدریج اضافے کے باوجود زرعی پیداوار …