کرونا، اسلام اور جہالت سے بھرے تبلیغات

تحریر: مولانا خانزیب

سعودی عرب کے مفتی اعظم عبد العزیز بن عبد اللہ نے فتوی دیا ہے کہ کرونا زدہ بیمار کا دوسرے لوگوں سے ملنا حرام ہے۔ اس طرح کے فتوی عموماً کارآمد نہیں ہوتے کیونکہ نچلی سطح پر ہمارے رویے کچھ اور طرح کے ہوتے ہیں۔ آپ آج بھی اکیلے میں کسی گاؤں کے مولوی صاحب سے پوچھ لیں کہ یہ کرونا کیا ہے تو وہ جھٹ سے کہی گا یہ سب کچھ مسلمانوں کیخلاف سازش ہے۔ سارے مسلمان ممالک کا جی ڈی پی ایک جاپان کے کل مالیاتی حجم سے کم ہے۔ ہمارے پاس مادی دنیا کے وہ کون سے کرشمے ہیں جو ہم سے وہ چھین لیں گے۔

اسلام چودہ سو سال سے کسی نے ہم سے نہیں چھینا ہے تو آئندہ کیا لے لیں گے، ہمیں اگر مارنا ہے تو غربت، جہالت اور اجتماعی بے حسی ہماری بربادی کیلئے کافی ہے۔ عربی کی ایک کہاوت ہے (الناس اعدا لما جھلوا) لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔ عموماً تمام دنیا اور بالخصوص تیسری دنیا کے پسماندہ معاشروں میں ہر ایک مسئلے سے پہلے جہالت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں حکومتیں اصل مسئلے کے حل کیلئے سرگرم عمل ہوتی ہیں جبکہ پسماندہ معاشروں میں سب سے زیادہ توانائی اور زور عوام کو سمجھانے میں صرف ہوتا ہے۔

کسی بھی متعدی مرض میں مرض سے زیادہ جہالت کے رویے اور تبلیغات انتہائی خطرناک ہوتی ہیں۔ اگر پسماندہ معاشروں کو اپنے آپ کو اٹھانا ہے کسی بھی مشکل بشمول کرونا سے نمٹنا ہے تو سب سے پہلے جہالت سے نمٹنا پڑے گا مگر بدقسمتی سے پاکستان اور ھندوستان جیسے پسماندہ ممالک میں اسی فیصد بجٹ کو اسلحہ کے انباروں پر خرچ کیا جاتا ہے جبکہ صحت اور تعلیم جیسے اہمیت کے حامل شعبوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے اور آج ہماری حالت یہ ہے کہ ھندوستان کے پاس آکسیجن کی کمی ہے اور ہمارے پاس ویکسین کی، کرونا نے دنیا کے بہت سے ممالک کی ترقی کی قلعی کھول دی ہے۔ ہمارے ضلع میں ایک ایسا گاؤں ہے جہاں حکومت کوئی ترقیاتی اسکیم جب پوری ہوتی ہے تو اگلے ہی دن پورا گاؤں نکل کر اس اسکیم کی تمام اشیاء کو آپس میں بانٹ کر خوشی خوشی اپنے گھروں کو واپس ہوتے ہیں اور اسکیم کو جڑ سے اکھاڑ دیاجاتا ہے۔ جب ہمارے اجتماعی شعور کی یہ حیثیت ہوتی ہے تو پھر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ ہم کرونا کے حوالے سے کتنے محتاط ہوسکتے ہیں اور دیگر سماجی امور کی انجام دہی کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟

اس دن ایک پڑھے لکھے نوجوان سے جو خیر سے ایک سرکاری ادارے میں ملازم بھی ہے، ماسک لگانے کا کہا تو اس نے مجھے الٹا نصیحت شروع کی کہ یہ سب کچھ یہودیوں کی سازش ہے، یہ بیماری ہی نہیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ بیماری یہودیوں کی سازش ہے تو ھندوستان تو ان کا پکا دوست ہے وہ کیوں پھنسے ہیں۔ اس نے پھر کہا نہیں یہ یہودیوں کی سازش ہے۔ میں نے کہا کہ اگر یہودیوں کی سازش ہے تو کعبۃ اللہ کو کس نے بند کیا ہے۔ اس نے پھر کہا کہ اس کو بھی یہودیوں نے بند کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کے کعبے کو بھی یہودیوں نے بند کیا ہے تو پھر آپ کے ساتھ باقی بچتا کیا ہے۔ ایک عمر رسیدہ بابا کو جب ماسک لگانے کا کہا تو اس نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے مولوی صاحب نے کہا ہے کہ ماسک لگانا شرک ہے۔ ہمارے معاشرے کے راہنماء علماء کرام ہیں مگر بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ زمانوں سے ہر مسئلے میں عوامی تفہیم کے حوالے سے منبر رسول سے غیرذمہ دار رویوں کا اظہار ہوتا ہے، ایک بار جب آپ عوام کو مس گائیڈ کر دیتے ہیں پھر آپ لاکھ قسمیں کسی کو درست سمجھانے کیلئے کریں، لاکھ جتن کریں مگر پھر عوام کسی کی نہیں سنتے۔

میڈیکل سائنس کی طرح اسلام بھی بیماریوں سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے اور بیماری کے متعدی ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے: لا یوردن ممرض علی مصحح۔ ترجمہ: بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ لے جاؤ۔ ایک دوسری حدیث میں رسول ﷺ نے فرمایا کہ: فر من مجزوم کما تفر من الا سد۔ ترجمہ: جذامی شخص سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔ جذامیوں کی بیماری سے بچنے کے لئے حضور اکرم ﷺ نے ان سے ایک نیزہ کے فاصلہ سے بات چیت کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث میں ہے کہ واذا کلمتمو ھم فلیکن بینکم و بینھم قدر مح۔ ترجمہ: جب تم ان (جذام کے مریض) سے بات چیت کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزہ کا فاصلہ ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ جب آدمی بات کرتا ہے تو اس کے منھ سے تھوک کے چھینٹے نکلتے ہیں جس میں بیماری کے کافی جراثیم موجود ہوتے ہیں، یہ جب مخاطب کے اوپر پڑیں گے تو مخاطب کو بھی بیماری میں مبتلا کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں پولیو ویکسین کا آغاز 1994 میں ہوا۔ چھبیس سال گزر گئے لیکن آج تک پاکستان پولیو کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ دنیا کے صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان میں یہ مرض باقی ہے، یہاں آج بھی پولیو وائرس موجود ہے۔ پولیو ویکسین کو بھی شروع میں ہی شد ومد سے متنازعہ بنا دیا گیا تھا۔ منبر و بیٹھک میں بڑے وثوق سے اسے یہود و نصاری کی سازش بتایا جاتا تھا جو کہ دراصل مسلمان آبادی کو بانجھ بنانے کا ایک منصوبہ ہے۔ آج تک پولیو کے قطرے مسلمان بچوں میں بیماری پھیلانے کا منصوبہ، بانجھ بنانے کا منصوبہ اور ذہنی نشو و نما کے خلاف سازش بتائے جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہبی رہنماؤں نے اپنا کردار وقت پر بخوبی ادا نہ کیا، جس کی وجہ سے منبر سے پولیو کے خلاف آگہی پھیلانے کے بجائے پولیو ویکسین یا قطروں کے خلاف گمراہ کن خطبات دیے جاتے رہے، حتی کہ اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ مسلم ممالک بھی پولیو سرٹیفیکیٹ کے بغیر آپ کو سفر کی اجازت دینے سے قاصر ہیں۔
کرونا کے حوالے سے جس طرح مذہبی طور پر لوگوں کو کنفیوژ کیا جاتا ہے اسی طرح حکومتی سطح پر بھی عوام کو سمجھانے کیلئے پچھلے ایک سال میں کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے جبکہ باقی دنیا میں کرونا کی ویکسین عوام تک پہنچائی گئی ہے مگر ہماری حالت آج بھی یہ ہے کہ نہ تو ہسپتالوں میں مثالی سہولیات ہیں اور نہ ہی ویکسین کو عوام تک پہنچانے کیلئے کوئی بندوبست۔ شریعت کی رو سے احتیاط اور تدبیر اختیار کرنا عین تقدیر ہے۔ تدبیر کو تقدیر کے نام پر چھوڑنا جہالت اور اسلام کے فلسفہ ئے تدبیر سے لاعلمی کی دلیل ہے۔ شریعت نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور ان احتیاطی تدابیر پر جس حد تک عمل ممکن ہو، کرنا چاہیے۔ طاعون کے سلسلے میں اسلام کی ہدایت ہے، آپ ﷺ کا ارشاد ہے جس علاقے میں طاعون پھیلا ہو، لوگ وہاں نہ جائیں اور وہاں کے لوگ وہاں سے نہ نکلیں بلکہ صبر کرکے انہی علاقوں میں رہیں، اگر موت مقدر ہوگئی تو شہادت کی موت ہو گی، وہاں سے نکلنا موت سے فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے اور اگر کسی کی موت کا وقت آ گیا ہے تو وہ موت سے بھاگ نہیں سکتا ہے۔

ثقیف کے وفد میں موجود ایک کوڑھی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مقام سے ہی لوٹا دیا، اور عملاً بیعت نہیں کی، نہ مصافحہ کیا اور نہ ہی سامنا کیا۔ بخاری شریف میں ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، کوڑھی سے یوں بھاگو، جیسے شیر سے خوفزدہ ہو کے بھاگتے ہو، گویا ایسے موقعے پر وائرس زدہ کا سامنا کرنا نہیں، اس سے بچنا سنت ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں، ہمیں اللہ پر توکل ہے اور احتیاط کی کوئی ضرورت نہیں، وہ غلط کہتے ہیں، ترمذی کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، اونٹ کا گھٹنا باندھو اور پھر توکل کرو۔ گویا اسباب اختیار کرنا توکل ہے، اسباب سے بے نیازی توکل نہیں۔ قرآن میں کہا گیا فاذا عزمت فتوکل علی اللہ جب تمام اسباب اختیار کرو تب توکل کرو۔ جو لوگ کہتے ہیں، کچھ ہو گیا تو ہمیں پھانسی دے دیں، ہمارا ایمان قوی ہے، وہ غلط کہتے ہیں، صحیح مسلم کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ طاعون زدہ شام نہیں گئے تھے، انھوں نے احتیاط کی تھی اور یہ کہا تھا کہ ہم تقدیر سے تقدیر کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ آج کسی بھی شخص کا ایمان، تقوی اور توکل حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ لہذا احتیاطی تدابیر اختیار کرنا دین اسلام کے عین مطابق ہے۔

سائنس کے مقابلے پر مذہب کو لانے کا چلن آج سے نہیں رہتی دنیا سے چلا آ رہا ہے۔ کسی بھی تحقیق و مشاہدے کو مذہب و عقیدت سے لڑا دینا مختلف تہذیبوں اور خطوں کی روایت رہی ہے۔ ہمارے برصغیر میں تو مذہب ہی سب سے منافع بخش کاروبار ہے۔ سائنس و تحقیق پر مبنی ہر چیز کو توڑ مروڑ کر گناہ، بدعت اور غیر مذاہب کی سازش کا نام دیا جانا ایک فیشن بن گیا ہے۔ بعض بیماریاں جو متعدی(infectious) سمجھی جاتی ہیں، ان کے متعدی ہونے کا انکار نہیں بلکہ صرف عقیدے کی درستی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس میں اصل چیز اللہ کی مشیت ہی کو سمجھنا چاہئے نہ کہ کسی بیماری کو۔

بعض علماء نے لاعدوی سے یہ استدلال کیا ہے کہ امراض متعدی نہیں ہوتے۔ ان کے متعدی ہونے کا تصور غیراسلامی ہے۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ اس میں درحقیقت مرض کی چھوت چھات کے جاہلانہ تصور کی تردید ہے۔ یہ دنیا اسباب وعلل کی دنیا ہے اس لیے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں ہر واقعہ کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے۔ بعض امراض میں اللہ تعالی نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان کے جراثیم تیزی سے پھیلتے ہیں۔ اور جو جاندار بھی ان کی زد میں آتا ہے اس پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے کسی مرض میں جب کوئی شخص مبتلا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور ملنے جلنے والوں کو احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ احتیاط نہ ہو تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں لیکن یہ انسان کی نادانی ہے کہ وہ مادی اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے اور اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ اسباب اور ان کے نتائج دونوں اللہ کی مرضی کے پابند ہیں، وہ نہ چاہے تو کچھ نہیں ہو سکتا۔

حدیث (لا عدوی) کا مطلب یہ ہے کہ بیماری فی نفسہ متعدی نہیں ہوتی بلکہ وہ اگر کسی کو لگتی ہے تو اللہ کے حکم سے لگتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسباب و علل کا انکار نہیں فرمایا ہے۔ اس بات کا ثبوت کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض متعدی ہونے سے انکار نہیں کیا ہے۔ کرونا وائرس کو پہلے پہل کافروں کی سزا، حرام جانور کھانے کا نتیجہ اور پھر فحاشی کا عذاب قرار دیا گیا اور تمسخر کے طور پر کہا گیا کہ جو پانچ وقت وضو کرے وہ تو محفوظ ہوتا ہے جبکہ کافر محفوظ نہیں لیکن پھر پتہ چلا کہ وائرس ہم انسانوں سے زیادہ وسیع النظر اور سیکولر ہے جو مذہب، رنگ و نسل کی تمیز کیے بغیر سب کو ایک ہی طرح نمٹاتا ہے۔ جب وائرس نے ہر فرقے کے علماء کو بھی لپیٹ میں لینا شروع کیا تب سمجھ آیا کہ وائرس واقعی کسی سے کمزور نہیں۔ سائنس خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے، اسلام کی تعلیمات کی رو سے بیماریوں کے حوالے سے ہمیں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ہدایات کو اپنانا چاہئے، یہی اسلام کی ہدایات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سانحہ12 مئی تب سے اب تک

12 مئی2007 کو انسانی خون کی ہولی اس وقت کھیلی گئی جب اس وقت کے …