آزاد صحافت اور آج کے ضم اضلاع (آخری حصہ)

تحریر: مولانا خانزیب

صحافت کی آزادی کچھ لوگوں کے خیال میں اس وقت معنی خیز ہو گی جب صحافیوں کا اپنا معیار بھی بہتر ہو۔ ان علاقوں کے صحافیوں کا کیا معیار ہے اس بارے میں ضلع خیبر کے ایک صحافی ابراہیم خان کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی پست ہے۔ بڑے شرم کی بات ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ کئی صحافی ان پڑھ ہیں۔ وہ گروہوں کی شکل میں کام کرتے ہیں: ایک خبر لکھتا ہے اور چار پانچ اپنا اپنا نام لگا کر اپنے اپنے اخبارات کو بھیج دیتے ہیں۔ میں خود ایسے صحافیوں کو جانتا ہوں جو اشتہاری مجرم رہ چکے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ قبائل میں صحافت کتنی آزاد ہے تو انہوں نے کہا ففٹی ففٹی۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر قبائلی صحافت افسران کے دفاتر کے گرد گھومتے ہیں۔ اسی قسم کا الزام شمالی وزیرستان کے ایک صحافی بھی مقامی انتظامیہ پر لگاتے ہیں۔ حیات اللہ خان نے بتایا کہ آج کل اخبارات، خاص طور پر اردو روزنامے، صحافی سے اس کی بطور نمائندہ تعیناتی کے لئے بھاری رقوم کا تقاضا کرتے ہیں۔ غریب آدمی تو یہ نہیں دے سکتا تو مقامی انتظامیہ اپنے من پسند شخص کی جگہ یہ رقم ادا کرتی ہے تو ایسے میں یہ صحافی کیا رپورٹنگ کرے گا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ناپسندیدہ خبر کی اشاعت پر گرفتاری عام ہے۔ حیات اللہ خان کہتا ہے کہ میں نے صحافیوں پر واضح کر دیا ہے کہ وہ پیسے لیں ضرور لیکن اپنا قلم اور ضمیر ہرگز نہ بیچیں۔ صنعتی و تجارتی اثرات کی وجہ سے موجودہ زمانے میں ہر ایک چیز نے مارکیٹ، مصنوعات یا جنس کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ علامہ ابن خلدون کے بقول مرور زمانہ کی وجہ سے تعلیم نے بھی ایک صنعت کا درجہ حاصل کیا ہے۔ صحافت پیشہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مقدس ذمہ داری بھی ہے۔ جو لوگ اس شعبے سے منسلک ہیں وہ ضرور مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریروں کو پڑھیں کہ صحافت کس معیار کی علمیت کی متقاضی ہے، صرف کیمرہ مائک ہاتھ میں پکڑ کر صحافی نہیں بننا بلکہ اس شعبے کے حق کو بھی کما حقہ ادا کرنا ہت جس کیلئے باقاعدہ ڈگری درکار ہوتی ہے۔ صحافت کا شعبہ پیغمبری شعبہ ہے کیونکہ حق کہنا، حق چھاپنا اور ظالم کے سامنے حق کا اظہار کرنے کو پیغمبر خداؐ نے افضل جہاد قرار دیا ہے۔ باچا خان کہتے ہیں کہ ہم مولانا آزاد کے ”الہلال“ اور ”البلاغ“ کو پڑھ کر بہت کچھ سیکھتے تھے۔ ذرہ سوچئے1916 کے دور میں جب فرنگی کا راج ہے، لکھنے پڑھنے چھاپنے کے وسائل انتہائی نامساعد اور محدود ہیں، پھر اخبار میں صرف خبر نہیں ایک نظریے اور تحریک کی اشاعت کی جاتی ہے، کتنا مشکل ہوگا یہ سب کچھ۔ الہلال اور البلاغ کی تمام تحریریں کئی جلدوں میں چھپ چکی ہیں، ان کے ادبی معیار کا یہ عالم ہے کہ اگر آج بھی آپ ان کو پڑھ لیں تو ان میں اتنی علمی دل نشینی ہے کہ انسان اس کی گہرائی میں کھو جاتا ہے۔ موجودہ دور میں جرنلزم ایک مقدس پیشہ ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ پیشہ ورانہ اصول و ضوابط کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ ایسے بہت سے لکھاری بھی ہیں جو اپنی تحریروں کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، ان کو اپنے ضمیر کی آواز بننے کی وجہ سے انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر ایسے بہت سے بھی ہیں جو قلم کی حرمت کی تجارت بھی کرتے ہیں اور سیاسی بیانیے میں ججز اور جنرلز کے احتساب کے ساتھ ایسے جرنلسٹس کی بات بھی کی جاتی ہے۔ ایسے لوگ صحافت کے نام پر دھبہ ہیں جو حقائق کی اشاعت کو بازار کی جنس سمجھتے ہیں۔ حق لکھنا، حق کہنا اور حق کا ساتھ دینا ہر زمانے میں جان پر کھیلنے کا کام رہا ہے۔ موجودہ وقت میں بھی قلم کار کو کچھ لکھتے ہوئے باربار سوچنا پڑتا ہے کہ اپنا مدعی و مافی الضمیر لگی لپٹی بغیر لکھے اور اس کے کے ساتھ کچھ انہونی بھی نہ ہو پائے۔ یہی احتیاط بولنے کے وقت بھی برتنی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے شتر بے مہار کے آنے سے صحافیوں کی ذمہ داری کم نہیں بلکہ اور بڑھ گئی ہے مگر مقدار کے بجائے معیار کی ڈیمانڈ زیادہ ہو گئی ہے۔ افسوس ہے ان لوگوں پر جو قلم کی حرمت و تقدس، جس پر خدا نے خود قسم کھائی ہے، ذاتی حب جاہ و حصولِ مال کیلئے استعمال کرتے ہیں، جس کو مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی بصیرت و صحافت میں شک ہو وہ ”انڈیا وِنز فریڈم“ کے ساتھ ان کے دیگر شہ پاروں کو پر ایک نظر ڈال لے۔ نہرو ہوں یا پٹیل، گاندھی ہوں یا جناح، مولانا کی رائے نپی تلی لیکن کوئی ایک لفظ شرافت واخلاق سے گرا ہوا نہیں، کوئی ایک جملہ نہیں جو توازن اور حقیقت سے خالی ہو۔ سچ پوچھیے تو مولانا نے ان تصنیفات میں، جنہیں آزادی ہند کے بنیادی ماخذ میں سرفہرست شمار کیا جاتا ہے، سب سے کڑا احتساب اپنی ذات کا بھی کیا ہے۔
”دا ستا پہ لاسو کے ٹوپک دی غم دی
زما پہ لاسو کے قلم دی غم دی“
قلم کی حرمت ہزاروں سال پہلے بھی مسلم تھی اور آج بھی ہے۔ ہر دور میں ہر جبر واستبداد نے قلم اور صاحب قلم کو خاموش اور خریدنے کی کوشش کی ہے مگر قلم کا تقدس ہر بحران سے سرخرو ہو کے نکلا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی جب قلم کی حرمت کی قسم اٹھاتا ہے تو اندازہ کریں کہ قلم کتنا مقدس و محترم ہے۔ دنیا کے کئی ممالک بشمول پاکستان میں نادیدہ قوتوں کی طرف سے آج بھی قلم اور اظہارے رائے کی آزادی پر شدید قدغنیں ہیں، جہاں کچھ لوگوں کا قلم بک جاتا ہے مگر بہت سے ایسے اصحاب ضمیر بھی ہیں جو اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کئے بغیر نہیں رکتے۔ انسانی تاریخ کے معلوم دور میں ہر وقت اپنے معاشرے کے حقائق وسچائیوں کو اجاگر کرنے والے لکھاریوں کو جان سے ہاتھ دھونے تک کے خطرات کا سامنا ہوتا ہے مگر جن کے ضمیر زندہ ہیں دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ سچ لکھا ہے اور ان کا قلم کبھی بکا ہے نہ جھکا۔ سوشل میڈیا کے آنے سے لکھنے والوں کیلئے اگر ایک طرف آسانی پیدا ہوئی ہیں تو دوسری ذمہ داریاں بھی بڑھی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنے لکھنے کے ہنر ونعمت کو اپنی قوم و وطن کے مفاد کی خاطر استعمال کریں، مظلوم طبقات کی قوت بنیں، ان لوگوں کی آواز بنیں جن کی آواز کو کوئی سننے کا روادار نہیں ہوتا۔ اپنے گردوپیش کی سچائیوں کو بلاجھجک سامنے لائیں۔ آپ کی تحریر آج بھی سماج کے مفاد وتحفظ کیلئے بہت بڑا ہتھیار ہے۔ آپ کا قلم اور ارادہ زورآور ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو بڑے بڑے محلوں میں رہنے والے بورژوا اور توپ و تفنگ رکھنے والے آپ کی تحریر و آواز سے نہ کانپ اٹھتے۔ لکھیں خوب لکھیں جتنا سمجھ سکیں اتنا تو ضرور لکھیں۔ 1857 کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی، کئی سال عرب میں رہے، مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہر (مصر) چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914 میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ اور بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔ مولانا بیک وقت عمدہ انشاء پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے۔ اگرچہ مولانا سیاسی مسلک میں آل انڈیا کانگریس کے ہمنوا تھے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیم کے بعد جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وقار کو صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو مولانا آگے بڑھے اور اس کے وقار کو ٹھیس پہنچانے سے بچا لیا۔

یہ بھی پڑھیں

Bacha Khan

صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد کشمیر پر حملہ (دوسرا حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی افواج کی طرف سے ایک خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی اور …