قومیت کا انتشار ۔۔۔ مولانا خانزیب

قومیت کی تعریف میں دیگر بنیادی اکائیوں کے ساتھ اقتصادی اور معاشی اشتراک کسی قوم کے منتشر وجود کے لئے کتنا لازم ہوتا ہے یہ تحریر پڑھ کر شائد کسی کو کچھ احساس ہو سکے۔ چند دن پہلے کابل یونیورسٹی سے ایک طالب علم نے وٹس ایپ پر کال کی، اپنا تعارف کرایا کہ میرا تعلق صوبہ کنڑ کے چغسرے سے ہے، کابل یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں۔ پھر تاریخ کے حوالے سے کچھ سوالات پوچھے۔ آخر میں مجھ سے کہا کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میرا تعلق باجوڑ سے ہے۔ کہنے لگا باجوڑ پاکستان میں کہاں واقع ہے؟ اس سوال نے مجھے چونکا دیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی عمر کتنی ہے۔ کہنے لگا کہ کچھ بائیس سال۔ پھر ان کو تفصیل کے ساتھ اس سوال کے حوالے سے تاریخی پس منظر اور ان کے اپنے پڑوس کے علاقے کے حوالے سے لاعلمی پر تفصیلی بات کی۔ یہ بات یہاں اس لئے لکھ دی کہ ہزاروں سالوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنی والی ایک قوم حالات کے جبر کا شکار ہو کر اب ایک دوسرے کیلئے اجنبی بن رہی ہے۔ کچھ بیس سال پہلے تک جب باجوڑ میں کوئی غمی خوشی ہوتی تھی تو کنڑ کے پختون دو گھنٹے میں پہنچ کر اسی دن اپنے گھروں کو واپس بھی ہو جاتے تھے جبکہ اسی طرح باجوڑ کے لوگ بھی آتے جاتے تھے۔ کنڑ اور باجوڑ کے درمیان لوگ ایک دوسرے کو اجنبی تصور نہیں کرتے تھے۔ آپس کی رشتہ داریاں معمول کی بات تھی مگر پختون قوم پر چالیس سے جو گزر رہا ہے اس کے بھیانک نتائج اب ہمارے سامنے بڑے تیزی کے ساتھ مختلف تباہیوں کی شکل میں نکل رہے ہیں کہ اب باجوڑ کے نوجوانوں کو کنڑ کے جغرافیہ کا اتہ پتہ نہیں اور کابل یونیورسٹی میں پڑھنے والے ایک نوجوان کو باجوڑ کا محل وقوع معلوم نہیں۔ یہ المیہ صرف باجوڑ اور کنڑ کے درمیان اب نہیں رہا۔ اب یہ قومی انتشار پختونخوا کے تمام اضلاع سے لے کر افغانستان کے تمام ولایات تک سرایت کر چکا ہے۔ اب مومند اور کامہ، خیبر اور جلال آباد، تھری منگل اور سپین غر، غلام خان اور خوست اور انگور اڈہ اور برمل کے پختونوں کے درمیان بھی یہ اجنبیت آ چکی ہے۔ ایک طرف تسلسل کے ساتھ چالیس سالہ جنگ کا فتنہ جبکہ رہی سہی کسر ڈیورنڈ لائن پر خاردار تاریں بچھا کر پوری کی گئی ہے جس کی وجہ سے عام پختون دونوں جانب ایک دوسرے کے ساتھ اب سماجی واقتصادی تعلقات نہیں رکھ سکتے۔ خیبر پختونخوا کے پختون کیلئے چوبیس گھنٹے کی کراچی کی طرف مسافت آسان ہے نہ کہ ڈیورنڈ لائن سے دو گھنٹے کی مسافت پر افغانستان کے کسی پڑوسی شہر میں جانا، افغانستان کے کسی پختون کیلئے مزار شریف جانا آسان جبکہ پختونخوا کے کسی شہر میں آنا ایک بھیانک خواب مگر جس دلیل کے ساتھ یہ خاردار تاریں بچھائی گئیں ان علامات کے آنے جانے میں آج تک کوئی روک ٹوک نہیں۔ اگر روک ٹوک اور اقتصادی ناکہ بندی ہے تو وہ صرف کسی پرامن شریف معزز پختون کیلئے! کنڑ اور باجوڑ آپس میں باہم متصل ہیں، دونوں علاقوں کی تقریباً چالیس کلومیٹر متصل سرحد ہے، کنڑ میں بہنے والے دریا کے مشرقی سائیڈ کے زیادہ تر علاقے ڈیورنڈ سے قبل باجوڑ کا حصہ تھے۔ باجوڑ میں آباد ترکانڑی قبیلہ کی ذیلی شاخوں سلارزئی اور ماموند کے لوگ ڈیورنڈ لائن کے آر پار متصل آباد ہیں جبکہ آرپار آباؤ اجداد کی مشترکہ زمینیں ہیں۔ باجوڑ سے کنڑ کی طرف زمانہ قدیم سے آنے جانے کے چھبیس چھوٹے بڑے راستے تھے جن میں تین بڑے تجارتی راستے تھے جن میں ناوا پاس جیسا تاریخی راستہ بھی شامل ہے جس پر آزادانہ یہاں کے پختونوں کے درمیان آمد و رفت اور دوطرفہ تجارت ہوتی تھی۔ تجارتی قافلے باجوڑ سے کابل اور ثمرقند وبخارا تک جاتے تھے مگر کچھ بیس سالوں سے ان راستوں سے بدامنی کے نام پر آمد و رفت اور تجارت بند کر دی گئی ہے۔ ان راستوں کی بندش کوئی ایسا سادہ مسئلہ بھی نہیں ہے کیونکہ بلوچستان کے پختون بیلٹ سے لے کر دیر بن شاہی تک کے راستوں کی بندش یہاں پر دونوں جانب آباد پختونوں کی قومیت کو توڑنے کی ارادی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ جب بیس سال تک دو قبیلوں کے افراد ایک دوسرے کی غمی خوشی میں نہ جا سکیں، ان کے درمیان رشتہ داریوں کا سلسلہ منقطع ہو جائے یہاں تک کہ تجارت اور معاشی تعلقات کسی بھی قوم کی یک جہتی اور وحدت کیلئے لازمی ہوتے ہیں کیونکہ اگر ایک طرف تجارتی سرگرمیاں کسی معاشرے کی ترقی اور تہذیب و تمدن کے ارتقاء کیلئے ضروری ہوتی ہیں تو دوسری طرف معاشی اور اقتصادی اشتراک کسی معاشرتی ہجوم کو قومیت کی لڑی میں پرونے کیلئے ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ قوم کسی معاشرے میں میں رہنے والے افراد کے ایک مخصوص اجتماع کا نام ہے جن کے درمیان ربط اور امتزاج کیلئے کچھ لوازمات کا وجود ضروری ہوتا ہے۔ قوم عربی لغت کا لفظ ہے جس کے معنی کھڑا کرنا کے ہیں اور انگریزی کے نیشن اور یہ پشتو کے ”اولس“ لفظ کی درست تعبیر ہے۔ جوزف اسٹالن قوم کی تعریف کچھ اس طرح کرتے ہیں، ”قوم کسی انسانی گروہ کا وہ اجتماع ہوتا ہے جو زمانوں سے ایک مخصوص جغرافیہ میں سکونت پذیر ہو جس کا اس خطے کے عروج و ارتقاء میں کردار ہو جو مشترکہ جغرافیہ، زبان، ثقافت، معاشی اشتراک اور نفسیاتی امتزاج کی موجودگی کے لوازمات رکھتا ہو۔“ قوم تمام مظاہر کی طرح انقلاب کا جھولا ہے اور ایک تاریخ کے ساتھ اپنی ابتدا و انتہا رکھتی ہے۔ کسی بھی انسانی اجتماع میں قوم کی تعریف پر پورا اترنے کیلئے ان تمام صفات سے متصف ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی قوم میں ان صفات میں ایک بھی صفت مفقود ہو تو وہ اس مماثل قوم کی صف سے نکل کر دوسری قوم بن جائے گی۔ اگر ہم قومیت کی تعریف میں صرف اس ایک نکتے ”معاشی اشتراک“ کی بات کریں کہ اقتصادی وحدت کسی قوم کی تعمیر کیلئے کتنی اہم ہوتی ہے تو ہم امریکہ کی مثال لیں گے جہاں پر یورپ اور دنیا بھر کے انسانی نسلوں کا ایک ملغوبہ رہ رہا ہے جن کے درمیان کسی قسم کا کوئی قومی اشتراک نہیں ہوتا مگر امریکہ میں وہ جا کر ایک قوم بن جاتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان کے درمیان معاشی قوتوں نے محنت و تقسیم اور آمد و رفت کے وسائل کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے کے ساتھ متصل کر دیا ہے اور ان باون مختلف ریاستوں کے درمیان انسانوں کے معاشرتی و اقتصادی ضرورت و اشتراک نے ایک قوم کی لڑی میں ان کو پرویا ہے۔ اگر ہم تاریخ میں معاشی اشتراک کو ڈھونڈیں تو سابقہ سوویت یونین کی ریاست جارجیا میں انیسویں صدی سے پہلے ایک نسل کے لوگ رہتے تھے، ایک جغرافیہ پر رہ رہے تھے اور ایک زبان بولتے تھے مگر وہ مختلف ریاستوں میں بٹے ہوئے تھے، آپسی دشمنیاں اور رقابتیں تھیں، ان کے درمیان کوئی معاشی اشتراک و آمد ورفت نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ مختلف قومیتوں میں بٹ گئے تھے، سیکنڑوں سال ان کے درمیان جنگ وجدل جاری تھا لیکن انیسویں صدی کے آخر میں وہاں پر معاشی تبدیلی آئی، جاگیرداری نظام کو زوال آیا، سرمایہ دارانہ نظام ابھر آیا، آمد و رفت کے ذرائع نے ترقی کی، تمام ریاستوں کے درمیان اقتصادی اشتراک پیدا ہوا جس کے نتیجے میں وہ منتشر اقوام ایک قومیت میں بدل گئیں۔ اس وقت پختونوں کا قومی المیہ بحیثیت قوم ان کا اکٹھا نہ ہونا ہے۔ ہر قبیلہ دوسرے سے دور ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان رقابتوں اور پاکستان کی غلط خارجہ پالیسی نے پختونوں کے قومی وجود کو قومی المیوں کا شکار کیا ہے جس کی وجہ سے قومی بدبختیوں کے خاتمے کا کوئی حل نہیں نکل رہا۔ ہمیں اگر قوم بننا ہے تو اپنی قبائلیت کو صرف شناخت کی حد تک رکھنا ہو گا اور ایک قوم بننے کیلئے قبائل کی تمام اکائیوں کو قومیت کی کل میں تحلیل کرنا ہو گا جس کیلئے پختون معاشرے، سیاسی اور سماجی سوچ رکھنے والے افراد، اداروں کو کافی کٹھن کام کرنا ہو گا تب ہماری قومی بدبختیوں کا خاتمہ ہو گا۔ قومیت ایک مثبت جذبہ اور افتخار ہے جس کے تمام بین الاقوامی اصول، اسلامی روایات اور پختون ولی اجازت دیتی ہیں، ہمیں مصنوعی قومیتیں بنانے سے احتراز کرنا ہو گا اور قوم و قومیت کے درست اور مثبت جذبات و روایات کو ماننا پڑے گا۔ اگر آپ کسی قوم کو پاؤں تلے روندو گے تو دنیا کی تاریخ یہ ہے کہ کوئی ریاست حرف آخر نہیں ہوتی، ریاستیں بنتی اور ٹوٹتی ہیں جبکہ قومیت کی حقیقت نہ ٹوٹنے والی اور نہ ختم ہونے والی ہوتی ہے۔ کیا پاکستانیت ایک قوم ہے؟ دراصل یہ سوال تب پیدا ہوتا ہے جب کوئی قوم کی حقیقی تعریف کو نظر انداز کر کے اس غلط العام تعبیر کی طرف جاتا ہے تو پھر کنفیوژن اور ذہنی کرب وتشویش جنم لیتی ہے جس کے شکار زیادہ تر مصنوعی اور مجہول تعریفوں کے گورکھ دھندوں کی شکار ذہنیت ہوتی ہے۔ ایک ہوتی ہے ریاست اور ایک ہوتی ہے۔ قوم، یعنی یہ کسی بھی صورت لازم نہیں ہے کہ ایک ریاست کے اندر ایک ہی قوم کا وجود ہو بلکہ دنیا میں ایسے بہت سے ممالک ہیں جو ایک ریاست کی ہیئت ترکیبی کے ساتھ ایک قوم کا وجود بھی رکھتے ہیں جیسے فرانس اور برطانیہ، ایک وقت میں ریاست بھی اور ایک قوم بھی جبکہ بہت سے ایسے ممالک ہیں جن کو کثیر القومی ریاستیں کہا جاتا ہے جیسے مشرقی یورپ میں آسٹریا، ہنگری، روس، ہندوستان وغیرہ۔ پاکستان بھی انہی کثیر القومی ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں ایک قوم نہیں بلکہ اقوام کا بسیرا ہے جن میں پنجابی، سندھی، بلوچ، سرائیکی، پختون، گوجر وغیرہ یہ تمام اقوام ہزاروں سالہ تاریخی پس منظر رکھتی ہیں جبکہ پاکستان کی عمر چند دہائیاں ہے۔ اگر پاکستانیت ایک قوم ہے تو قوم کا رشتہ اٹوٹ انگ کا ہوتا ہے پھر1971 کے بعد مشرقی پاکستان کی بنگالی پاکستانیت سے بنگالی اپنی اصلیت کی طرف کس طرح رجوع کر گئے؟ قومی بیداری کا جذبہ اتنا مقدس ہے کہ جب جاگیرداری کے عفریت سے انسانیت کی گلو خلاصی ہوئی، سرمایہ دارنہ نظام کا ابھار ہوا تو اٹھارہویں صدی سے قومی ریاستوں کی تشکیل شروع ہوئی اور آج تک یہ ریاستیں دو سو سے اوپر دنیا کے جغرافیہ پر موجود ہیں۔ یہ قومی ریاستیں دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہیں۔ موجودہ ترقی یافتہ دنیا کے آگے بڑھنے میں بنیادی کردار بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ان قومی ریاستوں کا ہے، یہ قومی ریاستیں قوم پرستی اور قومیت کے مثبت جذبات کی دین ہیں مگر جب کوئی ریاست اپنے جغرافیہ میں موجود کسی قوم کا استحصال کرنا شروع کر دیتی ہے تو ان ریاستوں کا ٹوٹنا اور نئی ریاستوں کا بننا پھر نوشتہ دیوار ہوتا ہے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ اگر آپ کی ریاست میرے حق بات سے ڈرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے بالجبر میری سرزمین پر اپنی ریاست قائم کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

یہ ہے سیاستدان اور ڈکٹیٹر کا فرق

تحریر: حماد حسن دو ھزار اٹھارہ کے فتنہ انگیز انتخابات کے بعد وزیراعظم بننے والے …