آہ! فخر الدین سید

     تحریر: مدثر زیب

کورونا وائرس سے متاثرہونے والے پشاور کے پہلے صحافی جان کی بازی ہار گئے۔92 نیوز چینل پشاور سے وابستہ سینئر صحافی فخرالدین سید آج علی الصبح پشاور کے مقامی ہسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کورونا وائرس سے لڑتے لڑتے انتقال کر گئے۔ ان کو گزشتہ ایک ہفتے سے بخار اور سینے میں شدید تکلیف تھی، حالت تشویشناک ہونے پر انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا جہاں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ ایچ ایم سی انتظامیہ کے مطابق فخرالدین سید کو شدید بیمار ی کی حالت میں ہسپتال لایا گیا،پلازمہ ٹرانسفیوژن کے بعد ان کی طبیعت سنبھل گئی تھی لیکن رات کو اچانک طبیعت بگڑی اور طبی عملے کی محنت کے باوجود بھی سنبھل نہ سکی اور بروز جمعرات اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
فخر الدین سید کا شمار منجھے ہوئے رپورٹرز میں ہوتا تھا۔ وہ روزنامہ جہاد، روزنامہ پاکستان، آج نیوز اور 92 نیوز کے ساتھ وابستہ رہے اور صحافتی کیرئیر کے دوران کرائم رپورٹنگ سمیت متعدد شعبوں میں خدمات سرانجام دیں۔
راقم الحروف کا فخرالدین مرحوم کے ساتھ روزنامہ پاکستان میں تعارف ہوا اور اس کے بعد آج نیوز میں بھی ان کے ہمراہ رہا۔ آج نیوز میں ہوتے ہوئے فخر الدین صاحب کے ساتھ بے شمار ایونٹس کور کئے اور اس دوران ان کا رویہ بہت دوستانہ اور مشفقانہ رہا۔ آج نیوز پشاور کے بیورو چیف فخر کا کا خیل اکثر اوقات مجھے اور فخر الدین سید صاحب کو اکٹھے ایونٹ کیلئے بھیجتے تھے۔ ایک رپورٹر ہونے کے بجائے وہ کیمرہ ورک کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور راقم کو اکثر اوقات اپنے بہترین مشوروں سے بھی نوازا۔ فخر الدین سید Colleague ہونے کے ساتھ ساتھ میرے ہمسائے بھی تھے اور اکثر گلبہار کے علاقے میں ان سے ملاقات رہتی تھی۔ ایک بات کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ رمضان کے آخری دنوں میں راقم نے انہیں گلبہار انم صنم چوک میں دیکھا، شاید وہ کسی سواری کے انتظار میں تھے۔ مجھے دیکھ کر ہاتھ ہلایا،بڑی چاہ سے گلے ملے، حال چال پوچھا۔ میں انہیں فخر صاحب کہا کرتا تھا۔ اس دن بھی میں نے کہا فخر صاحب! روزہ بھی ہے اور آپ کیوں اس طرح دھوپ میں کھڑے ہیں؟ کہنے لگے: یار لاہوری چوک تک جانا تھا تو سواری کے انتظار میں تھا، آپ سے ملاقات ہو گئی۔ میں نے کہا کہ بیٹھئے فخر صاحب میں بھی اسی طرف جا رہا ہوں۔ بس یہ اُن سے میری آخری ملاقات تھی۔
آج صبح واٹس ایپ پر ان کے انتقال کی خبر دیکھتے ہی دل بوجھل ہو گیا۔ میرا سینئر دوست، شفیق استاد اپنے تمام تر مسائل کو لے کر ابدی نیند سوگیا۔تمام صحافی برادری فخرالدین جیسا ایک مخلص دوست کھو بیٹھی ہے۔اللہ تعالی فخر الدین سید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
اِنّا لِلّہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن

یہ بھی پڑھیں

فاٹا انضمام ایک درست عمل!

خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع میں فی الوقتی طور پر حکومت وقت کی نااہلی اور …