گلشن عزیز بھی ملک عدم کو سدھارے

    تحریر: مدثر زیب

گلشن عزیز صاحب سے راقم الحروف کی ملاقات1999ء میں روزنامہ مشرق میں ہوئی۔ راقم اس وقت کمپیوٹر آپریٹر تھا اور گلشن عزیز صاحب سینئر فوٹو گرافر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ پہلی ملاقات میں ہی راقم نے گلشن عزیز صاحب سے تصویر لینے کی فرمائش کر ڈالی،گلشن صاحب نے برا نہیں منایا، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے کیمرہ نکالا اور تصویر لے کر سرور میں رکھ دی۔ اس کے بعد روز انہ ہی ملاقاتیں رہنے لگیں۔ مجھ سے انتہائی سینئر ہونے کے باوجود بے تکلفی تھی، اکثر اوقات مجھے ”جاوید کے بھتیجے“ کہہ کر پکارتے تھے۔ راقم نے جب 2006ء میں الیکٹرانک میڈیا جوائن کیا تو اکثر اوقات پریس کلب و دیگر جگہوں پر منعقدہ تقاریب میں گلشن صاحب کے ساتھ لازمی ملاقاتیں رہنے لگیں۔میں نے جب بھی گلشن صاحب کو دیکھا ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ ہوتی تھی۔
گلشن عزیز صاحب چائے کے شوقین تھے اور ہم تقریباً روز ہی مشرق کے دفتر کے سامنے بنی ہوئی

کینٹین میں اکٹھے چائے پیا کرتے۔میں مشرق میں جب میگزین سیکشن میں تھا تو یہ بات میں نے نوٹ کی تھی کہ گلشن صاحب اپنی تصاویر کو نمایاں انداز میں چھاپنے پر اصرار کرتے اور اکثر ایڈیٹر صاحب سے اس حوالے سے گفتگو کرتے نظر آتے۔ ہم سے بھی کہتے کہ دیکھو میں جا رہا ہوں، ایڈیٹر صاحب کو یادد دہانی کروا دینا کہ گلشن نے تصاویر دی ہیں، وہ لگا لیں۔
2009 ء میں راقم نے فوٹو جرنلزم میں قسمت آزمائی کی اور گلشن عزیز صاحب سمیت دیگر نے بھرپور رہنمائی کی۔ گلشن صاحب نہ صرف غلطیوں کی نشاندہی کرتے بلکہ اصلاح بھی لازمی کرتے، انہوں نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی۔
گلشن عزیز بہت بڑے آدمی تھے، اُن کا کھرا پن یہ تھا کہ خوشامد کے طور پر بھی شکریہ ادا نہیں کرتے تھے۔ گلشن حق اور سچ کی بات بڑی آسانی سے ہرکسی کے سامنے بھی کہہ جاتے تھے۔ان کے جنازے کے موقع پر دیگر صحافیوں سے گفتگو جاری تھی تو ابراہیم صاحب جن کے ساتھ راقم مشرق سمیت دیگر اداروں میں کام کر چکا ہے سے گلشن صاحب کی زندگی کے حوالے سے کچھ باتیں بتانے کی فرمائش کی۔ انہوں نے بتایا کہ گلشن عزیز صاحب کو 1969ء میں روزنامہ مشرق نے لاہور دفتر سے پشاور ٹرانسفر کیا تاکہ اخبار کے صفحات کیلئے تصاویر بنوائیں۔ بذریعہ ٹرین لاہور سے پشاور منتقل ہونے کے بعد گلشن عزیز اسی شہر کے ہوکر رہ گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گلشن عزیز نے 51 سال مشرق اور فوٹو جرنلزم کے نام کر دیئے۔ ابراہیم صاحب نے ایک واقعہ بھی سنایا جسے آپ سے شریک کرنا چاہوں گا۔
پشاور کے ایک سیاسی گھر میں شادی کی تقریب ہوئی،وہاں اس وقت کے اعلیٰ ترین حکومتی اہلکار بھی آئے تو ایک اچھا خاصا سیاسی اجتماع بن گیا۔گلشن تصاویر لائے لیکن اخبار کے انتظامی سربراہ نے چھاپنے سے انکار کر دیا جس پر گلشن نے تکرار کی اور مجھ سے شاید ماہرانہ رائے مانگی تو میں نے کہا کہ حکومتی اہلکار آئے ہیں تو تصاویر لگنی چاہئیں، اس حمایت پر گلشن نے پوچھا کہ تصاویر نہ لگنے کی وجہ کیا ہے؟تو صحافتی نزاکتوں سے عاری اس ”شخص“ نے جواب دیا کہ مجھے اس تقریب میں نہیں بلایا اس لئے…. کچھ توقف کے بعد اس نے گلشن کو کہا کہ مجھے وہاں مدعو نہیں گیا گیا تو تمہیں (گلشن) وہاں جانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس استدلال پر گلشن نے برجستہ جواب دیا کہ ہمیں لوگ جانتے ہیں تو بلاتے ہیں آپ کو نہیں جانتے تو میں کیا کروں۔ یہ کہہ گلشن نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ گلشن کی تصاویر نہ چھپیں لیکن اس نے سچ بات کہی۔
گلشن کے جانے سے ایک عہد تمام ہوگیا،اس کا آخری دیدار کرتے ہوئے مجھے یوں لگا کہ گلشن آج اپنی ساری فکروں سے آزاد ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں

مافیا غالب حکومت مغلوب

قیمتیں بڑھتے ہی منافع کمانے کے لئے پمپ بند کر دیئے گئے۔ پٹرولیم مصنوعات کی …