باچا خان، عدم تشدد اور پاکستان

تحریر: نورالامین یوسفزئی

قوم کی اس حالت زار پر مالک ارض و سما ء کو رحم آیا اور اُس قوم میں ایک ایسا بندہ خدا نے پیدا کیا جس نے قومیت کو محبت کی گود میں دیا، ولایت کو خدمت کی راہ دکھائی اور سیاست کو عبادت بنا دیا، انہوں نے اپنی قوم کی اصلاح کا بیڑا اپنے کاندھوں پر اُٹھایا، خود اُٹھے، حق پرست علماء کو ساتھ لیا، نوجوانوں کو شامل کارواں کیا اور آہستہ آہستہ ”کارواں بنتا گیا۔”

عدم تشدد کے بارے میں باچا خان فرماتے ہیں کہ جس طرح تشدد کی ایک فوج ہوتی ہے اسی طرح عدم تشدد کی بھی اپنی ایک فوج ہوتی ہے، تشددمیں شکست ہو سکتی ہے مگر عدم تشدد میں جیت ہی جیت ہے

باچا خان نے قوم کو اجتماعی زندگی گزارنے کیلئے ایک نیا بیانیہ دیا وہ بیانیہ امن کا بیانیہ ہے، وہ بیانیہ خدمت خلق اور انسان دوستی کا بیانیہ ہے اور وہ بیانیہ ہے حقیقی ترقی کا بیانیہ۔ انسانی تاریخ میں ایسے باعمل، باکردار اور بے مثال مصلحین بہت کم کم پیدا ہوئے ہیں، ہم لوگ خوش قسمت ہیں کہ ہم اُس عظیم مصلح کے پیروکار ہیں جو کہ حقیقی معنوں میں سیرت النبیۖ کا عملی نمونہ اور پیروکار تھے

جب باچا خان نے ایک مصلح کی حیثیت سے اپنی قوم کی اصلاح کا عزم کیا تو اس وقت اُن کی عمر صرف20 سال تھی۔ انہوں نے 1910ء میں ایک عالم دین دوست مولوی عبدالعزیز کے ساتھ مل کر جب اپنی قوم کیلئے پہلا مدرسہ بنایا تو اس وقت وہ خود ایک نوجوان تھے مگر جس طرح گوتم بدھ نے نوجوانی میں اپنے چچازاد بھائیوں سے ایک پرندہ بچایا اور اس کی مرہم پٹی کر کے اُسے دوبارہ اڑنے کے قابل بنایا تھا اسی طرح جب نوجوان باچا خان نے اس وقت اپنی قوم کی حالت زار کا جائزہ لیا تو انہوں نے دیکھا کہ اُن کی قوم، جو کبھی برصغیر کی حکمران رہ چکی تھی اور جس کی تاریخ بے شمار کارناموں سے بھری پڑی تھی، انگریز کی طویل غلامی میں افراتفری، تشدد اور نا اتفاقی کا شکار ہو چکی تھی۔


انہوں نے دیکھ کہ جرگہ، جو کبھی اس قوم کے مسائل اور تنازعات کے حل کا ایک موثر سماجی ادارہ تھا، انگریز کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا۔ انگریز کے زرخرید خوانین اور خان بہادر قوم کو تقسیم کر کے اسے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر رہے تھے ۔ قوم، جو کبھی احمد شاہ ابدالی، شہاب الدین غوری اور شیر شاہ سوری جسیے مثالی حکمران پیدا کر چکی تھی، کی اجتماعی زندگی کے بنیادی مراکز بکھر چکے تھے اور اب زیادہ وقت یا تو بٹیروں کو اور یا پھر کتوں اور سانڈوں کو لڑوانے میں صرف کیا کرتی تھی۔ مطلب یہ کہ ”زیان” تو ہو چکا تھا مگر بقول اقبال


کارواں کے دل سے احساس زیاںجاتا رہا۔ اُن کی قومی غیرت اور بہادری ذاتی تشدد میں ڈھل چکی تھی۔ عورت پر تشدد، کسب گر پر تشدد ایک دوسرے پر تشدد اُن کی زندگی کا معمول بن چکا تھا۔ مگر قوم کی اس حالت زار پر مالک ارض و سما ء کو رحم آیا اور اُس قوم میں ایک ایسا بندہ خدا نے پیدا کیا جس نے قومیت کو محبت کی گود میں دیا، ولایت کو خدمت کی راہ دکھائی اور سیاست کو عبادت بنا دیا۔ انہوں نے اپنی قوم کی اصلاح کا بیڑا اپنے کاندھوں پر اُٹھایا، خود اُٹھے، حق پرست علماء کو ساتھ لیا، نوجوانوں کو شامل کارواں کیا اور آہستہ آہستہ ”کارواں بنتا گیا۔”


عدم تشدد کے بارے میں باچا خان فرماتے ہیں کہ جس طرح تشدد کی ایک فوج ہوتی ہے اسی طرح عدم تشدد کی بھی اپنی ایک فوج ہوتی ہے، تشددمیں شکست ہو سکتی ہے مگر عدم تشدد میں جیت ہی جیت ہے۔
انہوں نے ایک حکیم کیحیثیت سے قوم کے نبض پر ہاتھ رکھ کر مرض کی تشخیص اور ایک ماہر طبیب کی حیثیت سے دوا تجویز کی۔ باچا خان کے اس وقت کے ہم عمر نوجوان بھی کہا کرتے تھے کہ انہوںنے کبھی بچپن اور لڑکپن میں بھی تشدد نہیں کیا اور نہ ہی کسی ہم عمر دوست سے کسی بات پر لڑے، کیونکہ ان کی فطرت میں محبت اور عدم تشدد اور جہالت کا علاج علم کی روشنی تھی۔ اور یوں 1921ء میں آزاد ہائی سکول اتمانزئی کے قیام سے لے کر 1930ء تک انہوں نے صوبے کے کونے کونے میں اپنے ساتھی حاجی صاحب ترنگزئی کی مدد سے متعدد مدارس قائم کئے۔ یہ سلسلہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ صوبے میں آزاد اسلامی مدارس کی تعداد 134 تک پہنچ گئی جس میں چھ ہزار سے زیادہ رضاکار اساتذہ مفت درس دیا کرتے تھے اور فخر افغان نے بیٹوں کو بھی آزاد سکول اتمانزئی میں داخل کیا۔ جہاں قادر تانگے وال کا بیٹا بھی اُن کے بچوں کے ساتھ پڑھا کرتا تھا۔


جب کچھ وقت گزرا اور انہوں نے ہند کا دورہ کیا اور تحریک آزادی کا حصہ بنے تو واپس آ کر خدائی خدمتگار تحریک کی بنیاد رکھ دی۔ جب باچا خان 1929ء میں اپنے گاؤں واپس آئے تو انہوں نے اس وقت کے نوجوانوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے اُن سے کہا کہ اب ہمیں خدا کی مخلوق کی خدمت اور وطن کی آزادی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے ایک فورم کی ضرورت ہے۔ اُن لوگوں نے ساتھ دینے کی حامی بھر لی تو باچا خان نے ساتھ لینے کا تہیہ کیا اور رات کو بہت سوچ بچار کے بعد تنظیم کیلئے ”خدائی خدمتگار” کا نام تجویز کیا۔ اس حوالے سے باچا خان لکھتے ہیں کہ ”رات کو جب میں بستر پر دراز ہوا تو نام سوچتا رہا۔ ایک بار میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ہم پشتون جب بھی کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس میں ہمارا کوئی ذاتی مقصد اور غرض نہ ہو تو ہم اُسے خدائی کام کہتے ہیں تو کیوں نہ ہم اپنی اس تنظیم کا نام بھی ”خدائی خدمتگار” رکھ دیں” اور یوں قوم کو جنگ آزادی کے کارواں میں عدم تشدد کا علمبردار پشتون قافلہ مل سکا۔


باچا خان اور اُن کے خدائی خدمتگار ساتھیوں نے عدم تشدد، جدوجہد، سادگی اور ایمانداری کے ہتھیار سے جنگ آزادی لڑی اور تاریخ کی گود میں سرخرو ہوئے۔ انگریز نے اپنی ہر ممکن کوشش کی کہ باچا خان اور اُن کے ساتھیوں کو تشدد پر آمادہ کر دیں، مگر وہ اپنی اس مذموم کوشش میں کبھی بھی کامیاب نہ ہوئے۔ باچا خان نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی عدم تشدد اور اصول پسندی کو اپنا شعار بنایا اور جیل سے باہر پشتونوں کے حجروں، مسجدوں اور گلی کوچوں میں بھی نہاہت ثابت قدمی کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ جب باچا خان نے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں عدم تشدد، سادگی اور محبت کا پیغام دیا تو اس ملک کے جاگیردار طبقہ نے سوچا کہ اگر یہ شخص پنجاب آیا تو سب غریب لوگ اس کے گرویدہ ہو جائیں گے اس لئے اپنے مذموم مقاصد کی خاطر انہوں نے اُس عظیم انسان کو پنجاب میں داخل ہونے نہیں دیا اور یوں ملک کو امن و آشتی کا بیانیہ نہ مل سکا۔


آج جو لوگ تشدد اور جنگ پرستی کی بات کرتے ہیں ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ تشدد تو ایک ذہنی اور نفسیاتی بیماری ہے۔ انسان تو بات کرتے ہیں، مکالمہ اور گفتگو کر کے اپنے تنازعات اور مسائل حل کرتے ہیں۔ جانور مکالمہ نہیں کر سکتے، اُن کے منہ میں کلو بھر زبان ہوتی ہے مگر ہم اُن کو ”بے زبان” اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی زبان سے مکالمہ نہیں کر سکتے اور ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ ”انسانان خبرہ پہ خبرو خلاصوی” اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تنازعات کا حل بات چیت اور مکالمے سے نکالتے ہیں جانوروں کی طرح سینگ لڑا کر نہیں۔


باچا خان نے قوم کو اجتماعی زندگی گزارنے کیلئے ایک نیا بیانیہ دیا وہ بیانیہ امن کا بیانیہ ہے۔ وہ بیانیہ خدمت خلق اور انسان دوستی کا بیانیہ ہے اور وہ بیانیہ ہے حقیقی ترقی کا بیانیہ۔ انسانی تاریخ میں ایسے باعمل، باکردار اور بے مثال مصلحین بہت کم کم پیدا ہوئے ہیں۔ ہم لوگ خوش قسمت ہیں کہ ہم اُس عظیم مصلح کے پیروکار ہیں جو کہ حقیقی معنوں میں سیرت النبیۖ کا عملی نمونہ اور پیروکار تھے۔

انہوں نے ایک حکیم کیحیثیت سے قوم کے نبض پر ہاتھ رکھ کر مرض کی تشخیص اور ایک ماہر طبیب کی حیثیت سے دوا تجویز کی۔ باچا خان کے اس وقت کے ہم عمر نوجوان بھی کہا کرتے تھے کہ انہوںنے کبھی بچپن اور لڑکپن میں بھی تشدد نہیں کیا اور نہ ہی کسی ہم عمر دوست سے کسی بات پر لڑے، کیونکہ ان کی فطرت میں محبت اور عدم تشدد اور جہالت کا علاج علم کی روشنی تھی۔ اور یوں 1921ء میں آزاد ہائی سکول اتمانزئی کے قیام سے لے کر 1930ء تک انہوں نے صوبے کے کونے کونے میں اپنے ساتھی حاجی صاحب ترنگزئی کی مدد سے متعدد مدارس قائم کئے۔ یہ سلسلہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ صوبے میں آزاد اسلامی مدارس کی تعداد 134 تک پہنچ گئی جس میں چھ ہزار سے زیادہ رضاکار اساتذہ مفت درس دیا کرتے تھے اور فخر افغان نے بیٹوں کو بھی آزاد سکول اتمانزئی میں داخل کیا۔ جہاں قادر تانگے وال کا بیٹا بھی اُن کے بچوں کے ساتھ پڑھا کرتا تھا۔

باچا خان اور اُن کے خدائی خدمتگار ساتھیوں نے عدم تشدد، جدوجہد، سادگی اور ایمانداری کے ہتھیار سے جنگ آزادی لڑی اور تاریخ کی گود میں سرخرو ہوئے۔ انگریز نے اپنی ہر ممکن کوشش کی کہ باچا خان اور اُن کے ساتھیوں کو تشدد پر آمادہ کر دیں، مگر وہ اپنی اس مذموم کوشش میں کبھی بھی کامیاب نہ ہوئے۔ باچا خان نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی عدم تشدد اور اصول پسندی کو اپنا شعار بنایا اور جیل سے باہر پشتونوں کے حجروں، مسجدوں اور گلی کوچوں میں بھی نہاہت ثابت قدمی کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ جب باچا خان نے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں عدم تشدد، سادگی اور محبت کا پیغام دیا تو اس ملک کے جاگیردار طبقہ نے سوچا کہ اگر یہ شخص پنجاب آیا تو سب غریب لوگ اس کے گرویدہ ہو جائیں گے اس لئے اپنے مذموم مقاصد کی خاطر انہوں نے اُس عظیم انسان کو پنجاب میں داخل ہونے نہیں دیا اور یوں ملک کو امن و آشتی کا بیانیہ نہ مل سکا۔

یہ بھی پڑھیں

”انجمن اصلاح الافاغنہ“ پہلی پختون اصلاحی اور تعلیمی تحریک

باچاخان ریسرچ سنٹر خان عبدالغفار خان یعنی باچا خان جس دور میں پیدا ہوئے اْس …