ایک قوم ایک نصاب

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ تعلیم کسی بھی شخص کی زندگی بنانے، اسے شعور عطا کرنے اور انسانی ترقی کی پہلی کڑی شمار ہوتی ہے۔ تعلیم کی مثال ایسی ہے جیسے جسم میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت ہوتی ہے یا پھر بالکل اسی طرح جس طرح جسم میں روح کی اہمیت ہوتی ہے۔ یہ بات بھی ہم بار بار سنتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں، وہ چاہے کسی شخص کی ہو یا ملک اور قوم کی جبکہ جن اقوام نے تعلیم کو ترقی کا راستہ بنایا ان کا تسلط آج بھی دنیا پر قائم ہے۔ بات اگر اس وقت تعلیم کے ذریعے تبدیلی سے کی جائے تو دنیا کے طاقتور ممالک کو مثال بنایا جا سکتا ہے۔

امریکہ، چین اور روس کا آپس میں مقابلہ صرف علم کی بدولت ہے ورنہ وہ ہم جیسے انسان ہی تو ہیں مگر انہوں نے تعلیم پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی ذلت آمیز شکست کے بعد بھی جاپانیوں نے امریکیوں سے عاجزانہ استدعا کی کہ وہ ان کے تعلیمی اداروں کو ٹارگٹ نہ بنائے۔ آج جاپان ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ چین تو اپنی تعلیم کی وجہ سے ٹیکنالوجی کو آسمان پر لے جانے والا ملک ہے، اس کا تو مقابلہ ہی نہیں اور اگر ہم ایک اور زاویے سے سوچیں تو بات ذرا مزید آسان ہو جائے گی۔

آج سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے یا پھر مصنوعی ذہانت کا جس میں ترقی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے مگر تیسری دنیا کے تمام ممالک اور بالخصوص پاکستان کے اندر تعلیمی رحجانات پر مشتمل کامیابی حاصل کرنے میں ہم مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں کیونکہ تعلیم کے میدان میں ہم نے آٹھ پالیسیاں دیں مگر ایک بھی نتیجہ خاز یا ثمربار ثابت نہیں ہوئی اس لئے ہمیں سوچنا ہو گا کہ تعلیم کی دوڑ میں ہم پوری دنیا سے پیچھے کیوں ہیں؟ یا پھر یہ کہ دنیا کے 149 ممالک کے جائزے میں ہم 147 نمبر پر کیوں ہیں؟ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں خواندگی کے تناسب سے حساب نہیں لگایا جاتا نہ انگوٹھا چاپ انسان کے دستخط سیکھنے کو تعلیم یافتہ کہا جاتا ہے بلکہ اسے خواندہ کہتے ہیں جبکہ تعلیم کے پیمانے ریسرچ، ویژن، استعداد اور جدید علوم سے اشنا ہونے کے ہیں۔

ہمارے ہاں تعلیم پر بحث اس لئے نہیں ہوتی کہ اعلی عہدیداروں کے بچے یورپ میں پڑھتے ہیں، وہ یہاں صرف حکومت کرنے آتے ہیں بس، اٹھارہویں ترمیم سے پہلے تعلیم ایک فیڈرل سبجیکٹ تھا اب صوبوں کے اندر اپنی مرضی سے اس کے لئے طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے۔ دس سال گذرنے کے بعد بھی ہم تعلیم کو سمت نہیں دے سکے۔ یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ آج تک ہم یہ فیصلہ بھی نہیںکر سکے کہ ہمارے اس ملک کے اندر ذریعہ تعلیم انگریزی میں ہو گا یا اردو میں، کہنے کو تو ہم اور ہمارے لیڈرز لارڈ میکالے کی تعلیم کو گالیاں دیتے ہیں مگر خود اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کیلئے امریکہ، بر طانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی یونیورسٹیوں میں بھیجنے کو فخر اور عزت سمجھتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے بچے اس ملک کے اعلی عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں اور غریب کے بچے سرکاری سکولوں میں ایڑیاں رگڑتے ہوئے چوکیدار اور چپڑاسی بنتے ہیں۔

تعلیم میں اس تفاوت نے غریبوں کو تقسیم کیا اور انہیں محرومی کا شکار بنایا لیکن ان کی بات کون سنے گا؟ تعلیم کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد یہ گنجائش بھی ختم ہوئی کہ ہم ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا فن تو سیکھیں۔ ہمارے مدارس میں سب سے زیادہ بچے پڑھتے ہیں مگر ہم ان کیلئے کوئی نصاب نہیں بنا سکے، انہیں جدید تعلیم سے دور رکھ کر ہم اپنے ملک اور قوم کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ پس مذہبی جماعتوں نے ان کو اپنے نام کو زندہ رکھنے کیلئے ان کا استحصال کب سے شروع کیا؟ اس طرح طرح انگریزی تعلیم حاصل کرنے والے قرآن مجید اور احادیث کے علم سے بہرہ ور نہیں ہوسکے۔

ہم عقیدے کے لحاظ سے ایک بہت بڑے gap کو cover نہیں کر سکے پس مرنے کے بعد ہماری یہ ڈگریاں کسی کام کی نہیں مگر ان دونوں گروپس کے درمیان مذہبی حسد، بغض اور نفرت نے ڈیرے ڈال دیے۔ ایک کو مذہبی لوگ اور دوسرے طبقے کو لبرل اپنے مفادات کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ ہم ان کیلئے ایک نصاب بنانے سے قاصر رہے باقی کمی A اور O لیول نے پوری کر دی کہ وہ برطانیہ کے نظام تعلیم سے مستقبل کے جوانوں کا ایک کھیپ تیار کرنے پر تل گئے جو یہاں ان کے مفادات کیلئے کام کریں گے۔ چونکہ تعلیم ایک انٹرنیشنل سبجیکٹ ہے مگر اس پر کام کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ دنیا بھر سے تعلیم کی مد میں کام کرنے والوں کی learning experiences اور exposure کو شیئر کریں، دنیا کی best education practices کو ہمارے نصاب کا حصہ بنائیں مگر اس عمل میں وہ اپنے تشخص کو مسخ تو نہ کریں۔ ہمارا نصاب آئینہ دار ہونا چاہیے ہمارے مستقبل کیلئے معماران قوم کو تیار کرنے کیلئے اس لئے اس کے اندر وقت، حالات، عمر، تاریخ اور مستقبل کے چیلنجز کو سامنا کرنے کیلئے بچوں کو تیار کرنا چاہیے۔

صرف نمبر حاصل کرنے سے کچھ نہیں ہوگا جو خود بھی ہمارے منہ پر کسی طمانچے سے کم نہیں کہ ایک بچہ میٹرک میں 1100 میں 1098 نمبر لیتا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں جو اس ملک کی تعلیم کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ بدقسمتی سے ہمارے نصاب میں بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے کوئی میکنزم موجود نہیں نہ پرائیوٹ اور نہ سرکاری سطح پر، تعلیم بامقصد ہونی چاہیے کہ وہ بچوں کو کامیاب زندگی گزارنے کیلئے تیار کرے۔ دنیا تو خیر اس وقت نصاب سے ہٹ کر بچوں کی ذہنی، اخلاقی، جسمانی، زبان اور جذباتی کیفیت کو سامنے رکھ کر تعلیم دینے کا سوچ رہی ہے۔ جاپان میں اب سکولز open environmentمیں ہوں گے، سکول کے اندر قدرتی ماحول ہو گا، بچوں کو وہ پڑھایا جائے گا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں جس سے انہیں ماحول کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

ہمیں یقیناً ایسا نظام تعلیم چاہیے جس میں ہمار اماضی مستقبل کا آئینہ دار ہو صرف ہمیں اپنے مذہب، تاریخ اور ثقافت پر فخر نہیں دنیا کا ہر ملک اپنی قوم اور ملک کی آزادی اور قربانی کی بات کرتا ہے۔ اس طرح پوری دنیا تعلیم کے اندر اپنے بچوں کی علمی اسطاعت بڑھانے کے ساتھ ساتھ انہیں انسانیت، قربانی اور مشاہیر کی پیروی کرنے کا درس دیتی ہے۔ آج کل فن لینڈ، ناروے، جاپان اگر تعلیمی میدان میں لیڈ کر رہے ہیں تو وجہ؟ اگر تعلیم سے مستفید ہونے والے مما لک ٹیکنالوجی کے میدان میں سرفہرست ہیں تو وجہ؟ جاپان میں grade 4 تک بچے سے امتحان نہیں لیا جاتا بلکہ اسے social manners اور اخلاق یعنی ethics سکھائے جاتے ہیں، انہیں صفائی کرنے کا طریقہ سمجھایا جاتا ہے چاہے وہ اپنا ہو یا پھر ماحول کا، ہمارے ہاں پچھلے دنوں صوبہ پنجاب نے 20 ٹن گند اٹھانے کیلئے تیس کروڑ کا بجٹ منظور کیا، ہمارے گھر کے باہر کوڑا کرکٹ بیشک مکھیوں اور مچھروں کا مچھلی بازار ہو مگر ہم نے گند گلی میں پھینکنا ہے کیوں؟

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے اس اعلان کے بعد تعلیم کے ساتھ جڑے ہوئے ان سب لوگوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اگلے سال سے پرائمری تعلیم کا نصاب ایک ہو جائے گا اس طرح 2022میں مڈل اور 2023 میں ہائی کلاسز کا نصاب مارکیٹ میں آ جائے گا۔ اب2021 کا سیشن شروع ہونے کو ہے لہٰذا نصاب اگلے مہینے سے مارکیٹ میں آنا چاہیے جس کیلئے حکومت کا واضح طریقہ کار شروع ہو چکا ہے۔ ایم ایم اے کی حکومت سے شروع ہونے والا مفت کتابوں کا طریقہ کار ابھی تک جاری ہے تاہم اے این پی کے دور حکومت میں ”ستوری دہ پختون خواہ پروگرام” اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سمیت دیگر مانیٹرنگ آفیسرز کی بھرتی نے تعلیم کو وسعت دی۔

اس طرح تحریک انصاف کی پچھلی حکومت نے نصاب کو ایک کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اب کہیں جا کر اسے عملی شکل دی جا رہی ہے۔ اس میں وقت، وسائل کے استعمال کے ساتھ ساتھ vision کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ دنیا کے نصاب کو سامنے رکھ کر اس سے سیکھا جاتا ہے۔ تعلیم کو دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ اس طرح کلاس روم منیجمنٹ اور سکول منیجمنٹ کو سمجھنا ضروری ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے NGOs اور INGOs نے اساتذہ کی تربیت کی بات کی، Monitoring and Supervision پر ٹریننگ دی لیکن دو سال تین سال کے بعد ملک چھوڑنے کے بعد اس کا فالو اپ نہیں کر سکیں اس لئے کوئی sustainable عمل کرنا چاہیے۔ ہمارا تعلیمی بجٹ صرف دو فیصد ہے مگر وہ ہمیشہ underspent رہتا ہے کیونکہ اس کے استعمال کرنے کا طریقہ کسی کے پاس نہیں۔ ہم نے PTC یعنی پیرنٹس ٹیچرز کونسل پر کتنی ٹرینینگ دی لیکن اس کا حاصل کیا ہے؟ ہر بار کمیٹی کے چیئرمین کو بلا کر اس سے سادہ کاغذ پر دستخط لئے جاتے ہیں، اس بیچارے کو نہ پتہ ہوتا ہے اور نہ اس کی کوئی دلچسپی، خدا خدا کر کے اگر اب نصاب تیار ہوا ہے تو اس کو بروقت اور ملک، قوم اور مذہب کے منافی ہونے کے بجائے جاندار اور قومی امنگوں کا آئینہ دار ہونا چاہیے، یہی ہماری دعا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کوا، چڑیا اور میدانِ سیاست کے شاہین

تحریر: سلطان خان ٹکر ضمنی انتخابات کے بعد اپوزیشن پراعتماد سی لگتی ہے اور یہ …