سوشل میڈیا کی تاریخ، مختصر جائزہ ۔۔۔ محمد ریاض

بیسوی صدی میں ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت تیزی سے تبدیلیا ں آئیں۔ پہلا سپر کمپیوٹر وجود میں آ نے کے بعد سے سائنسدان اور انجینئرز نے مختلف کمپیوٹرز کو آپس میں منسلک کرنے کی خاطر نیٹ ورکس بنانے کے طریقے ایجاد کرنا شروع کردیئے۔ان تجربات کا نتیجہ آخر کار انٹرنیٹ کے وجود کی صورت سامنے آیا۔ 1960ء کی دہائی میں انٹرنیٹ کی ابتدائی شکل CompuServe کی صورت میں وجود میں آئی۔1970ء کی دہائی میں نیٹ ورکنگ ٹیکنالوجی میں مزید ترقی ہوئی۔ 1979 میں UseNet ٹیکنالوجی نے virtual newsletter کے ذریعہ سے لوگوں کو آپس میں بات چیت کے لئے روابط قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ 1980ء کی دہائی میں گھریلو استعمال یعنی personal computer عام ہوجانے کے بعد social media یا سماجی روابط مزید نفیس اور جدت کے ساتھ وجود میں آئے۔Internet Relay Chats or IRCSکا استعمال پہلی مرتبہ 1988ء میں ہوا اور 1990ء دہائی تک بہت ہی زیادہ استعمال میں رہا۔ای میل کے وجود نے دنیا کے مختلف علاقوں میں رہنے والے کروڑوں افراد کے درمیان رابطوں کو بہت ہی زیادہ آسان اور انتہائی سستا بنایا۔ ای میل میں Attachment کے آپشن نے بہت سا مواد ایک صارف سے دوسرے صارف تک آسانی سے پہچانے میں اپناکلیدی کردار ادا کیا۔سوشل میڈیا کی سب سے پہلی اور قابل شناخت ویب سائٹ Six Degrees تھی جسکو کو 1997ء میں بنایا گیا۔
یہ ویب سائٹ اپنے صارف کو اپنا پروفائل بنانے کا موقع فراہم کرتی تھی اور ساتھ ہی ساتھ دوسرے صارفین کے ساتھ دوستی کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی تھی۔بیسویں صدی کے آخر میں بننے والی بلاگنگ ویب سائٹس نے سوشل میڈیا کی دنیا میں اک نئی روح پھونک دی جسکے اثرات آج تک قائم دائم ہیں۔ MySpace اور LinkedIn جیسی ویب سائٹس نے اکیسوی صدی کے آغاز میں بہت زیادہ شہرت اور نام کمایا۔Photobucket اور Flickr ویب سائٹس نے اپنے صارف کو آن لائن فوٹو شئیر کرنے کی سہولت مہیا کی۔
2005 میں Youtube کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا میں نئی جہتوں کا آغاز ہوا۔ Youtube نے دنیا جہاں میں بسنے والے کروڑوں صارفین کو آپس میں روابط قائم کرنے اور معلومات کو دوسرے صارفین تک رسائی کو بہت زیادہ سہل بنانے کے ساتھ ساتھ نت نئے رجحانات متعارف کرائے۔2004ء میں Facebook اور 2006ء میں Twitter کے وجود کے آنے کے دنیا جہاں کے لوگوں کے لئے آپس میں روابط قائم کرنا اتنا آسان ہوچکا ہے۔ Facebook کے صارفین کے تعداد اس وقت 2.5 ارب کے قریب ہے۔اور صارفین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔اس وقت دنیا کی سب سے معروف اور ہردلعزیز سوشل میڈیا ویب سائٹ Facebook ہی ہے۔اس ویب سائٹ کے ذریعہ سے اک صارف اپنا پیغام بغیر کسی رنگ و نسل اور علاقائی اور ملکی حدود کی رکاوٹ کے کسی بھی وقت پہنچا سکتا ہے۔Facebook کے ذریعہ سے اک صارف براہ راست یعنی online ویڈیو پیغام بھی دوسرے صارفین تک پہنچا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا میں Faceook اور Twitter کے بعد اس وقت سب سے زیادہ مقبول What’sapp ہے جسکے صارفین کی تعداد تقریبا 1.5 ارب سے زیادہ ہوچکی ہے۔سوشل میڈیا اسوقت دنیا کا سب سے زیادہ مضبوط اور برق رفتارمیڈیا جانا اور مانا جاتا ہے۔سوشل میڈیا نے زندگی کے ہر شعبہ کے افراد کو آسانیاں مہیاکی ہیں۔ چاہے وہ انڈسٹری ہو یا زراعت، آفس ہو یا پھر فیلڈ کی جاب، ٹیچر ہو یا پھر اک طالبعلم، سرکاری معاملات ہوں، کاروباری معاملات ہوں یا پھر ذاتی زندگی کے معاملات، سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔
a

یہ بھی پڑھیں

”باچا خان شتہ، د قیوم خان خو سہ درک نہ لگی“ ۔۔۔ فیاض الدین

یہ تو ان کی خوش قسمتی تھی کہ گولیاں ختم ہوگئیں، ہم نے کسی کو …

%d bloggers like this: