جمہوریت اور بااختیار خواتین


تحریر: عزیز بسمل

ہمارے سماج میں خواتین گوں نا گوں مسائل کا شکار ہیں جن میں تشدد سب سے زیادہ اور سب سے نمایاں مسئلہ ہے۔ اس میں تشدد کی تمام اقسام شامل ہیں جن میں گھریلو تشدد، معاشی تشدد، جسمانی تشدد اور ذہنی اور نفسیاتی تشدد کے علاوہ خاص طور پر ریاستی تشدد اور سیاسی تشدد نمایاں ہیں۔ آئیے اس آخر ی نکتے پر غورکرتے ہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مملکت خداداد پاکستان میں خواتین کی تعداد52 فیصد ہے یعنی نصف سے زیادہ آبادی ہونے کے باوجود سیاسی عمل میں ان کی شراکت بہت کم ہے۔ خواتین بحیثیت ووٹر، بحیثیت سیاسی ورکر، بحیثیت نمائندہ، بحیثیت پارٹی ورکر، بحیثیت انتخابی عملہ، بحیثیت انتخابی ایجنٹ، بحیثیت بلدیاتی نمائندہ، بحیثیت ممبر صوبائی اسمبلی اور بحیثیت ممبر قومی اسمبلی بہت سارے مسائل، مشکلات اور تشدد کا شکار ہیں۔ کیا یہ مضحکہ خیز بات نہیں آج اس جدید اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی تقریباً12 ملین خواتین کا ووٹ رجسٹر ہی نہیں؟ یعنی وہ ووٹ جیسے بنیادی حق سے بھی محروم ہیں اور سیاسی عمل میں شرکت سے باہر ہیں جس کی بڑی وجہ شناختی کارڈ کا نہ ہونا ہے۔ شناختی کارڈ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سرکاری طور پر پاکستان کی شہری ہی نہیں ہیں۔

سیاسی جماعتوں میں کلیدی عہدوں پر بھی خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ آپ کسی بھی سیاسی جماعت کی وارڈ اور یونین کونسل کی سطح سے لے کر مرکزی سطح تک کابینائیں دیکھ لیں ان میں آپ کو کسی بھی اہم عہدے پر کوئی خاتون نظر نہیں آئے گی جیسے صدر یا چیئرمین، جنرل سیکرٹری یا انفارمیشن سیکرٹری، اب چاہیے تو یہ تھا کہ ہر سیاسی جماعت کی اگر کسی بھی سطح کی کابینہ ہے اور وہ کابینہ پندرہ ارکان پر مشتمل ہے تو منطقی طور پر ان میں سات عہدوں پر خواتین ہونے چاہئے تھیں مثلاً صدر مرد تو سینئر نائب صدر خاتون یا جنرل سیکرٹری خاتون۔ اگر سات نہیں تو پانچ عہدے تو خواتین کو جانے چاہئیں مگر سیاسی تنظیموں میں پندرہ میں سے ایک عہدہ بھی خواتین کے لئے نہیں ہوتا۔ جب سیاسی جماعتیں خواتین کو اہمیت نہیں دیتیں تو حکومت یا کسی اور سے کیا گلہ؟ مذہبی جماعتوں سے تو خیر شکایت ہی فضول ہے ہمارے ہاں تو مین سٹریم جماعتیں، لبرل اور جمہوری کہلوانے والی بڑی جماعتیں بھی خواتین کو یہ حق دینے میں کافی پیچھے ہیں۔ سیاسی جماعتیں خواتین کو صرف نعرہ بازیوں، اپنے جلسے جلوس کو کامیاب کرانے اور احتجاجی مظاہروں میں خود لاٹھی چارج اور آنسو گیس سے بچانے کے لئے بطور ڈھال استعمال کرتی ہیں اور یا زیادہ سے زیادہ ان الیکشن والے دن گھروں سے نکال کر ان سے ووٹ بٹورے جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پارلیمنٹ اور حکومت میں بھی خواتین کی تعداد آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے۔ اور جو خواتین شامل بھی ہیں تو وہ محض شو پیس کے طور پر ہیں اور فیصلہ سازی اور اہم حکومتی امور میں ان کو شامل نہیں کیا جاتا۔ اس طرح جو خواتین ہمت کر کے سیاسی عمل میں شامل ہونا چاہتی ہیں ان پر طرح طرح کے الزامات لگا کر ان کی کردار کشی کی جاتی ہے، ان کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور انہیں سیاسی عمل سے دور رکھنے کی شعوری کوششیں کی جاتی ہیں۔ انہیں اپنی سیاسی کمپین چلانے سے روکا جاتا ہے۔ کوئی ان کا ساتھ دینا چاہے تو اس پر طرح طرح کے الزامات لگا کر اس کو ان کی حمایت سے بددل کیا جاتا ہے۔

اسی طرح آج ہمارے سماج میں خواتین معاشی طور پر بھی بہت کمزور اور پسماندہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو معاشی طور پر مضبوط اور خود مختار بنایا جائے۔ اگر خواتین معاشی طور پر مستحکم ہوں گی تو وہ پر اعتماد ہوں گی اور پراعتماد طریقے سے کام کر سکیں گی۔ یہ روداد ہے اس پیپلز اسمبلی کی جو سیف پاکستان اور عورت فاونڈیشن کے تعاون سے جذبہ پروگرام کے تحت مردان کے ایک بڑے ہال میں منعقد ہوئی۔ لوگوں کی دلچسپی کا یہ حال تھاکہ ہال کچا کچ بھرا تھا اور جس میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، سماجی تنظیموں کے نمائندوں، وکلا برادری، تاجر تنظیموں، صحافیوں، بلدیاتی اداروں کے سابق منتخب نمائندوں کے علاوہ خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کے دوران سیاسی عمل میں بہتر کارکردگی دکھانے والے مرد و خواتین کو شیلڈز اور ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے عہد کیا کہ ھم اپنی اپنی جماعتوں میں خواتین کے سیاسی عمل میں موثر کردار کے لیے اپنے طور پر آواز اٹھائیں گے۔ مقررین میں پاکستان تحریک انصاف کی خاتون ایم پی اے ساجدہ حنیف، اے این پی سے تعلق رکھنے والی ایم پی اے شاہدہ بی بی، سابق ضلع ناظم مردان و سابق ممبر قومی اسمبلی حمایت مایار، سابق تحصیل ناظم و تاجر رہنماء احسان باچہ، جماعت اسلامی کے ابراہیم بلند، سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل نصرت نعیم، وکلا برادری سے کفایت ایڈوکیٹ اور یوسف شاہ اریانی ایڈوکیٹ نے اظہار خیال کیا۔ درج بالا سوچ و خیالات سے اتفاق یا اختلاف کا حق ہر فرد کو حاصل ہے پر ہمارے نزدیک تمام مطالبات حق اور وقت کی آواز ہیں۔

رہنماءPFAP اور جاپان ٹرسٹ فنڈ کے مطابق ہمارے معاشرے گھریلو تشدد کی بڑی اور اہم وجہ خواتین کا معاشی طور پر کمزور ہونا ہے۔ اگر خواتین معاشی طور پر خود مختار ہوں گی تو گھر میں ان کی عزت بھی ہو گی، وہ نین سکھ اور دلاری کہلائیں گی پر یہ تب ممکن ہو گا کہ خواتین کے لئے اسمبلیوں میں کوئی موثر آواز اٹھائے۔ اور آواز آٹھانے کے لئے اسمبلیوں میں خواتین کا معقول تعداد میں ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ فیصلے تو انہی ایوانوں میں ہوتے ہیں اس لئے تشدد سے پاک معاشرے کے لئے خواتین کا سیاست میں آنا وقت کی آواز ہے۔ معاشرے کے لئے خواتین کا سیاست میں آنا وقت کی آواز ہے۔

یہ بھی پڑھیں

تعصب نہیں انصاف چاہئے

تحریر: مظفر خان پشتین تاریخ گواہ ہے کہ گروہ بندی، فرقہ بندی اور تعصب کو …